خلقِ عظیم

خوش خلقی پیدا کرنے سے ایمان مکمل ہوتا ہے

3 اپریل 2020 (00 : 01 AM)   
(      )

محمد صلاح الدین/عبدالعزیز
انسان اللہ تعالیٰ کی تخلیق کا شاہکار ہے، اسے احسن تقویم پر پیدا کیا گیا، اس کے جسد خاکی میں اس کے خالق نے خود اپنی روح پھونکی، اس کے وجود پر اپنی لامحدود صفات کا ایک ہلکا سا پرتو ڈالا اور اسے مظہر صفاتِ الٰہی بنایا۔ اسے وہ علم عطا کیا جو فرشتوں کو بھی حاصل نہ تھا، اسے اشرف المخلوقات قرار دے کر فرشتوں سے سجدہ کرایا اور ان سے عظمت آدم تسلیم کرائی گئی، اسے جنت کی ناقابل تصور راحتوں اور نعمتوں سے نوازا گیا اور پھر زمین سے آسمان تک پھیلی ہوئی وسیع بزم کائنات سجاکر اور زمین کو بھی نہ ختم ہونے والے سامانِ زیست کے خزانوں سے بھر کر اسے خلیفۃ اللہ کے عظیم منصب پر فائز کرکے یہاں بھیجا گیا۔ یہ عظمت و رفعت بلا امتیازِ مذہب و ملت ہر انسان کو محض انسان ہونے کی بنا پر حاصل ہے۔ 
اس گروہِ انسانی میں بعض نفوس قدسیہ کو خلافت کے علاوہ ایک اضافی اور خصوصی منصب نبوت کا عطا ہوا جس نے انھیں دوسرے لوگوں کی نسبت بلند تر درجے پر فائز کردیا۔ اس خصوصی گروہِ انبیائؑ میں اللہ تعالیٰ نے صرف ایک ہستی کو منتخب کرکے اسے خاتم النّبیین اور رحمۃ للعالمین قرار دے کر اور وَ اِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیْم کی سند جاری کرکے ازل سے ابد تک آنے والے پورے عالم انسانیت میں بلند مقام پر فائز کردیا، اس پر خود درود بھیجا، فرشتوں کی ڈیوٹی لگا دی گئی کہ اس عظیم ہستی پر مسلسل درود بھیجتے رہو، اور مسلمانوں کو بتا دیا گیا کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجے بغیر تمہاری نماز مکمل ہوگی نہ قابل قبول، اور قیامت تک کیلئے اعلان کر دیا گیا کہ اب نسل انسانی میں سے جس کو ہدایت و رہنمائی حاصل کرنی ہے وہ حضرت محمدؐ کے اسوۂ حسنہ کی پیروی کرے اور ہر طرف سے منہ موڑ کر صرف اسی نمونۂ کامل کی طرف دیکھے۔ 
حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ مقام و مرتبہ کیوں عطا ہوا؟ اس سوال پر غور کیا جائے اور قرآن کریم میں اس کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کی جائے تو ایک ہی بات سامنے آتی ہے اور وہ یہ کہ حضورؐ نے کارِ نبوت کی تکمیل فرمائی ہے اور یہ کارِ نبوت تھا تکمیل اخلاق۔ 
انسان اپنے طبعی وجود میں دوسری ذی حیات مخلوق سے مختلف نہیں۔ اس کا جبلّی کردار حیوانات کے جبلی کردار کی طرح خودکار اور احتیاجات، جذبات و عواطف اور احساسات و میلانات کے لحاظ سے یکساں ہے، اسے جو چیز حیوانات کی سطح سے اوپر اٹھاتی اور اشرف المخلوقات کی بلندی تک پہنچاتی ہے وہ اس کا اخلاقی کردار ہے۔ انبیاء کرامؑ اسی اخلاقی کردار کی تعمیر و تشکیل کیلئے بھیجے گئے، کتابیں اسی مقصد کیلئے اتاری گئیں، حکمت اور میزان (شعورِ خیر و شر) کا نزول اسی غرض سے ہوا، انسان نے اخلاق کا پہلا درس خود اپنے خالق و مالک سے حاصل کیا۔ تخلیق آدم کے بعد تعلیم آدم کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا گیا: ’’اور اللہ نے آدم کو ساری چیزوں کے نام سکھائے‘‘۔ (بقرہ: 31) 
