لاک ڈاؤن کا فیصلہ کہیں اُلٹا نہ پڑجائے!

بین السطور

4 اپریل 2020 (00 : 01 AM)   
(      )

حنیف ترین
اس وقت دنیا کی سب سے خطرناک بیماری ’کورونا‘ سے لڑنے کے لیے کجریوال نے جواعلان کیا ،اس نے حکومت ہند کو نیند سے جگادیاہے۔ ویسے توانھوں نے اب تک جوبھی اعلانات کیے ہیں،اُن پر عمل درآمد ہوتے ہوئے ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھاہے۔ وزیرداخلہ امت شاہ نے ایک بار مہاتماگاندھی جی پربیان دیتے ہوئے انھیں ’چالاک بنیا‘کاخطاب دیاتھا۔اب ان سے عرض ہے کہ وہ کجریوال کو کس خطاب سے نوازیںگے؟ وہ آج پورے ملک میں ایک بے مثال منتظم اور بھارت ماتاکاایساسپاہی اورسپوت بن کراُبھرا ہے، جس پرنہ صرف دہلی والے جان چھڑکتے ہیںبلکہ اب توان کی قوت ارادی کالوہاپوری دنیا بھی مان رہی ہے اور ان کا بے حد احترام بھی کرتی ہے۔انھوںنے پچھلے 5سالوں میں دہلی میں کرکے دکھایاہے اور اب بھی کررہے ہیں۔ سب کویقین ہے کہ ان میں ملک اور ملک کے باسیوںکی اچھی طرح حفاظت کرنے کی پوری ہمت وطاقت ہے۔یہی وجہ ہے کہ ملک کی دیگرریاستیں بھی اب دہلی ماڈل کواپنے یہاں نافذکرناچاہتی ہیں۔ 
جہاں تک حکومت ہندکامعاملہ ہے تو اس نے ’کورونا‘ سے بچنے کے لیے محض4گھنٹے کا وقت دے کر پورے ہندوستان میں تالابندی کرادی۔ اس کے لیے  وزیر اعظم نریندرمودی قابل مبارک باد ہیں کہ ’دیرآیددرست آید‘ انھوںنے پارلیمنٹ کے اجلاس ختم ہونے کے بعد اور کجریوال کی این ڈی ٹی وی پرکی گئی تقریر کے بعد اماوس کی رات کاخیرمقدم کرتے ہوئے گذشتہ اتوار کو ’جنتا کرفیو‘کے طورپرلینے کاحکم صادر کردیا۔ لوگوں نےاُس اتوار کی شام کو تھالیاں اورتالیاں بجاکر اور جے ماتا اور وندے ماترم کے نعرے سے کوروناوائرس سے بچنے کاپیغام دیا۔اس میں بڑی تعداد میں آئی اے ایس اور آئی پی ایس افسروں نے بھی شرکت کی، جس کانظارہ ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے۔پورادیش مودی کے اس قدم سے بہت خوش ہے اورہم بھی بہت خوش ہیں جوانھوں نے ’کورونا‘ جیسی خطرناک وائرس سے ہمیں بچانے کے لیے انتظام کیا۔ 
’جنتاکرفیو‘کے بعداچانک پی ایم نے14اپریل تک پورے ملک میں ’لاک ڈاؤن‘ کااعلان کردیا اوریوں مرکزی حکومت کاپوراعملہ اس حکم پرعمل درآمد کرانے لیے جٹ گیا۔ مگر جلدبازی میں اٹھائے گئے اس قدم نے لوگوں کی بے انتہاپریشانیوںمیں ڈال دیاہے۔ٹی وی چینلس پر اس کا نظارہ دیکھ کر روح کانپ جاتی ہے۔ دہلی یوپی ہی کیا ہر ریاست میںلاکھوں ایسے لوگوں کی بھیڑدیکھی جارہی ہے جوایک ہفتہ گھروں میںبندرہنے کے بعدبھوک سے مرنے سے بچنے کے لیے اب اپنے گھروں،شہروں،قصبوں اور گاؤوں کی طرف پیدل ہی نکل کھڑے ہوئے ہیں۔ ان کے علاوہ سیکڑوں ایسے لوگ بھی ہیںجو دوسرے شہر یا ریاست میں کسی کام سے گئے تھے اوروہ وہاں بری طرح پھنس گئے ہیں۔ مودی نے یہ بات صدفیصد صحیح کہی تھی کہ جو جہاں ہے وہیں رہے کیوں کہ بیماری کاپھیلاؤ تبھی رک سکتاہے،جب لوگ ایک دوسرے سے فاصلہ پررہیں گے۔ یہی باتیں کجریوال نے اپنی 30تاریخ کے پیغام میں بھی کہی تھی۔ انھوںنے یہ بھی کہاتھا کہ جب ہزاروں لاکھوں لوگ ایک جگہ جمع ہوجائیں گے اوراگران میں سے چندکوبیماری ہوئی تویہ بیماری شہروں، قصبوں اور گاؤوں تک پھیلے گی۔
