عصر حاضر کامسلمان ؟

اللہ سے ناطہ ڈھیلا پڑا ہے

3 اپریل 2020 (00 : 01 AM)   
(      )

ماجد قریشی
اسلام ایک مضبوط ،ٹھوس ،معقول آسمانی ضابطہ ٔ عمل اور نظام حیات ہے جو بنی نوع انسان کو زندگی گزارنے کے لئے خالق کائنات کی طرف سے عطا کیا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے یہ نظام وقتاً فوقتاً اپنے مخصوص عالی مرتبہ (نفوس قدسیہ) کے ذریعہ پھیلایا جن کو اسلامی اصطلاح میں حضرات انبیا ء علیہم السلام کہا جاتا ہے۔
اس کے تین ثیق ہیں:عقائد ،احکام اور اخلاق وآداب۔
عقائد: اللہ تعالیٰ پر ایمان ۔ وہ اس س ساری کائنات کا واحد مالک اور خالق ہے ،جس کا بہت کم حصہ ہمارے مشاہدہ میں ہے اور بیشتر حصہ ہمارے مشاہدے سے ماوراء ہے(وسیع کرسیہُ السمٰوات و الارَض)وہ ہر حال میں ہر جگہ حاضر و ناظر ہے۔اس کے ساتھ انبیاء کرام،فرشتے ،تقدیر جزاء و سزا کے دن پر پورا پورا یقین رکھنا  وغیرہ۔
احکام : زندگی گزارنے کے قوانین کیا ہیں۔معاملات ،معاشرتی مسائل ،تعلق باللہ،تعلق با لعباد ،تعلق با النفس وغیرہ، سب اس میں بیان ہوئے ہیں۔ان احکام کو آخری اور دائمی شکل سرور کائنات نبی اخر الزمان جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ میں دی گئی ،ا س قانون حیات کو شریعت کہا جاتا ہے ۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’آج میں نے آپ کی شریعت ِدین کی تکمیل کی اور میں نے آپ پر اپنی نعمت پوری کردی۔‘‘
اخلاق و آداب: اللہ تعالیٰ نے انسان تمام مخلوقات میں زیادہ خوبصورت اور بہترین ساخت میں پیدا کیا اور اس کے ساتھ ساتھ اس کو عقل ،فہم و فراست ،قوت نطق بیان فرمایا : بے شک ہم نے انسان کو بہتر ،خوبصورت ساخت میں پیدا کیا (سورہ والتین؛پارہ۔۳۰)’’بے شک ہم نے انسان کو عزت دی ،(واضح رہے یہاں بنی نوع انسان مقصد ہے کہ چاہے اس کا رنگ کیا ہو ،نسل کیا ہو ،مذہب کیا ،اولادِ آدم واجب الاحترام ہے)اللہ رحمان ہے اس کی رحمت عام ہے ،اُس نے انسان کو پڑھنا سکھایا ہے یعنی اس کو قوت بخشی ،اس نے انسان کو پیدا کیا اور اُس کو بیان کلام کرنا سکھایا یعنی اس طاقت عطا کی‘‘۔
اس لئے اللہ کا منشا ہے انسان کے اوصاف ،اخلاق اور آداب ،اللہ کے اوصاف اورخالق کے آئینہ دار ہوں جیساکہ حضور اکرم علیہ السلام نے ارشاد فرمایا:اپنے اندر اللہ کے اخلاق پیدا کرو ۔چنانچہ حضور علیہ ولسلام کو ان اخلاق ِ حمیدہ او اوصاف جمیلہ کی تعلیم دی گئی ۔آپ نے بندگان خدا کو اللہ کے حکم سے یہ اخلاق سکھائے ،آپ ؐ نے اُمت کو توحید ،خدا شناسی ،خدا ترسی ،احترام آدمیت ،صداقت ،انسان دوستی ،عفت ،رحمت ،محنت ،معقولیت ،شجاعت ،فتوت ،سخاوت ،نجابت ،دیانت ،بردباری ،سنجیدگی،عدل و انصاف ،وفاداری ،نمک حلالی ،ستر پوشی ،اکلِ حلال ۔صدقِ حقال و دیگر اوصاف ِ حمیدہ کی تعلیم دی اور عملاً سکھائی۔
