انڈین پریمئیر لیگ کو مختصر کرنے کا مطالبہ زور پکڑ گیا

6 اپریل 2020 (36 : 12 PM)   
(      )

یو این آئی
ممبئی// کھیلوں کے اہم ترین مقابلے انڈین پریمیئر لیگ (ائی پی ایل) کو مختصر کرنے اور اسے تماشائیوں کی شرکت کے بغیر کرانے کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔آئی پی ایل کے حوالے سے ملکی کھلاڑیوں کے ساتھ ساتھ غیر ملکی کھلاڑی بھی اس حق میں ہیں کہ اسے مختصر کرکے رواں سال کے آخر میں منعقد کرایا جائے۔ان کھلاڑیوں میں انگلینڈ کے سابق بلے باز کیون پیٹرسن، بین اسٹوکس اور کمنس، بھارت کے سابق کرکٹر سنجے منجریکر یہاں تک کہ بورڈ آف کرکٹ کنٹرول ان انڈیا (بی سی سی آئی) کے صدر سورو گنگولی بھی اس حق میں ہیں کہ لیگ کو مختصر کر دیا جائے تو رواں سال ہی اس کا انعقاد ممکن ہے۔کھلاڑیوں نے کرکٹ حکام پر زور دیا ہے کہ وہ سال کے آخر میں ایک ٹی ٹوئنٹی انڈین پریمیئر لیگ کے انعقاد کی منصوبہ بندی کریں تاکہ طویل لاک ڈاؤن کے بعد کھیلوں سے متعلق سرگرمیاں بحال ہو سکیں اور اس کے کھیلوں کی معیشت پر اچھے اثرات مرتب ہو سکیں۔فرانس کی خبر ایجنسی 'اے ایف پی' کے مطابق دنیا کے مہنگے ترین کرکٹ مقابلوں میں سے ایک 'انڈین پریمیئر لیگ' کو فی الحال 15 اپریل تک ملتوی کیا گیا ہے۔ التوا کی وجہ وہاں جاری 21 روزہ لاک ڈاؤن ہے۔تاہم بعض افراد کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس سے بھارت میں بڑھتی اموات کی تعداد اور بین الاقوامی پروازوں کی بندش کے سبب کم از کم تین مہینے تک کھیل کا کوئی بھی ایونٹ ممکن نہیں۔انگلینڈ کے سابق بیٹسمین کیون پیٹرسن کا کہنا ہے کہ 'کھیلوں کی سرگرمیوں کو جولائی اگست سے پہلے بحال کرنا ممکن نہیں۔پیٹرسن نے مشورہ دیا کہ 8 ٹیموں کے ٹورنامنٹ کو معمول کے مطابق 8 ہفتوں سے کم کر دیا جائے جب کہ تمام میچز بند دروازں کے پیچھے یعنی تماشائیوں کے بغیر کھیلے جائیں۔پیٹرسن کا مزید کہنا تھا کہ ایک ایسا طریقہ کار اختیار کیا جائے جس سے فرنچائزز کو بھی کچھ رقم دے دی جائے جب کہ کھلاڑی بھی تین یا چار ہفتوں کے اندر، اندر ٹورنامنٹ کھیل سکتے ہیں۔پیٹرسن کا یہ بھی کہنا تھا کہ تماشائیوں کو سمجھ لینا چاہیے کہ وہ فی الحال کئی ماہ تک کھیلوں کا کوئی لائیو ایونٹ نہیں دیکھ سکیں گے۔'اے ایف پی' کے مطابق بھارتی کرکٹ بورڈ کی آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ آئی پی ایل ہے جس سے بھارتی معیشت کو سالانہ 11 ارب ڈالرز کی خطیر رقم حاصل ہوتی ہے۔
 

تازہ ترین