۔9 برس پہلے 28 سال بعد جب بھارت دوسری بار عالمی چمپئین بنا

3 اپریل 2020 (00 : 01 AM)   
(      )

 نئی دہلی؍کپتان مہندر سنگھ دھونی کی قیادت میں ہندستانی ٹیم نے دن نو سال پہلے 28 سال کی خشک سالی کا خاتمہ کرتے ہوئے سری لنکا کو شکست دے کرآج ہی کے دن عالمی کپ جیتا تھا۔ٹیم انڈیا نے 2011 آئی سی سی ورلڈ کپ کے فائنل میں سری لنکا کو انتہائی دلچسپ مقابلے میں چھ وکٹ سے شکست دے کر دوسری بار عالمی کپ اپنے نام کیا تھا۔ ممبئی میں ہوئے فائنل میں سری لنکا نے پہلی بیٹنگ کرتے ہوئے 50 اوور میں چھ وکٹ پر 274 رنز بنائے ۔ ہدف کا تعاقب کرنے اتری ہندستانی ٹیم نے 48.2 اوور میں چار وکٹ پر 277 رن بنا کر خطاب اپنے نام کیا۔اس خطاب کی تلاش ہندستانی ٹیم کے ساتھ ساتھ ملک کے عوام کو بھی برسوں سے تھی اور دھونی نے نوان کل شیکھر کی گیند پر چھکا لگا کر ہندستان کی عالمی کپ کے خطاب کے لئے جاری 28 سال کی خشک سالی کوختم کیا اور ٹیم کو عالمی فاتح بنا دیا۔یہ جیت ٹیم انڈیا کے ساتھ ساتھ ٹیم کے سب سے سینئر کھلاڑی رہے سچن تندولکر کے لئے بھی کافی اہم تھی۔ یہ ان کے کیریئر کا چھٹا اور آخری عالمی کپ تھا۔ فائنل میچ سچن کے گھریلو میدان ممبئی کے وانکھیڑے اسٹیڈیم میں ہوا تھا۔2011 ورلڈ کپ کا انعقاد ایشیا میں ہوا تھا اور ٹیم انڈیا نے ٹورنامنٹ کے آغاز سے ہی دکھا دیا تھا کہ وہ اس کی مضبوط دعویداروں میں سے ایک ہے ۔ ہندستان نے ٹورنامنٹ کے گروپ مرحلے ہی سے شاندار شروعات کی اور پہلے مقابلے میں بنگلہ دیش کو شکست دی۔ اس کے بعد ٹیم مسلسل جیت کی راہ پر بڑھتی رہی۔ اگرچہ اس کا انگلینڈ کے ساتھ میچ ٹائی رہا جبکہ اسے جنوبی افریقہ کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا لیکن ہندستان نے کوارٹر فائنل میں گزشتہ فاتح آسٹریلیا کو شکست دے کر اپنی مضبوطی کا احساس دلا دیا۔سیمی فائنل میں ہندستان کا مقابلہ روایتی حریف پاکستان سے تھا اور پورا ملک اس فائنل کی حیثیت سے دیکھ رہا تھا۔ یہ میچ موہالی میں منعقد کیا گیا اور اس میچ کو دیکھنے کے لئے ہندستان کے اس وقت کے وزیر اعظم منموہن سنگھ اور پاکستان کے اس وقت کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی بھی اسٹیڈیم میں موجود تھے ۔ہندستان نے سیمی فائنل میں پاکستان کو 29 رنز سے شکست دی اور اس کے ساتھ ہی فائنل میں جگہ یقینی کی۔ پاکستان عالمی کپ میں ہندستان کے ہاتھوں اپنی ہار کا سلسلہ نہیں توڑ سکا اور اس ہار کے ساتھ ہی اس کا سفر ٹورنامنٹ میں ختم ہو گیا۔فائنل میں سری لنکا کی جانب سے مہیلا جے وردھنے نے سب سے زیادہ ناقابل شکست 103 رنز بنائے اور اپنی ٹیم کو لڑنے کے قابل اسکور تک پہنچا دیا۔ ہدف کا تعاقب کرنے اتری ہندستانی ٹیم کی شروعات اچھی نہیں رہی اور اس کی سلامی جوڑی محض 31 کے اسکور پر پویلین چل دی۔ اس کے بعد گوتم گمبھیر نے پہلے وراٹ کوہلی اور اس کے بعد دھونی کے ساتھ مل کر اننگز کو سنبھالا اور ٹیم کو جیت کی دہلیز پر پہنچا دیا۔گمبھیر اگرچہ اپنی سنچری مکمل نہیں کر سکے اور 97 رن پر آؤٹ ہو گئے ۔ گمبھیر کے پویلین جانے کے میدان پر ٹورنامنٹ میں سب سے زیادہ رن بنانے والے یوراج سنگھ میدان پر اترے اور انہوں نے دھونی کے ساتھ مل کر ٹیم کو فتح دلائی۔جیت کے ساتھ ہی ٹیم انڈیا کے تمام کھلاڑی میدان میں آکر خوشی منانے لگے اور یوراج، ہربھجن سنگھ، سچن اور دھونی سمیت تمام کھلاڑی جذباتی ہو گئے ۔ ٹیم کے تمام کھلاڑیوں نے سچن کو کندھے پر اٹھا کر میدان کا چکر لگایا اور ناظرین کا سلام قبول کیا۔اس پل کو نو سال گزر چکے ہیں لیکن یہ اب بھی خواب جیسا لگتا ہے ۔ عالمی کپ ٹیم کے فاتح کھلاڑیوں نے اس دن کو یاد کیا۔ گمبھیر نے ٹویٹ کر کہاکہ عالمی کپ ہندستان نے ، ہندستان کے لئے اور ہندستان کے ساتھ مل کر جیتا تھا۔ہربھجن نے ٹویٹ کر کے کہا کہ 2011 عالمی کپ جیتنا۔ وہ بھی کیا دن تھا۔ یہ دن ہندستان کے لئے انتہائی فخر کا لمحہ تھا۔ 2011 سے پہلے ہندستان نے 1983 میں کپل دیو کی قیادت میں پہلی بار عالمی کپ جیتا تھا۔ اس کے بعد 2003 میں ٹیم کپتان سورو گنگولی کی قیادت میں فائنل تک پہنچی لیکن اس خطابی مقابلے میں آسٹریلیا کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔یو این آئی
 
 

تازہ ترین