کامل نظام حیات اور ضابطہ ٔ زندگی کہاں ہے؟

مادیت پرستوں کی اندھی تقلید گناہ اور تباہ کُن

3 اپریل 2020 (00 : 01 AM)   
(      )

ڈاکٹر رخسانہ رحیم
موجودہ ترقی یافتہ دنیا کی نگاہوںمیںتمام قدیم افکار و نظریات ایک قصہ بن کر رہ گئے ہیں اور اہلِ مغرب اقوام عالم کو یہ باور کرانے کی کوشش کررہے ہیں کہ انسان کی ترقی اور فلاح اسی میں پنہاں ہے کہ وہ قدیم تہذیب و تمدن کو پس و پشت ڈالے اور زمانے کے بدلے ہوئے اصول میں اپنے روشن و تابناک مستقبل کو تلاش کرے۔زمانے کی ہر نرم و گرم چیز کو قبول کرتا جائے اور دنیاوی جاہ و متاع کے حصول کے لئے اسلام کے چھوڑے ہوئے ورثہ کو نہایت بے دردی کے ساتھ خیر باد کہے۔اس بے بنیاد اور غلط نظریہ کے تحت اہلِ مغرب اور ان کے رنگ میں رنگنے والے لوگ، اسلام کے علمبرداروں اور اس کے نام لیوائوں کو جو اسلامی تہذیب و تمدن و ثقافت کو اپنے سینہ سے لگائے ہوئے ہیں اور اسے حرزِجاں بنائے ہوئے ہیںکوانسانی سوسایئٹی کے لئے ہمہ وقت ایک خطرہ سمجھ رہے ہیں اور اسلامی تہذیب و تمدن کو ایک جاہلانہ تصور خیال کرتے ہیں ، لوگوں کے دِلوں میں اس کے خلاف نفرت و عداوت کا بیج بوتے ہیں۔ اسلام سے رشتہ رکھنے والوں کو احمق ،جاہل اور قدامت پرست کے نام سے یاد کرتے ہیں ۔اہلِ مغرب کی یہ دریدہ ذہنی اور اسلام کے شیدائیوں کے خلاف اس پروپیگنڈے نے ان کے درمیان حقیقت کا ایسا لبادہ پہن لیا ہے جس سے نکل کر اسلام کے بارے میں کچھ سوچنا اور سمجھنا ان کے لئے مشکل ضرور ہو گیا ہے مگر قدرت کا نظارہ دیکھئے کہ ان تما م مخالف ہوائوں کے باوجود آج اسلام لوگوں کو اپنا گرویدہ بناتا جارہا ہے اور اسلام کی طرف لپکنے والوں کی تعداد خود ان کے لئے باعث تشویش بنتی جارہی ہے۔
اسلام کی حقیقت اور اس کی روح سے ناآشنا لوگ اکثر یہ سوال کرتے ہیں کہ دین متین کا وہ کونسا محور ہ ہے جو عام تہذیبی و تمدنی فلسفوں اور نظریات پر حاوی ہے ۔ادیان و ملل کا تقابلی مطالعہ کرنے والوں اورغیر جانبداری کے ساتھ مذاہب کا علم رکھنے والوں سے یہ حقیقت پوشیدہ نہیں ہے کہ مذہب اسلام کی تعلیمات ہی وہ تعلیمات ہیں جنہیں بقا ء و دوام حاصل ہے۔
اس تغیر پذیر دنیا میں جہاں ہر طرف تہذیب و تمدن ۔علم و ادب ،فکروفن اور انسانی ترقی کے جدید ترین مسائل کا چرچا ہے جہاں انسان انسان کے مقابلے میں اور حکومتوں کے مقابلے ایک دوسرے پر سبقت لیجانے کی کوشش میں مصروف ہیں وہیں انسان کی بیش قیمت زندگی کو مادیت پسندی کا سیلاب اپنے تیز دھارے میںانسانیت کی اعلیٰ قدروں کو بہا لے جانا چاہتا ہے ۔اخوت ،ہمدردی ،غمخواری و غمگساری ،بے لوث محبت اور الفت و شائستگی انسان کی عملی زندگی میں کوئی تعمیری کردار ادا کرنے سے قاصر ہے۔