جموں وکشمیر کیلئے نیا اقامتی قانون آگیا

۔10سے15سال تک رہائش پذیر سبھی غیر مقامیوں کو اقامتی حقو ق عطا،7 برس تک بورڈ امتحانات میں حصہ لینے طلباء بھی اب مقامی ہونگے

تاریخ    2 اپریل 2020 (00 : 01 AM)   


ریاض ملک

  صوبائی اور ضلعی کاڑر کا بھی خاتمہ ،اب صرف یوٹی کاڑر ،نوکریوں کے دروازے پورے ملک کے وا، مقامی لوگوں کو صرف درجہ چہارم اسامیوں پر استثنیٰ حاصل

 
جموں// مرکزی حکومت نے ایک انتظامی آڈر کے تحت جموںوکشمیر یونین ٹریٹری کیلئے نیا اقامتی قانون متعارف کیا ہے جس کے تحت وہ سبھی باہری شہری جموںوکشمیر میں اقامتی حقو ق کے حقدار ہونگے جنہوںنے یہاں مسلسل15سال تک سکونت اختیار کی ہو جبکہ نوکری کے سلسلے میں جموںوکشمیر میں 10سال تک رہنے والے سبھی مرکزی ملازمین اوران کے بچے بھی اب مقامی قرار پائے جائیں گے۔اس کے علاوہ وہ سبھی طلباء بھی جموںوکشمیر کے اقامتی ہونگے جو یہاں 7سال تک زیر تعلیم رہ کر بورڈ امتحانات میں شامل ہوئے ہوں۔اقامتی قوانین کی تشریح کے بعد سرکاری ملازمتوں کے بھرتی قوانین میں جو ترمیم کی گئی ہے ،اس کے مطابق اب جموںوکشمیر میں سرکاری نوکریوں کے دروازے پورے ملک کے امیدواروں کے لئے کھول دئے گئے ہیں اور صرف لیول۔4(22500)تنخواہ سکیل(درجہ چہارم و چند نان گزیٹیڈعہدے)والی اسامیاںہی جموںوکشمیر کے اقامتی سند ہولڈروں کے لئے مخصوص رکھی گئی ہے ۔اس کے علاوہ ضلعی و صوبائی کاڈر ختم کرکے اب ایک ہی کاڈر رکھاگیا ہے جو یوٹی سطح کا ہوگا۔اس ضمن میں داخلہ سیکریٹری اے کے بھلا کی جانب سے جموںوکشمیر تنظیم نو قانون 2019کی دفعہ96کے تحت حاصل اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے31مارچ کو ’’جموںوکشمیر تنظیم نو(اڈاپٹیشن آف سٹیٹ لاز )آڈر2020کے نام سے ایک آڈر جار ی کیاجو فوری طور قابل اطلاق ہوگیا۔اس آڈر میں جنرل کلاز ایکٹ1897کا استعمال کیاگیا ہے جوبھارت میں نافذ العمل قوانین کی تشریح کیلئے زیر استعمال ہے ۔حکم نامہ کے مطابق اس آڈر کے شیڈول میں جن سابق ریاستی قوانین کا ذکر کیاگیا ہے ،وہ کسی مجاز قانون سازیہ کی جانب سے تنسیخ یا ترمیم ہونے تک قابل اطلاق ہونگے اور ان کا فوری اطلاق عمل میں لایا جائے گا۔اس آڈر کے شیڈول میں 138سابق ریاستی قوانین میں یا تو تبدیلی عمل میں لائی گئی ہے یا پھر ان کی تنسیخ ہی کی گئی ہے ۔شیڈول کے14ویں نمبر جس اہم قانو ن میں سب سے اہم ترامیم کی گئی ہیں ،ان کا تعلق ملازمتوںسے ہے اور یہ ترامیم جموںوکشمیر سیول سروسز(غیر مرکوز یت و بھرتی)ایکٹ2010میں عمل میں لائی گئی ہیں۔اس ایکٹ میں جہاں صوبائی اور ضلعی کاڈر کا خاتمہ کیاگیا ہے وہیں اس ایکٹ میں سرکاری نوکریوںمیں بھرتی کے طریقہ کار اور نوکریوں کے حصول کیلئے ڈومیسائل یا اقامتی حقوق کی بھی تشریح کی گئی ہے۔

