کورونا سے مقابلہ کیلئے سماجی دوریاں لازمی

۔60اعلیٰ مسلمان افسروں کی سختی سے عمل کرنے کی اپیل

6 اپریل 2020 (26 : 02 AM)   
(      )

یو این آئی
نئی دہلی// سینئرمسلمان نوکر شاہوں اور پولیس حکام جوزمینی سطح پر کروناوائرس کی عالمگیر وباء کے پھیلائوکی روکتھام اور اس مرض میں مبتلاء مریضوں کے علاج کیلئے انتھک کام کررہے ہیں ،نے ملک کے مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ حکا م کے ساتھ تعاون کرکے اس بیماری کو روکنے میں مددکریں۔ملک کی مختلف ریاستوں میں مختلف عہدوں پر فائز 60  نوکرشاہوں نے ایک اپیل جاری کرکے کہا کہ گزشتہ کچھ دنوں سے سماج میں ایک پیغام جا رہا ہے کہ ہندوستان میں مسلمان گروپ سماجی فاصلے اور وبا کے پھیلاؤ کا مقابلہ کرنے کے لئے عمومی اقدامات پرعمل نہیں کر رہے ہیں۔ کچھ بے چین کر دینے والے ویڈیو سامنے آ رہے ہے جس میں مسلم فرقہ کے مرد صحت کے کارکنوں پر پتھراؤ کرتے ہوئے اور قانون نافذ کرنے والے پولیس اہلکاروں کے ساتھ بھی محاذ آرائی کرتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں. کچھ ویڈیو میں پولیس اہلکار مسجد میں نماز پڑھنے پر بضد لوگوں پر لاٹھیاں برساتے ہوئے نظر آ رہیں ہے۔انہوں نے لوگوں سے ذمہ داری سے کام کرنے کی اپیل کی تاکہ کورونا وائرس کے خلاف جنگ میں ساتھی شہریوں کی مدد کے لئے ایک مثال بن کر کھڑے رہیں۔ عوامی صحت کے ماہرین اورحکومتوں کی رہنمائی پر عمل کرنا چاہئے ۔انہوں نے کہا کہ اسلامی اصولوں کے مطابق بھی اپنے آپ کو وائرس سے متاثر کرنا ایک ظلم ہے۔ خودکشی اور لاپرواہی کی وجہ سے خطرہ مول لینا اور بیمار ہو جانا حرام ہے ، اتفاق سے یہ وائرس اس شخص کے جسم تک محدود نہیں رہتا ہے جس نے اپنی حماقت سے خود میں اس کو بلایا بلکہ یہ خاندان اور معاشرے میں تیزی سے آگے بڑھتا جاتا ہے ، اور معصوموں کے لئے اموات لاتا ہے۔اپیل کے مطابق قرآن کہتا ہے کہ اگر کوئی ایک معصوم انسان کو مار دیتا ہے ، تو ایسا تصور کیا جائے گا جیسے اس نے پوری انسانیت کو مارنے کا کا م کیا ہو اور جو بھی ایک کی جان بچاتا ہے ، وہ ایسا ہے جیسے اس نے تمام بنی نوع انسان کی زندگی بچا لی ہو۔ پیغمبر اسلام ؐکی بہت سی احادیث ہیں جو ہمیں وبا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے اقدامات کرنے اور خود کو بچانے کی ہدایت دیتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ وبا ء کا دور ختم ہوتے ہی اور عام زندگی بحال ہونے کے بعد مسلمان دوبارہ مساجد میں اجتماعی طور پر نماز اداکرسکتے ہیں۔ عارضی طور پر بیماری کو پھیلنے سے روکنے کے لئے مسجد میں جانے سے پرہیز کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مسجد کو ہمیشہ کے لئے بند کر دیا گیا ہے جیسا کہ بہت سے لوگ ایسا سمجھ رہے ہیں۔. سماجی فاصلہ بنائے رکھتے ہوئے گھر میں بھی نماز اداکی جاسکتی ہے۔آپ کا اور ہمارا ذمہ دارانہ رویہ، شخصیت، اپنے گھر خاندان اورملک کو اس تباہی سے بچانے میں مدد ملے گی۔انہوں نے کہا کہ بحران کی اس گھڑی میں مسلم فرقہ کو عام طور پر آگے آنا چاہئے اور وبا کے خلاف اس جنگ میں حکومت ہند اور ریاستی حکومتوں کے ہاتھوں کو مضبوط کرنا چاہئے اوران کی ہدایات پر ایمانداری سے عمل کرنا چاہئے تاکہ کورونا وائرس وبا سے محفوظ رہ کر لڑا جا سکے۔ کووڈ -19 عالمی وباء  ملک اورانسانیت کے لئے ایک بڑا چیلنج ہے۔ ہم اسے کنٹرول میں رکھنے کے لئے سخت جدوجہد کر رہے ہیں۔
 

تازہ ترین