تازہ ترین

للکار

افسانہ

5 اپریل 2020 (00 : 01 AM)   
(      )

رحیم رہبر
کبیر چاچا پاگل نہیں تھا۔ چالیس سال وہ آن بان اور شان کے ساتھ درس و تدریس کے کام میں محو رہا۔ اس دوران کبیر چاچا نے عزت کی بلندیوں کو چُھوا اور خوب داد و تحسین حاصل کی۔ وہ ایک مفکر، ایک فلسفی اور ایک عالم دین تھا۔ اُس میں جلال، جمال اور کمال یہ تینوں عناصر موجود تھے۔ وہ تب جلال کا مظاہرہ کرتا تھاجب کوئی ناگہانی آفت آن پڑتی تھی۔ پھر وہ جنون میں آکر لوگوں کو اپنے مخصوص انداز میں متنبہ کرتا تھا۔ جاہل لوگ دیوانہ کہکر کبیر چاچا کا مذاق اُڑاتے تھے۔ میں نے کبیر چاچا کو ہمیشہ سڑک پر گھومتے دیکھا ہے۔ اُس روز بھی کبیر چاچا سنسان شاہراہ پر چِلّا چِلّا کر لوگوں کو خبردار کرتا تھا۔
’’لوگو! خالق اپنی مخلوق سے خفا ہے۔ اس لئے اُس نے اپنے گھر بیت اللہ سے لوگوں کو بھگا دیا۔ اپنے محبوبؐ کے روضہ مقدس کا دروازہ بھی بند کروایا۔ اب کہاں جائو گے؟ ابھی بھی وقت ہے اپنی ہستی کو مٹا کر اپنے گناہوں پر نادم ہوجائو۔۔۔۔ اپنے کئے ہوئے پر پچھتائو، اُس سے معافی مانگو۔۔۔۔۔ وہ غفور والرحیم ہے۔‘‘آج کبیر چاچا کو میں نے مدتوں بعد دیکھا تھا۔ اس سے قبل میں نے اُسے تب دیکھا تھا جب ساری وادی پانی میں ڈوبی ہوئی تھی اور تاریخی لالچوک میں کشتیاں چلا رہی تھیں۔ تب بھی وہ کشتی میں بیٹھ کر اسی طرح چِلّا چِلّا کر لوگوں کو خبردار کررہا تھا۔
کبیر چاچا کل بھی کچھ اسی طرح چِلّا چِلّا کر لوگوں سے کہہ رہا تھا۔؟
’’دنیا والو! کہاں گیا تمہارا و علم کہ جس پر تمہیں ناز تھا؟ کہاں گئی آپ کی وہ ٹیکنالوجی، جس پر تُم فخر کرتے تھے؟ کہاں گئی تمہاری مضبوط حیثیت جس کا تمہیں غرور تھا؟ تمہاری طاقت، تمہاری شہرت، تمہاری دولت اب کسی بھی کام کی نہیں رہی! تمہیں حلال اور حرام کا تمیز نہیں تھا۔ طاقت کے نشے نے تمہیں گمراہ کردیا تھا! تمہارے دل پتھر بن گئے تھے! تمہاری آنکھوں پر غفلت کا پردہ پڑ گیا تھا! تم کائینات کے خالق و مالک کو بھول گئے تھے۔ اس لئے آج اُس نے اپنے ہونے کا اور اپنی عظمت کا تمہیں پھر احساس دلایا۔ وہ بھی اس شہر سے جہاں لوگ اُس خدا کے سوا دوسرے خدائوں کو پوجا کرتے تھے۔ جہاں  مردار غذا کھائی اور کھلائی جاتی تھی۔ جہاں طاقت کے نشہ میں بندہ اللہ کے وجود سے انکار کرتاتھا! اُسی شہر وُہان پر قدرت نے اپنا غضب نازل کیا! ملک کو ہلا کے رکھ دیا!اس کے بعد وینس شہر پر ناگہانی مصیبت ٹوٹ پڑی۔ اٹلی جیسے خوشحال ملک کے اس شہر کو آناً فاناً قبرستان بنا ڈالا! دیکھتے ہی دیکھتے وحشت کی تیز رَونے ساری دُنیا کو اپنی گرفت میں لیا! تمام دنیا میں اس قدرتی آفت نے ایسی ہاہاکار مچادی کہ سارے عالم میں ایک خوفناک سکوت طاری ہوا!
مساجد کے مینار خاموش ہوگئے! مندروں کی گھنٹیاں گونگی ہوگئیں۔ ہوٹل، ریستوران، کلب، شاپنگ مال، سنیما گھرسب بند ہوگئے۔سیر و تفریح کے مقام اور باغات وغیرہ سب ویران پڑ گئے۔ تمام دنیا میں قبرستان کی خاموشی چھا گئی! وقت کے فرعون و نمرود بے بس اور لاچار ہوگئے۔ لوگو! آپ جسے وائرس کہتے ہو۔ دراصل یہ قہر الٰہی ہے۔۔۔۔ یہ ہمارے کرموں کا پھل ہے۔ ابھی بھی وقت ہے سنبھل جائو اپنے روٹھے رب کو منائو۔ توبہ کار در ابھی بھی کُھلا ہے۔ ورنہ قومِ عاد اور قوم ثمود کی طرح تماری داستان تک نہ ہوگی داستانوں میں!
یہ اللہ کی للکار ہے۔‘‘
میں کبیر چاچا کو حسرت بھری نگاہوں سے دیکھتا رہا یہاں تک کہ وہ میری نظروں سے اوجھل ہوا۔
رابطہ: آزاد کالونی پیٹھ کا انہامہ
9906534724
 

تازہ ترین