نوکری کیلئے ڈومسائل 

اس نئے حکم نامہ کے ذریعے جموںوکشمیر سیول سروسز(غیر مرکوز یت و بھرتی)ایکٹ2010میں کی گئی ترمیم کے نتیجہ میں دوسری ریاستوں اورمرکزی زیرانتظام علاقوں سے تعلق رکھنے والے ایسے تمام افرادجموں وکشمیرمیں اقامتی حقوق کے اہل قرارپاتے ہیں ،جنہوں نے یہاں مسلسل15برس سکونت اختیارکی ہو۔ایسے طالب علم بھی جموں وکشمیرمیں رہنے ،بسنے اوریہاں ملازمت حاصل کرنے کے اہل قراردئیے گئے ہیں جنہوں نے یہاں مسلسل7برس کسی بھی تعلیمی ادارے میں بطورطالب علم پڑھاہویاکہ جن طالب علموں نے یونین ٹریٹری جموں وکشمیر میں قائم تعلیمی اداروں میں زیرتعلیم رہ کردسویں اوربارہویں جماعت کاامتحان دیاہو۔گیزٹ نوٹیفکیشن میں مزیدوضاحت کی گئی ہے کہ ایسے تمام مرکزی محکموں کے افسریاملازمین ،آل انڈیاسروسزلیول افسران،پبلک سیکٹر اداروں وخودمختاراداروں کے افسروملازمین ،پبلک سیکٹربینکوں میں کام کرنے والے افسران یاملازمین ،سینٹرل یونیورسٹی کے حکام اورمرکزی سرکارکے دوسرے ریسرچ اداروں میں تعینات رہنے والے افسروملازمین، جنہوں نے جموں وکشمیرمیں کم سے 10سال ملازمت کے لئے سکونت اختیارکی ہو،وہ اوران کے بچے بھی جموں وکشمیرمیں مستقل سکونت اختیار کرنے اوریہاں کے اقامتی حقوق حاصل کرنے کے اہل ہیں۔علاوہ مندرجہ بالا شرائط پورا کرنے والے سبھی لوگوں کے بچے بھی ڈومیسائل کے حقدار ہیںاور نئے اقامتی قواعدکے تحت جموں وکشمیرمیں شہریت واقامت کے سبھی حقوق پاسکتے ہیں ۔گیزٹ نوٹیفکیشن میں یہ بھی کہاگیاہے کہ جو افرادریلیف اینڈری ہیبلٹیشن کمشنر(مائیگرنٹس)کے پاس رجسٹرڈہوں،وہ بھی اقامتی حقو ق پانے کے اہل ہیں جبکہ ایسے افراد(مہاجرین) کے بچے بچیاں بھی جموں وکشمیرمیں قائم سرکاری محکموں میں ملازمت پاسکتے ہیں اوریہاں کاروبار کیساتھ ساتھ دوسری پیشہ ورانہ سرگرمیاں انجام دے سکتے ہیں ۔تاہم یہ لازم ہے کہ ایسے بچوں اورنوجوانوں کے والدین متذکرہ بالالوازمات کوپوراکرتے ہوں ۔اس کے علاوہ جموںوکشمیر کے ایسے رہائشی ،جو یونین ٹریٹری سے باہر ملازمت ،کاروبار ،پیشہ وارانہ وجوہات یا چھٹیوں پر باہر ہیں لیکن ان کے والدین مندرجہ بالا شرائط پر کھرا اترتے ہیں ،توانہیں بھی اقامتی حقوق حاصل ہونگے۔نئے اقامتی قواعد کی روسے تحصیلدارکوہی یہ اختیاردیاگیاہے کہ وہ کسی بھی مستحق یااہل شہری کے حق میںاقامتی سند اجراء کرسکتاہے جبکہ اسے پہلے یہ اختیارصرف ڈپٹی کمشنریااسے برابرکے کسی اعلیٰ افسرکے پاس تھاتاہم اپیل ڈپٹی کشنر کے دفتر میں کی جاسکتی ہے اور نوکریوں کے لئے بھرتیاں سروس سلیکشن بورڈ کے ذریعے ہی ہونگیں۔

