ہرکُرسی عارضی اور فانی

حق کی کُرسی لافانی ہے

2 اپریل 2020 (00 : 01 AM)   
(      )

شہنوا ز احمد ۔شالی پورہ کولگام
لفظ ’کُرسی‘کا تصور ذہن میں آتے ہی عموماً ایسے اسم ِ بے جان کی شبیہ دماغ کے پردے پر اُبھرتی ہے جو انسان مخصوص انداز میں بیٹھنے کے لئے استعمال کرتا ہے۔کُرسی مغربی معاشرتی معنوں میں کوئی نئی چیز نہیں ہے البتہ ہمارے لئے یہاں اس کی نئی نئی تشریحات ہیں۔کیونکہ ہمارے یہاں اسے ترقی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔صدیوں سے ہمارے یہاں فرش نشینی کا رواج رہا ہے اور کرسی نشینی جدید طرزِ زندگی کی نمائندگی کرتی ہے ۔اردو ادب میں ’کرسی‘صرف کاریگری اور ہُنر مندی کا نمونہ نہیں بلکہ یہ لفظ وسیع معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔’کرسی‘طاقت ،اقتدار ،اختیار ،عہدے اور حکمرانی کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے۔اس جمہوری دور میں جو عام چنائو ہوتے ہیں،ان میں کرسی حاصل کرنے کی دوڑ دھوپ میں شامل مخصوص افراد عام لوگوں کے خوابوںاور امیدوں کو ’کرسی ‘ کے آس پاس ہی نہیں بلکہ اس کے بہت قریب لاتے ہیں۔اس طرح ’کرسی‘شطرنج کا کھیل بن جاتی ہے ۔یہ کسی کے لئے جذبات کا معاملہ بن سکتی ہے اور کسی کے لئے جذبات کاکاروبار ۔یہ کانٹوں کا تاج بھی ہوسکتی ہے اور پھولوں کی سیج بھی۔
ہم آئے روز سیاسی نوعیت کی خبروں میں پڑھتے ہیں کہ فلاں شخص کی کرسی بال بال بچ گئی ،فلاں شخص کی کرسی خطرے میں ہے،فلاں آفیسر کی کرسی کئی مہینوں سے خالی ہے اور فلاں جماعت کی کرسی گِرا دی گئی وغیرہ وغیرہ۔تاریخ کے اوراق پلٹنے سے معلوم ہوتا ہے کہ کچھ عظیم ہستیاں ایسی تھیں جو بوریا نشین یا خاک نشین رہتی تھیں لیکن پیچیدہ سے پیچیدہ تر مسائل حل کرتے تھے۔گویا اُن کی کرسیاں لوگوں کے دلوں میں قائم تھیں جو یقین ،اعتماد اور محبت کے مواد پر مبنی ہوا کرتی تھیں۔اس کے برعکس آج غرور،اَنا ،اقربا پروری ،ظلم اور ناانصافی کے استعارے بن گئی ہیں۔کرسی چونکہ امانت ،اعتماد اور زمہ داری کا منصب ہے لیکن عملی طور پر ذاتی مفادات کے حصول کے لئے اس کا استعمال ہوتا ہے۔جب ایک عام انسان کسی عہدیدار یا نمائندے کی کرسی کے سامنے کھڑا ہوتا ہے تو اُس کی آنکھوں میں اُمید ہوتی ہے اور دل میں حسرتوں کا ایک طوفان ۔وہ کرسی پر براجماں با اختیار شخص کو اپنا معاملہ سمجھانے کے لئے کبھی میٹھے ،کبھی پُر اثر اور کبھی تلخ الفاظ کا استعمال کرتا ہے ،وہ اپنی عرضی پر کاروائی چاہتا ہے ۔ان موقعوں پر کرسی کی غیر جانبداری ،فرض ِ منصبی ،انصاف پسندی ،فوری کاروائی اور ایمان داری کا امتحان ہوتا ہے۔تجربات سے اس بات کا علم ہوا ہے کہ اعلیٰ عہدوں پر تعینات کچھ عناصر بلا وجہ سائلوں کو ناپسند کرتے ہیں۔یہاں کنفوژن ہے کہ آیا اُن کو سائلوں کے حُلیے ،اُن کے سماجی اور سیاسی پس منظر سے الرجی ہوتی ہے یا وہ مسائل سے بھاگنے کی کوشش کرتے ہیں ۔آج کل کی کتابیں ہمیں بتاتی ہیں کہ نسلی امتیاز ،امیری اور غریبی کی تفریق ،علاقائی تفریق او ر مذہبی تعصب پرانی باتیں ہیں لیکن اکثر ان برائیوں کی بُو اختیار کے گلیاروں سے ضرور آتی ہے۔کسی بھی عہدے پر فائز کسی بھی شخص کو اجارہ داری کے جذبے سے نہیں بلکہ جمہوری اور انسانی جذبے کے ساتھ کام کرنا چاہئے ۔یہ نظام ِ حیات ،یہ گردشِ لیل و نہار کسی کے مزاج اور مرضی کے تابع نہیں رہ سکتے ۔یہ فطری اورغیبی قوانین کے ماتحت ہیں۔یہ دنیوی عہدے اور کرسیاں عارضی اور فانی ہیں ۔اس لئے محتاط رہنے کی ضرورت ہے ۔حقیقی اور لافانی کرسی خالقِ کائنات کی ہے۔ 
(رابطہ: 9596393985)

تازہ ترین