یہ دین ،یہ نظام حیات اور ضابطہ ٔ عمل سب آسمانی ہے ،اس میں کوئی فتور ،کوئی نقص نہیں ہے ۔اسی طرح اس کے بنائے ہوئے دین میں بھی کوئی فتور ،کوئی تفاوت نہیں۔جو اس نظام عمل پر مکمل ایمان او ایقان کے ساتھ عمل پیرا ہوگا، وہ انفرادی سطح پراور اجتماعی سطح پر بھی دنیا میں کامیاب و کامرن ہوگااور آخرت میں بھی۔اس کے عملی ثبوت تاریخ اسلام میں واضح طور پر موجود ہیں۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس مضبوط نظام اور ضابطۂ عمل کے ہوتے ہوئے دورِ حاضر میں مسلمان کیونکرہر جگہ پریشانی،آلام اور قتل و غارت گری میں مبتلا ہے۔نہ کو ئی اس کی مدد کرتا ہے اور نہ کوئی اس کی بات سُنتا ہے۔جواب واضح ہے کہ کسی بھی طالب علم کو تب ہی نمبرات دئے جاتے ہیں جب کورس کے مطابق امتحانی سولات کا جواب دے دئے ہوں گے ،مزدور کو تب اُجرت دی جاتی ہے جب وہ مالک کے کہنے کے مطابق مزدوری کرے گا اور کام تسلی بخش طریقے پر انجام دے دے گا۔
یہی حال دورِ حاضر میں مسلمان کا ہے ۔وہ مالک کے فرمان کے مطابق نہ کام کرتا ہے نہ اس کو مالک کی ذات پر مکمل یقین ہے اورنہ اُس سے محاسبہ کا یقین ہے ۔اس لئے اُس کا اللہ کی مقدس ذات کے ساتھ اپنا ناطہ یعنی عبودیت کا تعلق ڈھیلا پڑا ہوا ہے ۔جناب سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے نظام عمل پر عمل پیرا نہ ہونے کی وجہ سے وہ دور پڑاہے ،لہٰذا قصر مذلت میں گِر ا ہوا ہے۔اللہ پاک نے فرمایاہے:ثم رَدنہ اسفل سافلین۔دور حاضر میں مسلمان ملکوں کی تعداد کافی ہے اور اُن کے پاس ذرائع آمدن بھی ہیں مگر اُن میں کہیں بھی وہ نظام موجود ہی نہیں جو مضبوط نظام ِ عمل سرور کائناتؐ لے کر آئے ہیں۔جس نے دنیا میں صالح انقلاب لایا ،لاکھوں میلوں پر پھیلی ہوئی مملکت بخشی ،پھر رفتارِ زمانہ کے ساتھ مشرق و مغرب اور شمال و جنوب میں سایہ فگن ہوئی اور اس میں ایسا نظام عدل قائم ہوا کہ دنیا کے لوگ اس پر فریفتہ ہوگئے۔۔۔۔۔پھرجب ا س کو آنکھ لگ گئی تونفس پرست لوگوں نے مذہب کا جامہ پہنا ۔سامراج اوراسلام دشمن طاقتوں کے اشاروں پر چلنے لگے ،مسلمانوں میں تفرقہ ڈالا،جس سے آہستہ آہستہ تقویٰ ،کردار ،خدا پرستی کے جذبات ،حبِ خدا ،حبِ رسولؐ اور دین کے ساتھ لگائو مسلمانوں سے چھِن گیااورنتیجہ یہ نکلا جو اس وقت ہمارے مشاہدے میں ہے۔
علاج: دور حاضر کے نوجوان نسل کا خیال ہے کہ طاقت سے ہی اسلام کی شان واپس لوٹائی جائے گی ۔کیا صحیح ہے ؟میرا خیال ہے کہ اسلام اللہ پاک کا دین ہے جو ہمیشہ بلند تر رہے گا ۔مسلمانوں کی شان رفتہ صرف اور صرف اسلامی کردار ، اسلامی عقائد ،اعمال اور اخلاق کو نہایت عقیدت کے ساتھ اپنے اصلی رنگ میں گلے لگانے سے بحال ہوسکتی ہے اور مسلمانوں کی قیادت سیادت اور نجابت پھر مسلمانوں کو مل سکتی ہے ۔
٭٭٭٭٭
 

تازہ ترین