یہاں نام سکھانے کے مفہوم میں اشیاء کے خواص، نافع و مضر پہلو، استعمال کے طریقے اور ان کے ساتھ انسان کے تعلق و رویہ کی نوعیت سب شامل ہیں اور لفظ کُلَّہَا سے صاف پتہ چلتا ہے کہ یہ علم کامل تھا، ادھورا نہیں۔ انسان کو اس دنیا میں زندگی کے آغاز کیلئے اور بحیثیت خلیفہ اپنے مشن کی تکمیل کیلئے جتنے علم کی ضرورت تھی وہ العلیم نے اپنے لامحدود علم سے بقدر ضرورت اسے مہیا کر دیا، گویا جو انسان کا خالق ہے وہی اس کا معلم اول بھی ہے اور پھر اس کی بارگاہ سے علم و اخلاق کا خزانہ لے کر اس دنیا میں جو پہلا انسان بھیجا گیا وہ یہاں اپنی اور آئندہ نسل کی تعلیم و تربیت پر مامور کرکے انسانیت کا معلم اول بنایا گیا۔ اس کے بعد جتنے انبیائؑ انسان کی ہدایت و رہنمائی کیلئے مبعوث کئے گئے وہ درحقیقت سب کے سب معلم اخلاق ہی تھے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مشن کی وضاحت خود ان الفاظ میں بیان فرمائی: ’’مجھے معلم بناکر بھیجا گیا‘‘۔ 
اور پھر اس معلم انسانیت نے اپنی تعلیم کا اصل مقصد بیان کرتے ہوئے فرمایا: ’’میں مکارم اخلاق کی تکمیل کیلئے بھیجا گیا ہوں‘‘ ۔
ان دونوں احادیث کو باہم مربوط کرکے دیکھا جائے تو صاف محسوس ہوتا ہے کہ علم کا اصل مقصود اخلاق ہے۔ اخلاق مطلوب ہے اور علم اس کا ذریعہ۔ معلم کا کام محض انتقالِ علم نہیں، تشکیل اخلاق ہے۔ اب یہ ظاہر ہے کہ کسی بھی کام کی تکمیل کیلئے خود اس میں کامل ہونا ایک لازمی شرط ہے۔ کمال کے بغیر تکمیل کا تصور محال ہے۔ حضورِ اکرمؐ کو یہ کمال کس درجہ میں حاصل تھا اس کا اندازہ خالق کمال کی جاری کردہ اس سند سے ہوجاتا ہے کہ ’’اور بے شک اے محمدؐ! تم اخلاق کے بلند ترین مرتبے پر فائز ہو‘‘۔ 
یہ اخلاق جس کے بلند ترین مرتبے پر فائز ہونے کی سند جاری کی جارہی ہے، ہے کیا شئے؟ علم و عمل کی مکمل یکجائی اور قول و فعل کی ایسی کامل ہم آہنگی جس میں علم کا عمل سے اور قول کا فعل سے کوئی فاصلہ نہ ہو۔ خارجی اعمال کا قلب و ضمیر کی داخلی زندگی سے کہیں ٹکراؤ نہ ہو۔ شخصیت مربوط و منظم ہو، منتشر نہ ہو۔ 
اس نوعیت کی اخلاقی زندگی کیلئے علم کا درست ہونا ضروری ہے۔ اگر علم کی بجائے کوئی شخصیت محض ظن و گمان پر مبنی جہل کو اپنے اعمال کی بنیاد بنا بیٹھے اور اس کے اندر قول و فعل کی یکجائی بھی موجود ہو تو ہم اس کے کردار کو اخلاقی کردار قرار نہیں دے سکتے کیونکہ قول بجائے خود ناقص اور جہل پر مبنی ہے، اس سے مربوط و منسلک اعمال اخلاق کا مظہر نہیں ہوسکتے اور نہ معیارِ اخلاق بن سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کو جو اخلاقی کردار مطلوب ہے وہ اسی علم پر مبنی ہونا چاہئے جو خود اس کا عطا کردہ ہے جسے وہ علم قرار دے وہی علم ہے اور جسے وہ جہل قرار دے وہ سراسر جہل ہے۔ 
اب سوال پر غور کیجئے کہ تکمیل اخلاق سے کیا مراد ہے؟ کیا سابق انبیاء علیہم السلام تعمیر اخلاق کے مشن میں ناکام رہے تھے؟ کیا ان کا اپنا اخلاقی کردار کاملیت کے درجے پر پورا نہیں اترتا تھا؟ معاذاللہ؛ ایسی کوئی بات نہ تھی۔ قرآن تو تمام انبیاء کو نہ صرف کامیاب قرار دیتا ہے بلکہ ان کے درمیان فرق قایم کرنے کی ممانعت کرتا ہے: ’’ہم اللہ کے رسولوں کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کرتے‘‘۔ 
جب انبیائؑ کے درمیان کوئی فرق نہیں تو پھر خلق عظیم کی سند جاری کرکے یہ فرق کیوں قایم کیا گیا ہے؟ کیا نعوذباللہ پچھلے انبیاء اخلاق کے معاملہ میں کسی بھی درجے میں کمزور تھے؟ قرآن تو انھیں اپنے دور کا بہترین انسان قرار دیتا ہے، پھر اس فرق کی اصل حقیقت کیا ہے؟ 
