ملازمتیں ڈومیسائل کیلئے مخصوص

عوامی اور سیاسی دبائو سے مرکز کا من بدلا،فقط3روز بھی قانون میں ترمیم

4 اپریل 2020 (00 : 01 AM)   
(      )

ریاض ملک

  اب مرکزی ملازمین کی 10سالہ سکونت لازمی قرار،از خود کوئی اب اقامت گزار تصور نہ ہوگا

 
جموں//عوامی اور سیاسی حلقوں کی جانب سے شدید تنقید کی زد میں آنے کے بعد مرکزی حکومت نے جموںوکشمیر یونین ٹریٹری کیلئے فقط 3روز قبل متعارف کئے گئے اقامتی قانون میں ترمیم عمل میں لاتے ہوئے جموںوکشمیر میں ساری سرکاری نوکریاں اقامتی اسناد ہولڈروں کے لئے مخصوص کردی ہیں۔اس ضمن میں جمعہ کی دیر رات مرکزی وزارت داخلہ کی جانب سے باضابطہ ایک حکم نامہ جاری کیاگیا جس میں پہلے متعارف کئے گئے قانون میں چند ترامیم کی گئی ہیں۔اس ضمن میں داخلہ سیکریٹری اے کے بھلا کی جانب سے جموںوکشمیر تنظیم نو قانون 2019کی دفعہ96کے تحت حاصل اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے جمعہ یعنی3اپریل کی دیر رات کو ’’جموںوکشمیر تنظیم نو(اڈاپٹیشن آف سٹیٹ لاز )آڈر2020کے نام سے ایک ترمیمی آڈر جار ی کیاجو فوری طور قابل اطلاق ہوگیا۔اس آڈر میں بھی جنرل کلاز ایکٹ1897کا استعمال کیاگیا ہے جوبھارت میں نافذ العمل قوانین کی تشریح کیلئے زیر استعمال ہے ۔حکم نامہ کے مطابق اس آڈر کے شیڈول میں جن سابق ریاستی قوانین کا ذکر کیاگیا ہے ،وہ کسی مجاز قانون سازیہ کی جانب سے تنسیخ یا ترمیم ہونے تک قابل اطلاق ہونگے اور ان کا فوری اطلاق عمل میں لایا جائے گا۔ اس ضمن میں داخلہ سیکریٹری اے کے بھلا کی جانب سے جموںوکشمیر تنظیم نو قانون 2019کی دفعہ96کے تحت حاصل اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے31مارچ کو ’’جموںوکشمیر تنظیم نو(اڈاپٹیشن آف سٹیٹ لاز )آڈر2020کے نام سے ایک آڈر جار ی کیاجو فوری طور قابل اطلاق ہوگیا۔اس آڈر میں جنرل کلاز ایکٹ1897کا استعمال کیاگیا ہے جوبھارت میں نافذ العمل قوانین کی تشریح کیلئے زیر استعمال ہے ۔حکم نامہ کے مطابق اس آڈر کے شیڈول میں جن سابق ریاستی قوانین کا ذکر کیاگیا ہے ،وہ کسی مجاز قانون سازیہ کی جانب سے تنسیخ یا ترمیم ہونے تک قابل اطلاق ہونگے اور ان کا فوری اطلاق عمل میں لایا جائے گا۔اس آڈر کے شیڈول میں جموںوکشمیر سیول سروسز(غیر مرکوز یت و بھرتی)ایکٹ2010میں چند ترامیم عمل میں لائی گئی ہیں۔نئی ترامیم کے مطابق اس قانون کی دفعہ 3Aکی ذیلی شق 1کے حصہ Aمیں ’’تصور کیاجائے گا‘‘اور’’لیول۔4(22500)کی تنخواہ سکیل والی اسامیوں‘‘کو حذف کیاگیا ہے ۔خیال رہے کہ پہلے اس شق میں کہاگیا تھا کہ ہر وہ شخص ،جو درج ذیل شرائط پورا کرے گا ،اُس کولیول۔4(22500)کی تنخواہ سکیل والی کسی بھی اسامی پر تعیناتی کیلئے جموںوکشمیر یونین ٹریٹری کا ڈومیسائل تصور کیاجائے گاتاہم نئی ترمیم کے مطابق اب ہر وہ شخص ،جو درج ذیل شرائط پورا کرے گا ،وہ کسی بھی اسامی پر تعیناتی کیلئے جموںوکشمیر یونین ٹریٹری کا ڈومیسائل ہوگا ۔اسی طرح اسی دفعہ کی ذیلی شق 2میں ’’تصور کئے جانے‘‘سے متعلق الفاظ حذف کرنے کے علاوہ اسی شق کے پارٹ Bکے کلاز aمیںجو ترمیم عمل میںلائی گئی ہے ،اس کے مطابق اب  نوکری کیلئے تمام مرکزی محکموں کے افسریاملازمین ،آل انڈیاسروسزلیول افسران،پبلک سیکٹر اداروں وخودمختاراداروں کے افسروملازمین ،پبلک سیکٹربینکوں میں کام کرنے والے افسران یاملازمین ،سینٹرل یونیورسٹی کے حکام اورمرکزی سرکارکے دوسرے ریسرچ اداروں میں تعینات رہنے والے افسروملازمین کے بچوں کے لئے ڈومیسائل کے حصول کیلئے والدین کی جموںوکشمیرمیں 10سالہ سکونت اب لازمی قرار دی گئی ہے ۔علاوہ ازیں مزکورہ قانون کی دفعہ5Aمیں بھی ترمیم کی گئی ہے جس کے مطابق اب جموںوکشمیر کی سبھی سرکاری نوکریاں جموں وکشمیر کے ڈومیسائل ہولڈروںکیلئے مخصوص کی گئی ہیں اور یوں اب کوئی قومی سطح کی مقا بلہ آرائی نہیں ہوگی۔دفعہ 8میں بھی ایک ترمیم کے ذریعے اب ساری سرکاری اسامیوں کو جموںوکشمیر کے اقامتی حقوق کے اہل قرار پائے لوگوں کے لئے مخصوص کیاگیا ہے۔
 
 

عدالت عالیہ کیلئے 3نئے ججوں کی تعیناتی 

نیوز ڈیسک
 
نئی دہلی//جموں وکشمیر اور لداخ کے مشترکہ ہائی کورٹ کیلئے 3نئے ججوں کی تعیناتی کی گئی ہے۔ اس حوالے سے وزارت قانون کی طر ف سے جمعہ کے روز نوٹفکیشن جاری کی گئی۔ نوٹفکیشن کے مطابق ان ججوں میں جسٹس ونود چٹرجی کول، سنجے دھر اور پونیت گپتا شامل ہیں۔ اس نوٹفکیشن کے توسط سے عدالت عالیہ میں تعینات ججوں کی تعداد 12ہوگئی ہے ۔ معلوم رہے کہ جموں وکشمیر اور لداخ کی عدالت عالیہ کیلئے ججوں کی مقررہ تعداد 17ہے۔ 
 

تازہ ترین