اقامتی قانون میں ترمیم بناوٹی: نیشنل کانفرنس

4 اپریل 2020 (48 : 04 PM)   
(      )

نیوز ڈیسک
سرینگر//جموں کشمیر نیشنل کانفرنس نے سنیچر کے روز مرکز کے زیر انتظام علاقہ کیلئے نئے اقامتی قانون کی ترمیم کو ”بناوٹی“ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”یہ مرکز کے ہاتھوں جموں کشمیر اور اس کے لوگوں کے ساتھ ایک اور کھلواڑ کی مثال ہے“۔پارٹی نے کہا کہ مذکورہ ترمیم سے یہاں کے آبادی کے تناسب کو بگڑنے سے بچانے کی کوئی گارنٹی حاصل نہیں ہوگی۔
پارٹی ترجمان عمران نبی ڈار نے اقامتی قانون کی ترمیم کو”بناوٹی“ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مرکزی سرکار نے ”محض غیر مقامی باشندوں کا راستہ بدل دیا ہے جبکہ منزل اب بھی کھلی ہے“۔
انہوں نے کہا”نوکریوں کیلئے براہ راست درخواست دینے کے بجائے غیر مقامی افراد کو اب پہلے اقامتی سند فراہم کی جائے گی اور بعد میں نوکری،اقامت کو سات سال کا عرصہ گذارنے والے ہر فرد کیلئے کھلا رکھنے سے یہاں موجود لاکھوں غیر مقامی افراد اس زمرے میں آگئے ہیں“۔
ڈار کے مطابق”اس بات میں شک کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ اقامتی قانون سے جموں کشمیر میں آبادی کا تناسب بگڑے گا اور مقامی لوگوں کے حقوق پر شبخون مارا جائے گا“۔نیشنل کانفرنس ترجمان نے کہا کہ جموں کشمیر کی زمین پرحقوق کے بارے میں مرکزی سرکار کی خاموشی”مشکوک “ ہے۔
 

تازہ ترین