نقص امن کے الزام میں گرفتار سابق ڈپٹی میئرشیخ عمران

انسانی بنیادوں پر رہائی کا والدین کا مطالبہ

4 اپریل 2020 (00 : 01 AM)   
(      )

 سرینگر// سرینگر میونسپل کارپوریشن کے سابق ڈپٹی میئر شیخ عمران جنہیں5اگست کو گرفتار کیا گیاتھا،جس کے بعد تاہنوز وہ نظر بند ہیں،جبکہ والدین  نے اُنہیں انسانی بنیادوں پر رہا کرنے کی اپیل کی ہے۔مرکز کی طرف سے5اگست کو جموں کشمیر کے آئین کی تنسیخ اور تقسیم کے ساتھ ہی دیگر مین اسٹریم سیاست دانوں کے ہمراہ  ایس ایم سی کے ڈپٹی میئر شیخ عمران کو نقص امن کی پاداش میں گرفتار کیا گیا،جو ہنوز نظر بند ہیں۔ اس دوران وادی میں کرئونا وائرس کے پھیلائو کے پیش نظر شیخ عمران کے اہل خانہ بشمول عمر رسیدہ والدین نے انکی رہائی کا مطالبہ کیا۔ معلوم رہے کہ شیخ عمران کو دفعہ107کے تحت گرفتار کیا گیااوراُن پر5اگست کوجموں کشمیرکا خصوصی  درجہ کے خاتمے پر نقص امن کاالزام عائد کرکے گرفتار کیا گیا اوروہ تاہنوز نظر بند ہیں۔ شیخ عمران کے والد شیخ مشتاق کا کہنا تھا کہ وہ گزشتہ7ماہ سے  ایام اسیری کاٹ رہے ہیں اور جہاں کرونا وائرس کے پھیلائو کے نتیجے میں کئی مین اسٹریم لیڈروں کی رہائی عمل میں لائی گئی، وہیں وہ جیل کی چار دیواری میں پابند سلاسل ہیں۔انہوں نے مطالبہ کیا شیخ عمران کو انسانی بنیادوں پر رہا کیا جانا چاہئے کیونکہ اُس کے گھر میں اُس کے عمر رسیدہ والدین اور چھوٹے بچے ہیں جو موجودہ حالات میں اُن کی صحت کو لیکر تشویش میں مبتلاء ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالت عالیہ نے بھی حکومت کو ہدایت دی ہے کہ ان لوگوں کی رہائی عمل میں لائی جائے جن کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں ہے،تاہم وہ اس بات کو سمجھنے سے قاصر ہیں کہ حکومت شیخ عمران کی رہائی میں تاخیر کیوں کر رہی ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ انہیں فوری طور پر رہا کیا جائے۔ادھر کشمیرعظمیٰ کے 4مارچ کے شمارے میں اس حوالے سے شائع  کارپوریٹروں کی طرف سے ان کی رہائی کے مطالبے کے بارے میں شائع ایک خبر میں دفعہ107، جو نقص امن کے الزام کی دفعہ ہے اورجس کے تحت شیخ عمران کوحراست میں رکھاگیا ہے، بینک معاملے سے منسوب ہوئی تھی،جوحقائق کے اعتبار سے غلط ہے۔ ادارہ اس غیردانستہ غلطی کیلئے معذرت خواہ ہے۔
 

تازہ ترین