جھوٹ وخوشامد۔اخلاقی پستی کی علامت

معاشرتی صلاحیتیں زائل ہوجاتی ہیں

تاریخ    4 اپریل 2020 (00 : 01 AM)   


عبدالمنعم فاروقی
اللہ تعالیٰ کی ذات اعلیٰ وارفع اور بلند وبرتر ہے ۔ وہ اپنی ذات وصفات میں تنہا ویکتا ہے،اس کی قدرت و بادشاہت میں نہ کوئی اس کا شریک ہے نہ مشیر ہے،وہ ازل سے ہے اور ابد تک رہے گا۔ وہ تمام تراوصاف حمیدہ سے متصف اور تمام صفات قبیحہ سے مبرہ اور پاک ہے۔وہ پوری کائنات اور اس کی ہر ایک چیز کا مالک ہے ،جہانوں میں جو کچھ ہے سب اسی کا ہے ، اس کی بے شمار مخلوقات میں سے ایک مخلوق انسان بھی ہے۔انسان اس کی تخلیق کا ایک عظیم شاہکار ہے، انسان اس لحاظ سے خوش نصیب ہے کہ اس میں وہ بہت سی خوبیاں رکھی گئی ہیں جن سے دوسری مخلوقات محروم ہیں ،ظاہری وباطنی دونوں لحاظ سے وہ تمام مخلوقات پر فوقیت رکھتا ہے، اللہ تعالیٰ نے اسے عقل وفہم ،شعور وادراک اور قوت گویائی اور قوت ارادی سے مالامال کیا ہے ، دیگر کے مقابلہ میں ان چیزوں میں اسے کمال حاصل ہے ۔وہ اپنے ارادہ کی قوت وطاقت سے بہت سے بڑے بڑے کام انجام دے سکتا ہے،وہ جانتا ہے کہ اس میں جو کچھ بھی صلاحیتیں ہیں وہ سب خدا کی دین ،اسی کی عنایت اور اسی کا فضل ہے اور اس کا تقاضہ یہ ہے کہ کمالات کے وقوع پذیر ہونے اور صلاحیتوں کے ظاہر ہونے پر منعم حقیقی کی تعریف وتوصیف کرے اور اسی کا شکر اداکرے۔مگر انسان اس معاملہ اکثر وبیشتر بہک جاتا ہے اور اس کی نسبت اپنی ذات کی طرف کر دیتا ہے اور نہ صرف خود کے گُن گاتا ہے بلکہ دوسروں سے اپنی شان میں قصیدے بھی پڑھواتا ہے اور اسے سن کر فخر یہ انداز سے سینہ تان دیتا ہے ،گردن کھڑی کر دیتا ہے اور زمین پر قدم مار کر چلنے لگتا ہے ،وہ اس وقت خودی کے نشے میں چور ہوکر عطا ئے خداوندی کو بھول جاتا ہے ۔
انسان کے لئے سب سے بڑی دولت ایمان واسلام کی دولت ہے ۔ اسلام بندہ کو خدا کی اطاعت و بندگی کا رستہ بتاتا ہے اور اسی کے ذریعہ وہ خدا کی خوشنودی اور کامیابی کو پاتا ہے۔ایمان کے بعد اعمال صالحہ بندگی کی دلیل اور اس کی غلامی کی پہنچان ہے۔یہ تحفظ ایمان، ،تقرب الٰہی ، حصول نعمت اور دخول جنت کا ذریعہ ہیں ، اعمال صالحہ کی روح اگر اخلاص وللہیت ہے تو اخلاق فاضلہ اوراخلاقی خوبیاں اس کا حسن جمال اور اس کی شخصیت کا آئینہ ہے ۔ رسولِ اکرم ؐ نے دنیا میں بسنے والے اور قیامت تک آنے والے تمام انسانوں کو جہاں اسلام کی دعوت دی،حق کی طرف بلایا ،توحید کا سبق پڑھایا اور اعمال صالحہ اپناے کی تعلیم وتلقین فرمائی وہیں اخلاق ِ فاضلہ کا بھی درس دیا بلکہ لوگوں کے سامنے عملی نمونہ بن کر دکھایا ۔رسولِ اکرم ؐ کے اخلاق حسنہ نے اعلان نبوت سے قبل ہی لوگوں کو اپنا گرویدہ بنادیا تھا ،لوگ آپ کے اخلاق سے اس قدر متاثر تھے کہ احتراماً نام لینے کے بجائے ’’امین وصادق ‘‘ کے لقب سے یاد کرتے تھے ۔ اعلان نبوت کے بعد توحید کی دعوت کی مخالفت میں گرچہ لوگ آپ کے دشمن ہوگئے تھے لیکن دشمنی کے باوجود کسی نے بھی آپ ؐ کے اخلاق وکردار پر انگلی نہیں اٹھائی بلکہ جوں جوں شب وروز آپ کے ساتھ گزارتے گئے، آپ کے اخلاق وعادات سے حد درجہ متاثر ہو تے گئے۔رسول اکرمؐ نے عمدہ اخلاق رکھنے والے اور اخلاق فاضلہ سے مزین شخص کو لوگوں میں بہترین قرار دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: خیر الناس احسنہم خلقا ’’ لوگوں میں بہترین آدمی وہ ہے جس کے اخلاق سب سے عمدہ ہوں‘‘ ایک دوسری حدیث ہے جس میں آپ ؐ نے اچھے اخلاق والے مؤمن کو کامل ایمان ولا فرمایا ہے : اکمل المؤمنین ایمانا احسنہم خلقا( ترمذی : ۱۱۶۲)’’اکامل مؤمن وہ ہے جس اخلاق اچھے ہوں‘‘ ۔
عمدہ اخلاق انسان کو عوج ثریا پر پہنچادیتے ہیں اور اگر اخلاق بُرے ہوں تو انسان بلندی سے پستی کی طرف اس طرح ذلیل ہوکر آتا ہے جس طرح پہاڑ کی چوٹی سے پتھر لڑکھتے ہوئے کنارے پر آکر گرتا ہے۔یہ بات مسلم ہے کہ اخلاقی بلندی پر پہنچنے کے لئے انسان کو بڑی قربانیاں دینی پڑتی ہے مگر صرف دوبول اس کی ذلت رسوائی کے لئے کافی ہوجاتے ہیں ، جن اعمال قبیحہ سے آدمی کی ساکھ متاثر ہوتی ہے ،اخلاقی زوال شروع ہوتا ہے ،تنزلی اس کے پیر پکڑ لیتی ہے اور وہ خود کے ساتھ دوسروں کو بھی لے ڈوبتا ہے وہ بدترین قسم کا قبیح عمل ’’ خوشامد،چاپلوسی،بے جا تعریف اور مدح سرائی ‘‘ ہے،یہ نہ صرف قبیح عمل ہے بلکہ کئی برائیوں کی جڑ بھی ہے ۔ ان تباہ کُن برائیوں میں سے چند یہ ہیں (۱) دھوکہ: خوشامد دھوکہ دہی اور دروغ گوئی کی ایک اعلیٰ قسم ہے جس کے ذریعہ فرد خود تو برباد ہوتا ہے ،ساتھ ہی جس کی مدح سرائی کر رہا ہے اسے بھی تباہ وبرباد کر دیتا ہے ،(۲) جھوٹ: بے جا تعریف کرنے والا خود سمجھتا ہے کہ وہ جس کی تعریف کر رہا ہے وہ درحقیقت اس کا مستحق نہیں ہے لیکن پھر بھی جھوٹ پر جھوٹ بولے جارہا ہوتا ہے،(۳) نفاق: مدح سرائی کرنے والا جب سامنے تعریف کرتا ہے تو اس کا دل خود گوائی دیتا ہے کہ وہ اس کا مستحق نہیں ہے پھر بھی تعریف پر تعریف کئے جارہا ہوتا ہے ۔یہ سراسر نفاق اور منافقین کی علامت ہے ،جس کا انجام بہت ہی خطر ناک ہے،(۴) غرور وتکبر : جس کی بے جا تعریف کی جاتی ہے وہ شخص غرور وتکبر کے دلدل میں پھنستا جاتا ہے اور آخر کار اس کا متکبرین میں شمار ہوجاتا ہے اور بے جا تعریف اسے بڑے بڑے نافرمانوں اور متکبروں کی صف میں کھڑ ا کر دیتی ہے جو اس کے لئے ہلاکت خیز ہے ، (۵) ذلت ورسوائی : چاپلوس آدمی دوسروں کی نگاہ میں اور خود کی نظروں میں ذلیل وخوار ہوتا چلا جاتا ہے ،لوگ اسے چاپلوس