درجہ چہارم اسامیوں پر ہی تحفظ 

نئی ترمیم کے ذریعے گزیٹیڈ اسامیوں میںنچلی سطح کی اسامیوں کو براہ راست ان لوگوں کیلئے مخصوص رکھا گیا ہے جنہیں جموں کشمیرکی اقامتی سند حاصل ہو۔جموں کشمیر سیول سروسز(غیرمرکوزیت و بھرتی) قانون2010 کے دفعہ5کے بعد ذیلی دفعہ5(A)کا اضافہ کیاگیا ہے جو کہتی ہے’’اس قانون کی دفعات کے تابع لیول۔4(22500)کی تنخواہ سکیل والی اسامیوں پر کوئی بھی امیدوار اُس وقت تک درخواست نہیں دے سکتا ہے جب تک نہ اُس کے پاس جموںوکشمیر کی اقامتی سند ہو‘‘۔ اس تنخواہ سکیل میں درجہ چہارم اسامیاں،جونیئر اسسٹنٹ اور پولیس کانسٹیبل کی اسامیاں ہی آتی ہیں جبکہ دیگر نان گزیٹیڈ اور گزیٹیڈ اسامیوں کیلئے ملک بھر کے امیدوار اب درخواست دے سکتے ہیں۔
 

اقامتی قانون کیلئے وقت کیسے ملا؟

 وعدہ پورا نہ ہو تو زخم ہرے ہو جاتے ہیں :عمر عبداللہ

نیوز ڈیسک
 
سرینگر // نیشنل کانفرنس نائب صدرعمر عبداللہ نے کہا کہ حکومت ہند کے پاس کورونا وائرس بحران کے چلتے جموں وکشمیر میں نئے اقامتی قواعد سے متعلق آڈر جاری کرنے کا وقت ہے ،تو کیا سرکار کے پاس محبوبہ مفتی ، علیٰ محمد ساگر اور دیگر نظر بند لیڈروں کی غیر منصفانہ نظر بندی ختم کرنے کا وقت نہیں ہے۔ انہوں نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا کہ سبھی نظر بند لیڈروں کو مزید وقت ضائع کئے بغیر رہا کیا جانا چاہئے ۔سابق وزیر اعلیٰ نے نئے اقامتی قانون لاگو کئے جانے کے وقت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ’’ جب ہمارے بیشتر لیڈر نظر بند ہیں اور فی الوقت ساری توجہ کووڈ 19کو پھیلنے سے روکنے پر مرکوز ہے ،تو ایسے میں حکومت ہند نے جموں وکشمیر میں نیا اقامتی قانون لاگو کر کے ہمارے زخموں پر نمک پاشی کی ہے ‘‘۔انہوں نے کہا جب ہم دیکھتے ہیں کہ اس قانون سے کوئی بھی وعدہ پورا نہیں ہوتا ہے تو زخم تازہ ہوجاتے ہیں'۔انہوں نے سابق وزیر سید محمد الطاف بخاری کی پارٹی کا نام لئے بغیر کہا: 'آپ تصور کرسکتے ہیں کہ ڈومیسائل قانون اتنا کھوکھلا ہے کہ دلی کے آشرواد سے وجود میں آنے والی نئی جماعت، جس کے لیڈران اس قانون کیلئے دلی میں لابنگ کررہے تھے، کو جموں وکشمیر ڈومیسائل قانون کے خلاف بیان دینے پر مجبور ہونا پڑا۔
 