اس فرق کو ایک مثال سے سمجھنے کی کوشش کیجئے۔ ہمارا مروجہ نظام تعلیم پرائمری کی ابتدائی جماعتوں سے لے کر یونیورسٹی کے اعلیٰ سطح تک مختلف درجات میں عموداً پھیلا ہوا ہے۔ اس کے مختلف درجات میں تعلیم دینے والے معلّمین اپنی اپنی جگہ علم اور اخلاق کے لحاظ سے بہترین کردار کے مالک ہیں۔ ان سب کی تعلیم اور طریقۂ کار بنیادی طور پر یکساں ہیں۔ جو حقائق ابتدائی جماعتوں میں بچوں کے فہم و شعور کی سطح کے مطابق ذہن نشین کرائے جاتے ہیں وہی اگلی جماعتوں میں علم کی وسعت اور شعور کی بلوغت کے لحاظ سے بتدریج پھیلتے اور واضح ہوتے جاتے ہیں۔ نظام اخلاق جن اقدار و عقائد پر مشتمل ہے وہی آخری درجات تک سیرت و کردار کی تشکیل کا ذریعہ بنے رہتے ہیں۔ تعلیم کے کسی بھی مرحلے پر ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ معلم نے کسی بھی درجے میں ضروری علم پہنچانے میں کوئی کوتاہی کی ہے، ہم کسی بھی درجے کے معلم کو کمتر قرار نہیں دے سکتے کیونکہ وہ سب تعلیم و تربیت ہی کا فریضہ انجام دیتے رہے ہیں، لیکن ہم یونیورسٹی کی سطح پر تحقیق و تکمیل کے اس مرحلے سے قبل کسی بھی درجے کی تعلیم کو مکمل نہیں کہہ سکتے جو متعلّم کو اس قابل بنا دیتی ہے کہ اب وہ رسمی تعلیم کے تمام سہاروں سے بے نیاز ہوکر خود اپنی صلاحیت اور مطالعہ و تحقیق کے بل پر سلسلۂ تعلیم تا حیات جاری رکھ سکے۔ 
یہی صورت اللہ تعالیٰ کے اس نظام تعلیم و تربیت میں نظر آتی ہے جو انسان کو ایک اخلاقی وجود بنانے کیلئے مرتب کیا گیا۔ حضرت آدم علیہ السلام کو انسانیت کے عہد شیر خوارگی میں اس کی تعلیم و تربیت کیلئے جس مقدارِ علم کی ضرورت تھی وہ انھیں ان کے رب نے مہیا کردی۔ انھیں زندگی کے بنیادی حقائق، اس کے مقصد اور معروف ومنکر کی صورت میں اخلاقی اقدار سے آگاہ کردیا گیا۔ اب یہ ظاہر ہے کہ انسانیت کو اور اس کے ارد گرد پھیلی ہوئی وسیع دنیا کو اسی عہد شیر خوارگی تک محدود نہیں رہنا تھا۔ نمو اور ارتقاء کا سلسلہ جاری رہا۔ انسانیت اپنے عہد طفولیت اور بلوغت کے مختلف مراحل طے کرتی ہوئی آگے بڑھتی رہی۔ علم و شعور کی بڑھتی ہوئی اور خدا کی بخشی ہوئی مختلف قوتوں اور صلاحیتوں کے ذریعہ وہ اپنی دنیا کی تعمیر نو کرتی گئی۔ ارتقاء کے مختلف درجات میں اسے نت نئے اور پیچیدہ مسائل سے دوچار ہونا پڑا۔ ان مختلف درجات میں اس کی تعلیم و تربیت کیلئے اضافی علم کے ساتھ انبیاء مبعوث کئے جاتے رہے۔ اللہ تعالیٰ انسان کی ضرورت کے مطابق اسے علم و رہنمائی فراہم کرتا رہا۔ یوں انسانیت اپنی تعلیم و تربیت کے مختلف مراحل سے گزرتی ہوئی تکمیل تعلیم اور پختگی شعور کی اس سطح تک پہنچی جہاں آکر اعلان کر دیا گیا: ’’آج ہم نے تمہارے دین کو تمہارے لئے مکمل کردیا اور اپنی نعمت تم پر تمام کردی اور تمہارے لئے اسلام کو تمہارے دین کی حیثیت سے قبول کرلیا‘‘۔ 
گویا ایک طرف آخری معلم کو خلق عظیم کی سند جاری کرکے اس کے مشن کی تکمیل پر اظہار کیا گیا اور دوسری طرف متعلّم یعنی انسان کو اس تعلیم کی تکمیل پر سند فراغت جاری کر دی گئی جس کا آغاز حضرت آدمؑ کے ابتدائی مدرسۂ تعلیم سے ہوا تھا۔ دین کی یہ نعمت جزواً جزواً مختلف انبیائے کرامؑ کے ذریعہ اتاری گئی اور نبی آخر الزماںصلی اللہ علیہ وسلم پر اس کو مکمل کردیا گیا۔
ای میل؛azizabdul03@gmail.com
موبائل نمبر؛9831439068
 

تازہ ترین