کے نام سے یاد کرتے ہیں اس طرح وہ معمولی مفاد کی خاطر اپنی عزت خاک میں ملادیتا ہے ،دوسرے جس کی چاپلوسی اور بے جا مدح سرائی کی ہے، اس میں احساس برتری پیدا ہونا شروع ہوجاتی ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی عبادات وریاضات پر فخر کرنے لگتا ہے اور اسے موقع بموقع دوسروں کے سامنے پیش کرکے خود کو برتر ثابت کرنے کی کوشش کرتا رہتا ہے ۔اس طرح وہ ریا کے مرض میں مبتلا ہوکر اپنے اعمال کی قبولیت سے محروم ہوجاتا ہے، (۶)دوسروں کی تحقیر: بے جا تعریف سن سنتے سنتے اس کا دماغ ساتویں آسمان پر پہنچ جاتا ہے ،اب یہاں سے اسے ہر ایک اپنے سے چھوٹا اور ذرہ نظر آنے لگتا ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ ہر ایک کو اپنے سے چھوٹا سمجھ کر اس کی تحقیر کرنے لگتا ہے اور خود کو دوسروں سے افضل وبہتر جاننے لگتا ہے ،یہ اس کے لئے بربادی اور روحانی تزلی کا جال ثابت ہوتا ہے ،خود کو بہتر اور دوسروں کو بدتر سمجھنا بدترین قسم کا جرم اور اعمال کی بربادی کا ذریعہ ہے۔ حضرت امیر معاویہ ؓ حضرات صحابہ ؓ میں ایک خاص مقام رکھتے ہیں ،کاتبین وحی میں آپ ؓ کا شمار ہے ،رسول اللہ ؐ سے سسرالی نسبت رکھتے ہیں ،آپ ؐ کے حوالے سے بہت کم احادیث بیان کرتے ہیں البتہ یہ حدیث اکثر جگہوں پر آپ ؐ کے حوالے سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ ؐ نے ارشاد فرمایا : ایاکم والتمادح فانہ الذبح(ابن ماجہ)’’ تم لوگ خوشامد اور بے جا تعریف سے بچو کہ یہ قتل ہے‘‘ اس حدیث شریف میں رسول اللہ ؐ نے اپنی امت کو بڑی اہم تعلیم دی اور نہایت ہی اہم بات کی طرف توجہ دلائی کہ کسی کے سامنے اس کی تعریف کرنا اس کو ذبح کرنے یعنی ہلاک کرنے کے مترادف ہے ،ہوسکتا ہے کہ وہ خود پسندی اور تکبر کا شکار ہوجائے اور پھر شیطان کی طرح گمراہ ہوجائے۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ؐ نے ایک آدمی کو کسی کی مبالغہ آمیز تعریف کرتے سنا تو فرمایا:تم لوگوں نے اسے تباہ وبرباد کر دیا اس کی پیٹھ کو پھاڑ دیا۔
رسول اللہ ؐ بے جا تعریف ،مدح سرائی اور خوشامد کو ہر گز پسند نہیں فرماتے تھے ،چنانچہ بہت سی احادیث میں بے جا تعریفات سے بچنے کی سخت الفاظ میں تاکید فرمائی ہے اور اس کے اخلاقی وروحانی نقصانات کو بیان فرمایا ہے ۔ بے جا اور منہ پر تعریف سے آدمی کئی روحانی واخلاقی بیماریوں میں مبتلا ہوجاتا ہے جن میں سے چند کا ذکر اور پر کیا جاچکا ہے ، آگے بڑھتے ہوئے یہ آدمی کو بداخلاق بنادیتی ہے اور سرکشی کی طرف مائل کر دیتی ہے جس کے اثر سے بعض لوگ متاثر ہو تے ہیں تو بعض لوگ کچھ وقت کے بعد لیکن یہ ہر ایک کو اپنے گرفت میں لے لیتی ہے ،جس کا اثر اس کی ذات کے علاوہ اس کے متعلقین اور دوسروں پر بھی ہونے لگتا ہے اور آگے چل کر یہ معاشرہ کو اپنی لپیٹ میں لے کر معاشرہ کو تباہی کے راستے پر لاکھڑا کر دیتا ہے جس سے معاشرہ کا اخلاقی دیوالیہ نکل جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ؐ نے منہ پر تعریف کرنے والے کے منہ میں مٹی ڈالنے کا حکم دیا ہے۔