اسلام کا مطلوب طالب علم

بے دار مشکلات سے نہیں ڈرتا

تاریخ    4 اپریل 2020 (00 : 01 AM)   


شاہد محی الدین
اللہ تعالی نے علم کی اہمیت و افادیت کو کچھ اس طرح بیان فرمایا ہے۔۔۔۔"اللہ تعالی تم میں سے ایمان والوں کا درجہ بلند کرتا ہے اور ان کے کئی درجات بلند کرتا ہے جن کو علم ملا ہے" ( المجادل?:۱۱)
نبوت اور کلام اللہ کی ابتدا لفظ " اقرا" سے ہوئی۔۔۔اور یوں اسلام میں علم کی اہمیت اور افادیت کا خلاصہ اسلام کے آغاز میں ہی سمجھایا گیا۔پتا چلا کہ اللہ کی دی ہوئی نعمتوں میں سے سب سے بڑی نعمت علم ہی کو قرار دیا جاسکتا ہے۔۔۔۔
علم ہر کسی قوم کی ترقی کے لیے ایک بنیادی محور ہوتا ہے۔ جب اللہ تعالی نے ایک انسان کو تخلیق کیا تو سب سے پہلے اس کو علم کی نور سے منور کیا گیا۔ علم کی وجہ سے ہی ایک انسان کو دنیا کے تمام مخلوقات پہ سبقت حاصل ہوئی۔ علم کو بنیاد بنا کر انسان نے کیسے کیسے حیران کن کارنامے انجام دیے اور اسی علم کی وجہ سے کیسے ہولناک فسادات رونما ہوئے۔ اسی علم کو مثبت طریقے سے استعمال میں لاکے ابن سینا ' جابر بن حیان ' البرٹ آئن سٹائن ' اور نیوٹن جیسے سائنس دانوں نے انسانیت کے لیے کیسی کیسی آسانیاں فراہم کیں۔ لیکن منفی انداز میں اسی علم کو استعمال میں لانے کے بعد ماو سی سنگ ' چنگیز خان ' جاسف سٹیلن اور ہٹلر نے انسانیت کو کیسے تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا۔ یہ ایک لمحہ فکریہ بھی ہے اور ازخود ایک المیہ بھی۔
اسلام کے آئینے میں علماء کی فضیلیت:-
علم حاصل کرنے کی تڑپ اور جذبے کو انسان کے اندر ابھارنے کے لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے علماء  کی فضیلت کچھ اس طرغ بیان فرمائی ہیں :-
علماء کی مثال ان ستاروں کی طرح ہے جن سے خشکی اور تری کے اندھیروں میں رہنمائی حاصل کی جاتی ہے۔ جب ستارے بے نور ہوجاتے ہیں تو اس بات کا امکان ہوتا ہے کہ راستہ چلنے والے بھٹک جائیں " ( مسند احمد)
علم اللہ کا ایک خاص صفت ہے جس کا کچھ حصہ انسان جیسے اشرف المخلوقات کی طرف منتقل کیا گیا۔ جو بھی انسان حصول علم کے لیے محو جدو جہد رہے اس کو طالب علم کہتے ہیں۔
ایک مشہور منقولہ ہے کہ" علم حاصل کرو ماں کی گود سے قبر کی آغوش تک"۔ ایک انسان زندگی کے آخری دم تک طالب علم ہی رہتا ہے۔ روز اس کو سیکھنے کے لیے نئے چیزیں ملتے رہتے ہیں۔ علم کی وجہ سے ہی روز نئی مثالیں رقم ہوتی ہیں۔ روز نئی بلندیوں کو چھونے کی نئی تاریخیں رقم کی جارہی ہیں۔ لیکن knowledge explosion کے باوجود بھی دنیا میں نئے فسادات اور تباہیوں کا اضافہ کیوں ہوتا جارہا ہے؟ کیوں انسانیت سوز مظالم روز ڈھائے جارہے ہیں ؟ کیوں حقوق نسواں اور آزادئی نسواں کے نام پر عورتوں کے حقوق سلب ہوتے جارہے ہیں ؟ ان تمام سوالوں کے جواب کے لیے اسلام نے مطلوب طالب علم کی چند خصوصیات بیان کیے ہیں جن کو اپنانے کے بعد انسان کے لئے زندگی پر امن اور پر مسرت ثابت ہوجائے گی اور آخرت کے لیے کامیابی کا ضامن۔?سب سے پہلے اس چیز کو دھیان میں رکھا جائے کہ علم کو اسلام میں فرضیت حاصل ہے اور اس کو پانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے۔کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ" علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت دونوں پر فرض ہے۔"