مودی جی کاپیغام پورے ملک نے قبول کرتے ہوئے اپنے اپنے حصے کاکام شروع بھی کردیاہے۔ میں خوداپنی پوری فیملی کے ساتھ اپنے علاقے کے غریب لوگوں تک پہنچنے کی کوشش کررہاہوں تاکہ کم سے کم ان کے لیے دووقت کی روٹی کاانتظام ہوسکے۔ میری تمام ہندوستانی بھائیوں سے یہ مؤدبانہ اپیل ہے کہ وہ اس برے وقت میں اپنے ہم وطنوں خاص کر غرباومساکین کی بھرپورمدد کریں تاکہ اس مصیبت میں آپ کے علاقے میں کوئی بھی بھوک یابیماری سے نہ مرے۔ اس کے ساتھ ساتھ کوروناوائرس سے بچاؤ کے جو طریقے بتائے گئے ہیں، اس پرخود بھی عمل پیراہوں اوردوسروں کوبھی بتائیں اوراگرکوئی کوروناکامریض کہیں آپ کے آس پاس ہوتو اس کی اطلاع حکومت کے ذمہ داران کودے کر کورونا کی لڑائی میں شامل ہوں۔حکومت سے بھی اپیل ہے کہ خدارا اسپتالوں میں یوز ہونے والے سامان کو مہیا کرائے۔ میڈیکل اسٹاف کی حفاظت کواپنی ترجیحات میںشامل کرے اوران کو کوروناسے خودکوبچانے کے لیے protective kitsمہیا کرائے۔ایسانہ ہو کہ اٹلی کی طرح یہاں بھی ڈاکٹروں اورمیڈیکل اسٹاف کی جانیں چلی جائیں۔ وزارتِ صحت سے متعلق ایسی خبریں مسلسل آرہی ہیں جس سے اس طرح کے خدشات کا پیداہونافطری ہے۔حکومت اس طرف سنجیدگی سے دھیان دے۔
کوروناوائرس سے ملک کی حالات بہت خراب ہوچکی ہے۔ لوگوں کی پریشانیاں آئے دن بڑھتی ہی جارہی ہیں۔ابھی ٹی وی چینل پرایک خبر دکھائی گئی ہے،جسے دیکھ کرانسانیت کانپ جاتی ہے۔ خبریہ ہے کہ کیرالہ اوربریلی میں پیدل ہی اپنے گھروں کے لیے نکل پڑے مجبوراورغریب لوگوں پرانفکشن کش دواؤں کا چھڑکاؤ کیاگیا، جس کی وجہ سے کئی لوگوں بیمارہوگئے اورانھیں اسپتال میں داخل کرایاگیا۔ بہار میں توحدہی ہوگئی جہاں اپنے گھروںکے لیے بھوکے پیاسے پیدل سڑک پرنکل پڑے لوگوںکو حوالات میں بندکردیا گیااور دوسری جگہوں پر انھیں سڑکوں اوربسوں میں مقیدکردیاگیا۔ اس طرح ان بے چاروں کوپیدل اپنے گاؤں جانے کی انسانیت سوزسزادی گئی۔
اخیرمیں ایک سوال ہے کہ ملک سے بہ بانگ دہل نعرے لگاکرخودکوہندوستانی بتانے اور اس سیکولر ملک کو زبردستی ہندو راشٹربنانے والے کہاں ہیں؟کہاں ہے وہ 60لاکھ سینا،جس کاذکر آرایس ایس والے جگہ جگہ کرتے پھرتے ہیں۔ اس وقت جب دیش سب سے بڑے سنکٹ میں ہے، مشکلات جھیل رہاہے ؟ کہاں ہیں نعرے بازاوربھگت؟ نہ کسی چینل پر ان کا مکھڑادکھ رہاہے، نہ کوئی بیان!
پورا ملک ساتھ مل کر’ کورونا‘اس جنگ کولڑے گا اورملک کے آئین وجمہوریت کوبچانے کے لیے اگر جان بھی دینی پڑی تو وہ بھی دے گا۔ 1857سے ہمارے ملک کی یہی تاریخ رہی ہے ۔اس بھائی چارے وقربانی میں اقلیتی و اکثریتی دونوںطبقہ ہمیشہ ساتھ رہاہے اوران شاء اللہ آگے بھی رہے گا!
   صدر’مرکزعالمی اردومجلس‘بٹلہ ہاؤس،جامعہ نگر،نئی دہلی25-
موبائل نمبر؛9971730422، ای میل؛tarinhanif@gmail.com
 

تازہ ترین