ارشاد فرمایا: اذا رأیتم المداحین فاحثوافی وجوھھم التراب(مسلم:۷۶۹۸)’’ جب تم کسی کو (منہ) پر تعریف کرنے والا دیکھو تو اس کے چہرے پر مٹی ڈال دو‘‘،چنانچہ حضرت ہمام بن حارث ؓ ایک واقعہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص حضرت عثمان ؓ کے منہ پر ان کی تعریف کرنے لگا تو حضرت مقداد بن اسودؓ اپنے گھٹنوں کے بل بیٹھ گئے اور وہ( جسامت میں قدرے )موٹے تھے اور تعریف کرنے والے کے منہ میں کنکریاں ڈالنے لگے ،حضرت عثمان ؓ نے اس سے کہا یہ آپ کیا کر رہے ہیں ؟ تو انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم ؐ نے ارشاد فرمایا کہ جب تم کسی کو منہ پر تعریف کرتے دیکھو تو اس کے چہرے پر مٹی ڈال دو(مسلم)حضرت مقداد بن اسودؓ نے اس حدیث کو اپنے ظاہر پر محمول کرتے ہوئے تعریف کرنے والے کے منہ میں مٹی ڈال دی ،بعض علماء اسی کے قائل ہیں ،بعض علماء ومحدیث اس حدیث کو ظاہر پر محمول نہیں کرتے بلکہ فرماتے ہیں اس سے مراد یہ ہے کہ اس چاپلوس کے منہ کو بند کردو ،اسے کچھ کہنے نہ دو، اسے اس کے بدلے میں کچھ نہ دو ،اسے مایوس خالی ہاتھ لوٹا دو ،یہ وہ شخص ہے جس نے بے جا مدح سرائی کو اپنی عادت بنالی ہے ،اسے کھانے کمانے کا ذریعہ بنالیا ہے۔بعض علماء فرماتے ہیں کہ کبھی ضرورتاً بطور تعارف یا ترغیب کے لئے کچھ کلمات کہدینا جس سے سننے والا یعنی جس کی تعریف ہورہی ہے، وہ متاثر نہ ہو تو کچھ گنجائش ہےلیکن نہ کرنا زیادہ بہتر ہےکیونکہ معلوم نہیں اسے سن کر وہ خود پسندی میں مبتلا ہوجائے اور اس جال میں پھنس کر رہ جائے ۔
اگر کسی شخص کی شخصیت کو بتانا ہی ضروری ہو ، تعریفی الفاظ سے اس کا تعارف مقصد ہو تو اس کے لئے تعارفی کلمات کہنے کے ساتھ یہ بھی کہدے کہ ظاہر میں اس شخص کو ہم نے ایسا ہی پایا ہے ،اسی لئے اس کے ظاہری احوال بیان کئے ہیں رہا باطن تو و ہ ہم سے مخفی ہے اس کا حال اللہ ہی بہتر جانتے ہیں اور وہ اس سے بخوبی واقف ہے ،اس کا ایک فائدہ یہ ہوگا کہ کہنے والا مبالغہ آرائی سے کام نہیں لے گا ،دوسرا فائدہ یہ ہوگا جس کی تعریف کی جارہی ہے وہ خود اپنے اندرونی احوال سے واقف ہے ،وہ خود پسندی میں مبتلا نہ ہوگا ، تیسرا فائدہ یہ ہوگا کہ سننے والوں میں محبت کا توازن باقی رہے گا۔