٭ہر مسلمان کو کم از کم اتنا علم ضرور حاصل کرنا چاہیے کہ اس کو حلال و حرام ' جائز و ناجائز 'صحیح اور غلط ' حق و باطل میں تمیز ہو سکے۔
٭ہمیشہ اس چیز کو دھیان میں رکھا جائے کہ اللہ تعالی کی رضامندی حاصل ہو سکے وگرنہ کتنی بھی تعلیم حاصل کی جائے سب بے کار ثابت ہو جائے گی اور یقینی طور پر جس انسان کے دل میں خوف خدا پیدا نہ ہو وہ ہر کوئی کام خود غرضی کے بنیادوں پر انجام دیتا ہے اور ازخود معاشرے میں فسادات رونما ہوتے ہیں۔۔۔
٭اسلام کے ہر ایک طالب علم کو چاہیے کہ ہمیشہ انقلابی ذہنیت کے ساتھ حصول علم کے لیے جہد مسلسل اور محنت شاقہ سے کام لیں۔ تاکہ جس طریقے سے ہمارے اسلافوں نے زندگی کے ہر میدان میں دنیا کو پر امن طریقے سے اپنے لپیٹ میں لے لیا تھا اسی طریقے سے عصر حاضر کا طالب علم دنیا کو اپنی آغوش میں لے کر شہادت علی الناس کا فریضہ انجام دے سکے۔۔۔۔
٭مطالعے کا رجحان بھی بہت وسیع ہونا چاہیے تاکہ طلاب حضرات قوی دلائل کے ساتھ اسلام کی دعوت کو آگے پہنچا سکے۔
٭ہمیشہ کبرو غرور کے بجائے علم حاصل کرتے وقت عاجزی اور انکساری پیدا کرنی چاہیے کیوں کہ ہم ابن آدم ہے نہ کہ ابن ابلیس۔۔۔۔مولانا روم نے کیا خوب فرمایا ہے۔۔۔۔کہ
شیطان نے اللہ کے حکم پر حضرت آدم کو سجدہ کرنے سے انکار کردیا بعد ازاں حضرت آدم کو ورغلا بہکا کر شجر ممنوعہ کا پھل کھانے پر آمادہ کر لیا۔
حضرت آدم سے غلطی کا ارتکاب ہوا۔ حضرت آدم نے غلطی کا اعتراف کرکے ایک عظیم مرتب حاصل کیا لیکن ایک ابلیس ہے کہ جس نے اتنے بڑے عالم اور عبادت گزار ہونے کے باوجود الٹا اللہ پر الزام تھوپ دیا اور اللہ سے مخاطب ہو کر کہا " بما اغویتنی" ( تو نے مجھے گمراہ کیوں کیا ) اور اپنے لیے ہمیشہ کے لیے گمراہی مول لی۔۔۔
٭مسلم طالب علم کو احساس ذمہ داری کا ہمیشہ خاص خیال رکھنا چاہیے تاکہ اسلام کی دعوت زبان کے بجائے دل سے نکل جائے۔ 
علامہ اقبال اسلام کے مطلوب طالب علم سے مخاطب ہو کر فرماتے ہیں:
سبق پھر پڑھ صداقت کا شجاعت کا عدالت کا
لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا
٭موجودہ دور میں احترام اساتذہ کا فقدان دنیا کے ہر کونے میں پایا جاتا ہے جس سے کہ علم حاصل کرنے کے باوجود لوگ جہالت کے اندھیاروں میں بھٹکتے پھرتے ہیں اور دنیا میں فسادات کا غیر معمولی اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔۔۔اسلام میں اساتذہ کے احترام کے حوالے سے ایک مثال ملاحظہ فرمائیں۔
حضرت علی جس کے بارے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا " میں علم کا شہر ہوں اور حضرت علی اس شہر کا دروازہ ہے " یوں فرماتے ہیں کہ جس سے میں نے ایک لفظ سیکھ لیا اس کا مجھ پر حق ہے کہ چاہے غلام بنا کر رکھے یا آزاد کرے۔
اقوام مغرب ہمارے ذہنوں میں ایسے شبہات اور گندے تصورات ڈالنے کی کوشش میں لگے ہیں جو انسان کو درندوں سے بھی پست مخلوقات بنا کے چھوڑ دیتے ہیں۔ان تصورات کو ترک کرنے کے بجائے پڑھ لینے کی ضرورت ہیں اور ان کی اصل صورت دنیا کے سامنے پیش کرنے کی ضرورت ہیں یہ تبھی ممکن ہو پائے گا جب ہم مثالی طالب علم کی حثیت سے اپنا فریضہ انجام دے سکیں۔۔۔۔جبھی ہم اسلام کے مطلوبہ علم کے اہل ہونگے۔۔۔ورنہ
تعلیم جو دی جاتی ہے وہ فقط بازاری ہے
 عقل سکھائی جاتی ہے وہ فقط سرکاری ہے
 
���
وانپورہ کولگام، کشمیر