تازہ ترین

’ گنگ‘

افسانچہ

5 اپریل 2020 (00 : 01 AM)   
(      )

زبیر قریشی
’’باہر نظرماریئے محلہ کمیٹی والے شاید کوئی مدد کریں ‘‘
بیوی کا یہ جملہ سنتے ہی اس کی بے چینی میں مزید اضافہ ہو گیا۔  
گلی سے ہوتے ہوئے شاہراہ اور شاہراہ سے واپس گھر کے کئی چکر لگانے پر بھی جب کوئی سبب نہ بنا تو گل محمد کی ہمت نے جواب دے دیا۔
اسی محلے کی ایک چھت سے توجہ کا مرکز بناگل محمد جب اب کی بار باہر نہ آیا  تو تھوڑی دیر بعد کچھ آدمی اس کے دروازے پر نمودار ہوئے اور راحت ر سانی کا کچھ سامان  دے کرواپس ہو لئے۔
گل محمد کی پریشانی حل ہو گئی مگر شام ہوتے ہوتے وہ جیسے بستر مرگ تک پہنچ گیا۔
'' کیا بات ہے؟.....  درد کہاں ہے؟۔۔۔۔۔ آپ کچھ بول کیوں نہیں رہے؟ ''
 سوال تو وہ سنتا مگر جواب نہ دے سکا۔
اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کن الفاظ سے وہ اس کیفیت کو بیاں کرے
کیونکہ تب تک سوشل سائٹس پر اسکی عزت کا جنازہ نکل چکاتھا، اُسے ریلیف کا سامان لیتے ہوئے اپ لوڈ کی گئی دو بولتی تصویروں نے اُسے گنگ کردیاتھا۔
رابطہ: وترلار گاندربل، موبائل نمبر؛7006576629