حضرت ابوبکرہ ؓ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ ؐکے پاس ایک شخص کی تعریف کی ،تو آپ ؐ نے اس سے فرمایا: تم نے اپنے ساتھی کی گردن کاٹ دی ،اسے آپ ؐ نے تین بار دہرایا ،پھر فرمایا: جب تم میں سے کسی کو اپنے ساتھی کی مدح وتعریف کرنی ہی پڑجائے تو یوں کہے: میں اسے ایسے ہی سمجھ رہاہوں لیکن میں اللہ کے بالمقابل اس کا تزکیہ نہیں کرتا ( مسلم:۷۵۰۱) یعنی اس کے ظاہر ی افعال واعمال اور دینداری وپرہیزگاری دیکھ کر میں نے اس طرح کے جملے کہے ہیں، رہا اس کا باطن تو اس کا علم اللہ ہی کو ہے، اگر کوئی تعریف ہی کردے اور جس کی تعریف کی جارہی ہے وہ اسے کسی وجہ سے منع نہ کر سکے تو اسے چاہیے کہ وہ خاموش نہ رہے بلکہ وہ دعا پڑھے جو اس موقع کے لئے حدیث میں سکھلائی گئی ہے ،آپ ؐ نے ارشاد فرمایا جو شخص اپنی تعریف سنے تو یوں کہے : اللہم لا تؤا خذنی بما یقولون واغفرلی مالا یعلمون(الأدب المفرد:۵۸۵) ’’ اے اللہ میری اس وجہ سے گرفت نہ فرمانا جو یہ لوگ کہہ رہے ہیں اور مجھے معاف فرمادے جو یہ لوگ نہیں جانتے میرے بارے میں‘‘۔
خوشامد ،بے جا تعریف اور چاپلوسی کی اس قدر مذمت ،مضرت رساں روحانی واخلاقی نقصانات اور فرد بلکہ افراد ومعاشرہ پر اس کے منفی اثرات کے باوجود بہت سے لوگ اس تباہ کن مرض میں مبتلا ہیں ۔ معاشرہ میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں ہے جو چاپلوس قسم کے ہیں اور ایسے لوگوں کی بھی کثرت ہے جو خوشامد ی ،چاپلوسی اور منہ پر تعریف کو پسند کرے ہیں بلکہ اس کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں ،خوشامد کرنے والا کبھی اپنے مطلب کے لئے ایسا کرتا ہے تو کبھی مالی منفعت کے لئے تو کبھی قرب حاصل کرنے کی غرض سے کرتا ہے ،جس کی تعریف کی جارہی ہوتی ہے وہ اسے سن کر خوش ہوتا ہے ،پھولے نہیں سماتا ،وہ اس کے ذریعہ اپنی انا کو تسکین پہنچاتا رہتا ہے ، اس کی تعریف سنتے ہی اس کے کان بجنے لگتے ہیں ،اس میں خود پسندی کی رگ پھڑک اٹھتی ہے ،وہ متکبرانہ جھوم اٹھتا ہے ،بسا اوقات اس کام میں اسے اتنا لطف آتا ہے کہ بطور خاص ایسے لوگوں کو بلا بلا کر انکی زبانی اپنی تعریف سننے لگتا ہے ،حالانکہ بعض وقت وہ جانتا بھی ہے کہ اس کے روحانی واخلاقی نقصانات کیا ہیں ،پھر بھی اس خارش زدہ مریض کی طرح ہوجاتا ہے جسے جسم کھجلانے تک چین نہیں ملتا حالانکہ وہ انجام کو بجوبی جانتا ہے ۔رسول اللہ ؐ کی تعلیمات اور آپ ؐ کی تربیت نے صحابہ ؓ کو کندن بنادیا تھا ،وہ خواہشات سے اس طرح بھاگتے تھے جس طرح ہم زہریلے سانپ کو دیکھ کر بھاگتے ہیں ،وہ کبھی بھی نفسانی خواہشات کے اسیر نہیں ہوئے بلکہ ربانی خواہشات ونبوی تعلیمات کے غلام بن کر رہے ۔اللہ اور اس کے رسول ؐ کی مدح کے علاوہ کسی تعریف سننا انہیں گوارہ نہیں تھا ،وہ آپس میں ایک دوسرے کا حد درجہ احترام کرتے تھے مگر کبھی بھی کسی کی بھی بے جا تعریف نہیں کی ۔