سابق وزرائے اعلیٰ کو حاصل خصوصی مراعات ختم

مفت قیام گاہوں اور دیگر سہولیات سے محروم، پینشن کی رقم بڑھا دی گئی

تاریخ    2 اپریل 2020 (00 : 01 AM)   


نیوز ڈیسک
سرینگر// جموں کشمیر کے سابق وزرائے اعلیٰ حاصل خصوصی سرکاری مراعات سے محروم ہوگئے ہیں۔مرکزی سرکار نے اس ضمن میں 138سرکاری قوانین کو یا تو ختم کیا یا پھر ان میں ترمیم کردی ہے۔تاہم سابق وزرائے اعلیٰ کی ماہانہ پینشن 50ہزار روپے سے بڑھا کر 75ہزار کردی گئی ہے۔مرکزی حکومت کی طرف سے گذشتہ رات دیر گئے جاری ایک نوٹیفکیشن کے مطابق سٹیٹ قانون سازیہ ممبرس پینشن ایکٹ 1984 کے سکیشن تھری سی کو منسوخ کیا گیا ہے جس کے تحت جموں وکشمیر کے سابق وزرائے اعلیٰ کو مختلف سہولیات و مراعات حاصل تھیں۔مذکورہ قانون کے تحت سابق وزرائے اعلیٰ کو مفت قیام، قیام گاہ کی دیکھ ریکھ کے لئے 35 ہزار روپے تک سالانہ خرچہ، 48 ہزار روپے تک سالانہ مفت ٹیلی فون سہولیات، 15 سو روپے ماہانہ بجلی کی مفت فراہمی کے علاوہ مفت ٹرانسپورٹ ، ڈرائیور، پیٹرول اور میڈیکل سہولیات دستیاب ہوتی تھیں۔علاوہ ازیں سابق وزرائے اعلیٰ کو ایک ذاتی اسسٹنٹ، ایک خصوصی اسسٹنٹ اور دو چپراسیوں کی سہولیات بھی دستیاب ہوتی تھیں۔ اس قانون کو جموں و کشمیر ترمیم نو قانون 2020  کے تحت منسوخ کیا گیا ہے۔یہ ترامیم گیزٹ نو ٹیفکیشن کے ذریعے جموں کشمیر تنظیم نو ایکٹ کے تحت عمل میں لائی گئیں۔جموں و کشمیر کے 4 سابق وزرائے اعلی محبوبہ مفتی، غلام نبی آزاد، عمر عبداللہ اور ڈاکٹرفاروق عبداللہ کو  فی الوقت یہ مراعات حاصل تھیں، جو سبھی مرکزی سرکار کی حفاظت میں ہیں۔سپیشل سیکورٹی گروپ(SSG)، جو موجودہ اور سابق وزرائے اعلیٰ کی حفاظت پر مامور ہیں،اب حیات سابق وزرائے اعلیٰ کے اہل خانہ کو حفاظت فراہم نہیں کریں گے۔
 

کشمیری مائیگرنٹ جائیداد پر قبضہ

حکام کو تفصیلات جمع کرنے کی ہدایت

نیوز ڈیسک
 
نئی دہلی //مرکزی سرکار نے مہاجر کشمیر پنڈتوں کی جائیدادوں پر ناجائز قبضہ فوی طور ہٹانے کے قانون میں مزید لوازمات کا اضافہ کردیا ہے۔جموں کشمیر مائیگرنٹ غیر منقولہ جائیداد(اپنی حالت میں رکھنے،اسکی حفاطت کرنے اور غیر قانونی طریقے پر اسکی فروخت) سے متعلق قانون کے مسدوہ میں ایک اقتباس کا اضافہ کردیا ہے جس میں کہا گیا ہے’’ با اختیار حکام کشمیری مائیگرنٹوں کی غیر منقولہ جائیداد کی تفصیلات ایک منظور شدہ فارمیٹ کے مطابق جمع کریں گے، اور مذکورہ قانون کی شق 5کے تحت درکار قانونی کارروائی کر کے غیر قانونی طور پر قابض افراد کو بیدخل کریں اگر کہیں مائیگرنٹ جائیداد پر قبضہ کیا گیا ہو‘‘۔شق 5میں کہا گیا ہے کہ اگر کوئی شخص مائیگرنٹ جائیداد پر قبضہ چھوڑنے سے انکار کرے یا حکام کے سامنے سرنڈرنہ کرے تو متعلقہ حکام قبضہ حاصل کرنے کے لئے طاقت کا استعمال بھی کرسکتے ہیں۔
 

ویجی لنس کمیشن اور سٹیٹ پسماندہ طبقات کمیشن ختم

نیوز ڈیسک
 
نئی دہلی //مرکزی حکومت نے ان قانونی شقوں کو منسوخ کردیاہے جن کے تحت سٹیٹ ویجی لینس کمیشن اور سٹیٹ کمیشن برائے پسماندہ طبقہ جات ایکٹ قائم کئے گئے تھے۔ تاہم پسماندہ طبقہ جات کمیشن کی تنسیخ جموں وکشمیر کمیشن برائے سماجی و تعلیمی طور پسماندہ طبقہ جات متاثر نہیں کرے گا جس کو ریاستی محکمہ قانون کی طرف سے جاری ایک حکمنامے کے تحت قائم کیا گیا ہے۔حال ہی میں قائم کردہ یہ کمیشن جسٹس (ر) جی ڈی شرما، منیر احمد خان (سابق آئی پی ایس افسر) اور روپ لال بھارتی (سابق آئی پی ایس افسر) پر مشتمل ہے۔قابل ذکر ہے کہ حکومت جموں و کشمیر نے سٹیٹ انسانی حقوق کمیشن اور ریاستی احتساب کمیشن سمیت چھ کمیشنوں کو منسوخ کیا تھا۔جموں کشمیر کی تنظیم نو  قانون سے قبل جموں کشمیر کی حکومت نے ریاستی بشری حقوق کمیشن،ریاستی احتسابی کمیشن سمیت7کمیشنوں کو کالعدم قرار دیا تھا،جبکہ ان اداروں میں تعینات عملے کو متعلقہ محکمہ کے ساتھ منسلک کیا گیا تھا۔
 

تازہ ترین