مادہ پرست تہذیب نے اس رجحان کو عام کرنے میں بڑا کردار ادا کیا ہے ۔اور مادی منفعت اور تہذیبی قدروں اور انسانی عظمت کے پیمانوں پر غالب کرنے کی سعی پیہم میں وہ پوری طرح مصروف ہے۔جن انسانی معاشروں نے اس تہذیب کو اپنالیا ہے اور بلا چوں چرا اس کے سامنے سر تسلیم خم کیا ہے وہی معاشرے سب سے پہلے اخلاقی زوال کا شکار ہوئے اور ان کی نمائندگی کرنے والے افراد میں حد درجہ انارکی اور اخلاقی کمزوری کے نمونے پائے گئے اور انسانی قدروں کے بجائے مادی منفعت پر قائم ہوئی۔
علامہ اقبالؒ نے اسی مادی تہذیب اور اس کے پیدا کردہ مسائل کا تجزیہ اپنی کتابThe Reconstruction of Religious Thoughts in Islamمیں کیا ہے اور مادیت زدہ طبقے اور اس کے علمبرداروں کی بے ثباتی اور ان کی اندی تقلید کا ذکر کرتے ہوئے اس کو اس قوم کے لئے جو قیادت اور عالمی انقلاب برپا کرنے کے لئے پیدا کی گئی تھی ایک ناقابل تلافی گناہ قرار دیا ہے ۔
ہمارے مشرقی ممالک میں خصوصاً برصغیر میں بسنے والے لوگ زیادہ تر احساسِ کمتری کے دبائو سے مغرب کی مادہ پرست تہذیب کو رشک کی نظر سے دیکھتے گئے اور آہستہ آہستہ اس کی نقل کا داعیہ دلوں میں پیدا ہوا ۔مادی وسایل کی فراوانی ،مال و دولت کی ریل پیل ،ٹیکنالوجی اور صنعت کی بے حساب ترقی اقوام مشرق کے لئے پیام ِ رحمت نہ ثابت ہوسکی بلکہ اس کے نتیجہ میں اخلاقی انحطاط شروع ہوگیا اور جن باتوں کو معاشرہ میں لوگ عیب سمجھتے تھے وہ ہنر قرار پاگئیںاور جن حالات کو اخلاقی بیماریوں سے تعبیر کرتے تھے ان کو غیر معمولی ذہانت کے نام سے یاد کیا جانے لگا ۔جہاں انصاف تھا ،وہاں ظلم ،جہاں ہمدردی تھی وہاں بے رخی ،جہاں محبت تھی وہاں دشمنی،جہاں نرم خوئی تھی وہاں درشتی اور سخت خوئی کا دور دورہ ہوگیا ۔اخلاقی زوال کے حد اربعیہ برابر پھیلتے رہے ،یہاں تک کہ غیبت،چغل خوری ،کذب بیانی ،رشوت ستانی ،تشدد،عداوت اور خیانت و چوری ناجائز طریقوںسے مال و دولت کمانے کی حرص ،یہ تمام برائیاں معمولات زندگی میں داخل ہوگئیں اور بُرائی کی علامت شمار کی جانے لگی۔اس مادیت پسند دور میں خود غرضی انسان کی ایسی مہیب صفت بن گئی ہے، جس سے ا نسانی عقل اور فہم و فراست زنگ آلودہ ہوجاتی ہے ۔جو شخص صرف اپنے فایدے کی سوچتا ہے اور صرف اپنا مطلب مدنظر رکھتے ہوئے انسانیت کے عظیم سبق اور ضروریات انسان سے نظریں چراتا ہے ۔در حقیقت خود غرضی کے عالم میں وہ یہ محسوس کرتا ہے کہ زندہ رہنے کا حق صرف اور صرف میرا ہے ۔زندگی گزارنے کے لئے از حدضروری ہے کہ انسان زندگی کے نشیب و فراز میں ایک دوسرے کے کام آئے ہیں ،یہی زندگی کا مقصد ہے جو انسان خود غرضی کے عالم میں صرف اپنی ذات تک محدود رہتا ہے وہ بالآخر ناکامی او ر نامرادی کا شکار ہوجاتا ہے ۔