ہر ایک نے ایک دوسرے کا احترام ملحوظ رکھا اور غیاب میں ان کا ذکر خیر ہی کیا ،مذکورہ حدیث آپ نے ملاحظہ کی جس میںحضرت مقداد بن اسود ؓ نے کس طرح سے منہ پر تعریف کرنے والے کو روک دیا ، سب کے سامنے ٹوک دیا اور رسول اللہ ؐ کا ارشاد گرامی سناکر بتادیا کہ دنیا میں سب سے زیادہ عزیز آپ ؐ کا فرمان ہے اور س پر عمل کرنا سب سے زیادہ پسندیدہ ہے ،سیدنا عثمان غنی ؓ نے آپ ؐ کا ارشاد گرامی سن کر گردن جھکا لی اور زبان حال سے اپنے ساتھی کا شکریہ ادا کیا۔ ہمارے اسلاف واکابر ؒ کی تاریخ گواہ ہے ،انہوں نے کبھی بھی اپنی نہ تعریف پسند کی اور نہ تعریف کرنے والے کو پسند کیا ، ہمارے اکابر میں حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی ؒ، حضرت مولانا قاسم نانوتوی ؒ ،حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ اور دیگر اکابرین ؒ عمومی وخصوصی نشستوں میں کسی سے اپنی تعریف سننا گوارا نہیں کرتے تھے ،اگر سنتے تو فوراً اسے روک دیا کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ تعریف اس کی ہونی چاہیے جو عیبوں سے پاک ہے اور وہ ذات الٰہی ہے ۔اس کے بعد ذات اقدس ہے جس کی تعریف خود خدا نے کی ہے ،جو سب سے محترم ومکرم ہے اور رحمت بناکر بھیجا گیا ہے۔ راقم نے اپنے دادا قطب دکن حضرت مولانا شاہ محمد عبدالغفور قریشی ؒ کی کسی تحریر میں پڑھاہے کہ ان کے استاذ و مربی شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی ؒ شیخ الحدیث دارالعلوم دیوبندکے سامنے جب کوئی ان کی تعریف کرتا تو اس پر سخت خفا ہوتے تھے ،کبھی ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے مجلس سے اٹھ کر چلے جاتے تھے ،پھر منتظمین کے معذرت چاہنے پر واپس تشریف لاتے اور پھر اپنے بارے وہ جملے فرماتے جسے سن کر لوگ اشکبار ہوجاتے تھے ۔
ہمارا معاشرہ آج جہاں بہت سی روحانی واخلاقی امراض میں مبتلا ہے ،ان میں سے ایک یہ مرض بھی پایا جاتا ہے، جس میں عوام کے علاوہ بعض خواص بھی مبتلا ہیں، احادیث مبارکہ کے علاوہ ہمارے سامنے اسلاف امت اور اکابرین ملت کی زندگیاں ہیں کہ انہوں نے کس طرح بے جا تعریفوں سے اپنے آپ کو الگ کیا ،سلام ہو ان علماء اور دینی رہنما پر جو بر ملا اس فعل قبیح پر نکیر کرتے رہتے ہیں اور عاجزی وانکساری اختیار کرتے ہوئے دوسروں کے لئے نمونہ بنتے ہیں اور لوگوں کو اس کے نقصانات سے آگاہ کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ یہ دیگر روحانی امراض کی طرح ایک خطرناک بلکہ تباہ کن مرض ہے ،اس سے بچنا نہایت ضروری ہے ، لوگوں سے تعریف سننا نہیں بلکہ خدا کے یہاں تعریف کے قابل ہونا اور اس کی نظر میں عزت وعظمت پانا ہی حقیقی عزت ہے۔
����

تازہ ترین