مرکز کا فیصلہ کشمیریوں کیساتھ دھوکہ

جموں کشمیر باشندوں کے حقوق سلب ہونگے: بخاری

نیوز ڈیسک
 
سرینگر //جموں وکشمیر اپنی پارٹی کے صدر سید الطاف بخاری نے جموں وکشمیر میں نئے اقامتی قانون لاگو کئے جانے کو بے سود اور مصنوعی عمل سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی حکومت کی جانب سے ایک آڈر کے ذریعے نیا اقامتی قانون لاگو کرنا عدالتی جائزہ سے مستثنیٰ نہیں ہے ۔انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ مرکزی حکومت کی جانب سے آڈر جاری کرنے کا فیصلہ بیروکریسی کی سطح پر لیا گیا ہے اور یہ فیصلہ لیتے وقت جموں وکشمیر کے عوام کی خواہشات اور اُمیدوں کو ملحوظ نظر نہیں رکھا گیا ہے ۔ بخاری نے کہا کہ ہماری جماعت جموں وکشمیر میں لوگوں کی زمین اور سرکاری ملازمتوں کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے ایک جامہ اقامتی قانون کا مطالبہ کر رہی ہے اور ایسے میں مرکزی حکومت کی بیروکریسی نے عوامی خواہشات اور اُمیدوں کے برعکس ایک بے سود اور مصنوعی قسم کا فیصلہ لیا ۔انہوں نے کہا کہ گزیٹ نوٹیفیکیشن کے ذریعے جموں وکشمیر میں نیا اقامتی قانون لاگو کرنا ایک بے سود عمل ہے کیونکہ اس اقدام کو عدالت میں چیلنج کیا جا سکتا ہے ۔ بخاری نے کہا کہ نئی نوٹیفکیشن سے جموں وکشمیر میں رہنے والے یہاں کے مستقل باشندوں کے حقوق متاثر ہوں گے کیونکہ غیر ریاستی باشندوں کو یہاں کی شہریت اور حقوق دینے سے مقامی آبادی کے اقامتی حقوق بشمول زمین وجائیدا د کے علاوہ سرکاری ملازمتیں بھی خطرے میں پڑ جائیں گی ۔انہوں نے نئے اقامتی قانون کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس مصنوعی اور غلط قانون کی وجہ سے جموں وکشمیر کے مستقل یا پشتینی باشندوں کے حقوق متاثر ہوں گے کیونکہ ان کے حصے میں آنے والی سرکاری ملازمتوں میں دوسری ریاستوں کے لوگ بھی شامل ہو جائیں گے ۔ بخاری نے سوال کیا کہ جب پوری دنیا سمیت ہمارا ملک بھی کورونا وائرس سے لڑ رہا ہے تو ایسے میں جموں وکشمیر سے متعلق ایسا فیصلہ لینا غلط ہے ۔ نیا اقامتی قانون کو جموں وکشمیر کے عوام سے دھوکہ قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فی الحال اس نوٹیفکیشن کو التواء میں ڈالاجائے ۔
 

بھاجپا کا اقامتی حکم کا خیرمقدم 

ریاست کا درجہ عنقریب بحال ہوگا: اشوک کول

شبیرابن یوسف
 
سرینگر//بھارتیہ جنتاپارٹی نے اقامتی قانون کاخیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ حکم دیر سے جاری کیاگیااورامیدظاہر کی کہ جموں کشمیرکیلئے ریاست کے درجہ کا عنقریب اعلان کیا جائے گا۔بھاجپا کے جنرل سیکریٹری اشوک کول نے کشمیرعظمیٰ کو بتایا کہ ہم کھلے دل سے اقامتی قانون کا خیرمقدم کرتے ہیں ۔یہ حکم دیر سے جاری کیاگیااورہمیں امیدتھی کہ اِسے پہلے ہی جاری کیا جاتا۔ انہوںنے کہا کہ نریندر مودی کی حکومت نے جموں کشمیرمیں امن اورخوشحالی لائی ہے ۔ہر ایک کو اس حکم کاخیر مقدم کرنا چاہیے ۔کول نے کہا کہ جموں کشمیر میں آئین کامکمل نفاذاور دفعہ370اور35Aکاخاتمہ آزادی کے بعد آئین کی بڑی تبدیلی ہے اور اس بڑی تبدیلی سے جموں کشمیراورلداخ کے شہریوں سمیت تمام بھارتیوں کو انصاف اور برابری ملی ہے ۔اس سے جموں کشمیر کے تمام خطوں میں ترقی ہوگی ۔بھاجپا رہنما نے کہا کہ اُنہیں امید ہے کہ جموں کشمیرکاریاستی درجہ عنقریب بحال کیاجائے گا ۔انہوں نے کہا نریندر مودی نے جموں کشمیراور لداخ کیلئے اپنے عزم اور نظریے کو بانٹا ہے ۔ان سبھی خطوں میں امن ،خوشحالی اور بہبودی وزیراعظم کی ترجیح ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جموں کشمیر وزیراعظم نریندرمودی اوروزیرداخلہ امت شاہ کے محفوظ ہاتھوں میں ہے اور کسی خودغرض عناصر کی غلط معلومات پردھیان نہیں دینا چاہیے ۔

تازہ ترین