اس حقیقت سے پردہ اُٹھاتے ہوئے حضرت سلیمانؑ فرماتے ہیں:’’انسان کسی کی فریاد سن کر اپنے کان بند رکھتا ہے تو جب ایسا خود غرض انسان کسی کے سامنے فریاد کرتا ہے تو اُس کی فریاد پر بھی کوئی کان نہیں دھرتا ۔کیونکہ وہ اپنے وقت پہ خود غرض بن جاتاہے لہٰذا اس وقت ساری دنیاخود غرض بن کر اسے خود غرضی کا مزہ چکھاتی ہے ۔‘‘حضرت سلیمانؑ خود غرضی کے جذبات کو دفن کرنے کی تلقین کرتے ہوئے مزید فرماتے ہیں:’’اے انسان تو اپنے آپ کو زیادہ عقلمند نہ سمجھ کہ عقلمندی کی بناء پر تو خود غرضی کاثبوت پیش کرے ،پھر جب تو مشکلات کا شکار ہوجائے گا تو اس وقت تمہاری دانشمندی اور عقلمندی کام نہیں آسکتی۔‘‘
خود غرضی درحقیقت ایک قید خانہ ہے جس میں قید و بند رہ کر انسان زندگی کے فوائد سے محروم رہتا ہے۔ اس نقطے کی وضاحت کرتے ہوئے مشہور حکیم جالینوس لکھتے ہیں:’’خود غرضی ایک ایسا قید خانہ ہے جو انسان کی روح کوقید کرتا ہے ۔اس خود غرضی کے عالم میں انسان پاگل بن جاتا ہے ۔خودغرض انسان مردہ ہوتا ہے اور خودغرضی کے عالم میں انسان کے اوصاف حمیدہ اور بہترین عادات و اطوار اس طرح غائب ہوجاتے ہیں جس طرح ایک بڑے سمندر میں چھوٹی چھوٹی ندیاں غائب ہوجاتی ہیں۔‘‘
موجودہ دور سائنس اور ٹیکنالوجی کا دور ہے ۔انسانی معاشرہ میں مختلف قسم کے علوم و فنون رائج ہیں ۔زندگی زبردست انقلاب کا محور بن گیا ہے ۔ذرائع ابلاغ نے تو غیر معمولی اہمیت حاصل کرلی ہے اور پوری دنیا کو ایک چھوٹے سے گائوں میں سمٹ دیا گیا ہے۔لیکن اس کے باوجود دنیا کے پاس کوئی ایسا کامل نظام حیات اور ضابطۂ زندگی نہیں جو انسان کو مثالی انسان بنائے۔صورت حال اتنی دگر گوں ہے کہ انسانی اقدار اور اعلیٰ طرزِ حیات زوال پذیر ہیں۔ذاتی نفع اندوزی ،مصلحت کوشی اور منافع و مفادات کا دور دورہ ہے ۔دورِ حاضر کا انسان تمام حدود و قیود سے آزاد ہوگیا ہے ۔بے حیائی اس کا وطیرہ بن گئی ہے ۔انسانی فضایل و مکارم کے خلاف وہ برسر پیکار ہے ۔خون آشام جنگیں بنایے حیات کو تہہ و بالا کررہی ہیں۔تعلقات انسانی کو گھن لگ گیا ہے ۔اخلاقی تربیت کے حلقے اپنی غیر معمولی افادیت کا ثبوت پیش نہیں کرپارہے ہیں ،اگر موجودہ صورت حال کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ زمانۂ جاہلیت پھر عود کر آیا ہے ۔
