ابھی بھی وقت ہے سنبھل جا!

اللہ کی پکڑ بہت سخت ہوگی

تاریخ    2 اپریل 2020 (00 : 01 AM)   


انجینئر محمد شفع کمار
آج طبی قید (quarantine) میں ہمارا چھٹا دن تھا۔ فجر کی نماز ادا کرنے کے بعد سارے واڈ ممبران (patients) اپنی اپنی رضائی اوڑھے لیٹ گئےتھے۔ کچھ دیر گزر جانے کے بعد ایک عورت جس کے دو چھوٹے اور معصوم بچے تھے، اس کے موبائل پر کال (call) آئی۔ کال رِسیو کرنے کے بعد وہ اچانک کہنے لگی، ’’یہ کیسے ہوا؟کیا وہاں کسی ہمسایہ کو بھی خبر نہ ہوئی ؟؟ کیا کسی اور گھر میں بھی ایسا ہوا ہے۔۔۔۔؟؟‘‘ پھر اس عورت نے شکستگی سے موبائل نیچے رکھ دیا۔
ان کے نزد?ک والے بیڈ (bed) پر بیٹھے افراد نے پوچھا، ’’بہن کیا ماجر?اہے؟ سب خیریت تو ہے نا۔۔۔؟؟‘‘ اس عورت کی آنکھوں سے بے بسی کے موٹے موٹے آنسو نکلنے لگے، اپنے آپ کو سنبھالتے ہو?ئےکہنے لگی ’’ہمارے گھر پر چوروں نے ڈھاکہ ڈالا ہے، سب لوٹ کر لے گئے ہیں۔۔۔!‘‘
یہ بات سن کر سارے واڈ میں سناٹا سا چھا گیا۔ اب سارے لوگ اس عورت کو ہمدردی سے دلاسا دینے لگے۔ میں نے بھی دلاسا دینا چاہا لیکن میرے لفظوں نے میرا ساتھ نہ دیا۔ میرے جزبات اْبل رہے تھے۔ مجھے ترس آرہا تھا اس عورت پر کیونکہ اس پر آفت آئی تھی، پہلے شوہر کورونا وائرس (COVID-19) کا شکار ہوا، پھر ان کے سارے خاندان کو بال بچوں سمیت طبی قید میں داخل ہونا پڑا اور اب ان کا گھر لْٹ چکا تھا۔ اب اس کے بچے بھی جاگ گئے اور رونے لگ گئے، انہیں کیا معلوم کیا ہوا ہے، ان کی ماں پر کون سی قیامت ٹوٹ پڑی ہے، وہ کس دردوقرب میں مبتلا ہے۔ وہ اپنے بچوں کو تو چْپ کرا رہی تھی لیکن اسکے اپنے آنسو بے قابو تھے۔ میرے لئے یہ منظر کتنا اذیت ناک تھا، میں بیان نہیں کر سکتا۔
اب مجھے ان بے حس، بے غیرت، سنگدل اور ظالموں پر بھی ترس آرہا ہے، جنہوں نے کسی بےبس کا گھر لوٹ کر اللہ کے غضب اور قہر کو دعوت دی ہے۔ انہوں نے اپنے آپ کو ایک بڑے عذاب کا مستحق بنا دیا ہے اور اب نہ جانے کتنے اور معصوم اس عذاب کی لپیٹ میں آجائیں گے۔
یہ لوگ سمجھ بیٹھے ہیں کہ شاید اللہ نے اپنا قانون بدل دیا ہے، شاید یہ بچ جائیں گے، انہیں گمان ہے کہ پچھلی قوموں پر جو عذاب آئے، وہ اب منسوخ کر دئے گئے ہیں، ان کا گمان ہے شاید ان سے پوچھ گچھ نہ ہوگی۔۔۔۔ لیکن ان کی پکڑ ہوگی اور ان سے ضرور پوچھا جائے گا جو ان ظالموں نے انجام دیا ہے۔
بھلا یہ کیسے قرآن کے اس فرمان کو بھول گئے کہ ’’اس دن ہم بڑی سخت پکڑ پکڑیں (گرفت کریں) گے، بیشک ہم انتقام لینے والے ہیں‘‘ (دْخان:16) انہیں کیوں خوف نہ آیا اس جبار کا جس نے وقت کے بڑے بڑوں کو قیامت تک باعث عبرت بنایا؟؟ کیوں ان ناہنجاروں نے اس موت کے موسم میں بھی دوسری آفتوں کو بھلاوا بھیجا ؟؟ کیا زلزلے، سیلاب، قحط، طوفان، اولے کی بھرمار اور خونریزی کم تھی؟؟۔۔۔۔ آخر کیوں کیا انہوں نے ایسا، کیوں۔۔۔۔؟؟
����������������
Quarantine ward 1A, SKIMS Soura
رابط 8825052755
 

تازہ ترین