نئے اقامتی ضابطوں سے لوگ افسر دہ :مظفر بیگ

جموں وکشمیر میں دفعہ 371کا اطلاق عمل میں لایا جائے

4 اپریل 2020 (00 : 01 AM)   
(      )

 سرینگر//سابق نائب وزیر اعلیٰ مظفر حسین بیگ نے اقامتی قانون سے متعلق حکومت ہند کے فیصلے کو مایوس کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے جموں وکشمیر کے عوام افسر دگی سے دوچار ہوئے ، جو پہلے ہی عالمی وبا کووڈ ۔19کے خطرے سے لڑ رہے ہیں ۔کے این ایس کے مطابق مظفر حسین بیگ نے کہا،’’مجھے امید ہے کہ حکومت ہند اس مسئلے پر دوبارہ غور کرے گی‘‘۔ان کا کہناتھا ،’’پہلے ہی دن سے جب میں گھر میں نظر بند تھا ،میرا اس معاملے پر موقف واضح تھااور ہے ‘‘۔ان کا کہناتھا،’ ’میرا یہ موقف اور یقین ہے کہ اگر سپریم کورٹ آف انڈیا نے دفعہ370اوردفعہ35A کی منسوخی سے متعلق پارلیمانی فیصلے کو برقرار رکھا ،تو جموں وکشمیر کے عوام کواقامتی حقوق دیئے جانے چاہئے ،جسکی ضمانت 1927میں مہاراجہ ہری سنگھ نے دی تھی اور یہ حقوق دفعہ 371سے محفوظ کئے جانے چاہئے ۔ ان کا کہناتھا کہ حکومت ہند کے فیصلے نے جموں و کشمیر کے عوام کی خواہشات کے مطابق اس مسئلے پر توجہ دینے کی بجائے جموں و کشمیر کے عوام کو مایوسی کا شکار بنا دیا ہے۔مظفر حسین بیگ نے کہا’’ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ ہمارے ساتھ پہاڑی ریاستوں کی طرح سلوک کیا جائے اور شمال مشرقی ریاستوں ، ہماچل پردیش کی طرح ڈومیسائل کے حقوق دیئے جائیں‘‘۔مظفر حسین بیگ نے کہا ’’جہاں تک اس مطالبے کا تعلق ہے ،اس میں کچھ نیا اور نہ سنا ہوا نہیں ہے‘ ‘۔انہوں نے جموں وکشمیر اپنی پارٹی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایک نئی پارٹی کے سیاستدانوں نے یہ تاثر وزیر اعظم اور وزیر داخلہ سے ان کی ملاقات کے بعددیا۔ان کا کہناتھا ’’یہ مطالبہ جیسا کہ میرے ذریعہ بیان کیا گیا ہے قبول کیا جائے گا ، مجھے لگتا ہے اور مجھے ڈر ہے بھی کہ یا تو یہ بیان حکومت ہند کی اصل حیثیت کو سمجھے بغیر جاری کیا گیا تھا یا یہ بیان جموں و کشمیر کے عوام کو کسی بھی جواز کے بغیر خوش کرنے کے لئے دیاگیا تھا‘‘۔مظفر حسین بیگ نے کہا ،’’ہم اب بھی امید کرتے ہیں کہ جموں وکشمیر کی مکمل ریاستی حیثیت سے بحال ہوگی اور جموں وکشمیر کے رہائشیوں کے آبائی حقوق کو آرٹیکل 371کے تحت دیگر ریاستوں کی طرح محفوظ کیا جائے گا‘‘۔
 

 آبادیاتی کردار کو تبدیل نہیں کیا جاسکتا:مظفر شاہ 

سرینگر// جموں و کشمیر کے لئے نئے ڈومیسائل قانون کو سیکولر بھارت کے صداقت نامہ کیلئے امتحان سے تعبیر کرتے ہوئے عوامی نیشنل کانفر نس نے کہا ہے کہ جموں وکشمیر کے آبادیاتی کردار کو تبدیل نہیں کیا جاسکتا ہے ۔کے این ایس کے مطابق پارٹی کے سینئر نائب صدر مظفر احمد شاہ نے کہا کہ جموں وکشمیر کے آبادیاتی کر دار کو تبدیل کرنے کیلئے بھارتیہ جنتا پارٹی آئین ہند کیلئے خطرہ بن گئی ہے ۔ان کا کہناتھا کہ ایک ایسے وقت میں جب پوری دنیا کورونا وائرس کے خلاف جنگ لڑ رہی ہے، بھاجپا  اپنے منصوبوں کو کامیاب کرنے کی ہر کوشش کررہی ہے ،جوکہ افسوسناک اور شرمناک ہے ۔انہوں نے کہا ،’’میں یہ بات واضح کرنا چاہتا ہوں کہ جموں وکشمیر میں دفعہ 370 اور دفعہ 35اے کی بحالی ہر صورت میں ہوگی ،چاہئے مودی حکومت ہو یا نہ ہو‘ ‘۔ان کا کہناتھا کہ آج پورے جموں وکشمیر اور لداخ کے عوام بی جے پی کے ’’گیم پلان ‘‘ سے واقف ہوگئے ۔ان کا کہناتھا کہ کشمیر یوں کی تشویش سے واضح ہوگیا کہ آج ڈوگرہ ،دلت ،راجپوت ،پہاڑی ،گوجر اور کشمیری پنڈت علاوہ ازیں لداخیوں کو بھی یہ سمجھ میں آچکا ہوگا کہ بھاجپا نے اُنہیں بھی نوکریوں سے محروم رکھا،جسکی ضمانت مہاراجہ اور شیخ محمد عبداللہ نے دفعہ370اورآرٹیکل35اے کی صورت میں دی تھی ۔انہوں نے کہا کہ اس پورے معاملے پر سیاسی قیادت متحد ہے اور بھا جپا کے ’گیم پلان ‘ کو کسی بھی طور پر کامیاب نہیں ہونے دیا جائیگا ۔
 

نوجوانوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کے مترادف:مشتاق شاہ

سرینگر//سابق ممبر اسمبلی ترال مشتاق احمد شاہ نے جموں و کشمیر میں مرکزی سرکار کی جانب سے نافذ نئے اقامتی ضابطوں پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ یہ قدم جموں کشمیر کے نوجوانوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کے برابر ہے ۔کے این ایس کے مطابق پی ڈی پی کے سینئر لیڈر و سابق ممبر اسمبلی ترال مشتاق احمدشاہ نے کہا کہ مرکزی سرکار کی جانب سے جموں و کشمیر میں ڈوماسائیل قانون نافذ کرنا یہاں کے نوجوان کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کے برابر ہے۔ انہوںنے بتایایہ انتہائی بے شرمی کی بات ہے کہ ایک طرف پورے ملک کے لوگ عالمگیر وباء سے بچنے کے لئے لاک ڈائون میں زبردست پریشانیوں میں مبتلا ہیں،وہی دوسری جانب مرکزی سرکار نے وقت کا غلط فائدہ اٹھا کر اس قانون کو نافذ کیا ہے جس کو کشمیری لوگوں نے مسترد کیا  ۔
 

تازہ ترین