تاریخ نے اپنی ڈائریکٹری میں ایسے واقعات و شواہد ریکارڈ کئے ہیں جو انسانیت کے لئے باعث ننگ و عار ہیں ۔عالم انسانیت کی تہذیبوں کا یہ حال ہے کہ وہ خود اخلاق و شرافت کا جنازہ نکال رہی ہے ۔محبت و مودت ،عزت و حشمت کے تمام لباسوں کو تار تار کررہی ہیں ۔ان تہذیبوں نے انسان کو ایسا خود غرض اور مفادات پرست بنایا ہے کہ وہ بظاہر معاملات کی انجام دہی میں اخلاص و ایثار کا نمونہ بن کر سامنے آتا ہے لیکن باطن میں عداوت و دشمنی کا بیج اپنا کام کرتا دکھائی دیتا ہے ۔یہ بات صرف افراد کے ساتھ نہیں ہے بلکہ قومیں اور جماعتیں بھی اس کے نشانے پر رہی ہیں۔
شاعر مشرق علامہ اقبالؒنے اپنی نظم ’’ابلیس کا پیغام اپنے فرزندوں کے نام‘‘میں مسلمانوں پر مغرب کی طرف سے ہونے والے طوفانی یلغار سے جس طرح خبردار کیا ہے اور موجودہ حالات کی کتنی اچھی ترجمانی کی ہے ۔ابلیس اپنے سیاسی چیلوں سے کہتا ہے:
فکر عرب کو دے کے فرنگی تخلیلات 
اسلام کو حجاز و یمن سے نکال دو
وہ فاقہ کش کہ موت سے ڈرتا نہیں ذرا 
روح ِ محمدؐ اس کے بدن سے نکال دو 
روس کے سقوط کے بعد آج امریکہ دنیا کی سب سے بری عصبیت بن گیا ہے یعنی عصبیت پر قائم ایک ایسی حکومت ہے جو دنیا پر اپنی عصبیت کا سکہ نافذ کررہی ہے ۔گزشتہ صدی اور خصوصاً 21ویں صدی کے پہلے دہے میںدنیا میں رونما ہونے والے بیشتر واقعات ،سب انہیں طاقتور اور خصوصاً امریکی عصبیت کی چالبازیوں کا نتیجہ معلوم ہوتے ہیں۔یہ بات بالکل صحیح ہے کہ مسلمانوں کی بربادیوں کے مشورے دنیا کی بڑی بڑی طاقتوں کے اونچے اونچے ایوانوں اور سفید گھروں میں ہورہے ہیں ۔تفریح اور موج مستی مغرب کی بڑی صنعتوں میں سے ایک ہے ۔اس لئے ضروری ہے کہ ترقی کے جعلی تصور کو برقرار رکھا جائے کہ حالات چاہے جیسے بھی آئیں ہمارے لئے اس میں بہتری ہے اور ہمیں مشکلات کے باوجود اس کو برداشت کرنے کی سعی کرنی چاہئے۔اپنی خوشی ،لذت اور دنیاوی لوازمات کی تلاش لوگوں کے اذہان پر حاوی ہوچکی ہیجب کہ دوسری طرف لوگ قتل ہورہے ہیں ،ذبح ہورہے ہیں ،عورتوں کی عزتین پامال ہورہی ہیں ،معصوم بچوں اور نومولود کو بھی بخشا نہیں جارہا ہے ۔بوڑھوں کو نو عمر لڑکے ضربیں دے رہے ہیں ۔اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ بقول سید ابو الحسن علی ندوی:’’حکومت کرنے والوں ،سیاست دانوں ،دانشوروں ،عالموں ،شاعروں ،فلسفیوں ،مفکروں اور ادیبوں کو ترازو ہی کی طرح منصف ہونا چاہئے ۔امریکہ میں انصاف ہوتا تو اسرائیل کا خنجر عربوں کے سینہ میں نہ گھونپا جاتا ۔برطانیہ میں انصاف ہوتا تو برسوں ہندوستان کوغلام نہ رہنا پڑتا۔نہ نو آبادیاتی نظام دنیا میں قائم ہوتانہ فسادات ہوتے ،شکایتیں ،اسٹرائیکس اور مظاہرے بھی نہ ہوتے ۔الغرض اس وقت زمانہ صاحب کردار اور باشعور مسلمان کا منتظر ہے ۔جس کی رگوں میں اخلاص کی روح جاری و ساری ہو ،اسلامی تعلیمات سے لبریز اور پیکر شناس ہو ،شخصیت و کردار او ایمانی فدا کاریوں کے نمونے پیش کرنے والا ہو۔
٭٭٭٭٭
 
 
 

تازہ ترین