جھوٹ کا عالمی دن !

انسانی شرافت پر بدنما داغ

2 اپریل 2020 (00 : 01 AM)   
(      )

محمد صدر عالم قادری،بنگلور
 اسلام دشمن طاقتیں اسلامی تہذیب،ثقافت وتمدن کوبے حیائی وعریانیت میں تبدیل کرکے اُسے روشن خیالی اورآزادی کانام دینے کے لئے مکمل طورسے کوشاں ہیں،وہ فحاشی پرمبنی رسوم کواس طرح آراستہ کرکے پیش کررہے ہیں کہ مسلمان اپنی پاکیزہ تہذیب وعمدہ تمدن کوچھوڑ کراغیارکے تہواروں کادلدادہ ہوتاجارہاہے۔آزادی کے نام پرغیرمحرم کے ساتھ گھومنے پھرنے اورجنسی تعلقات قائم کرنے کوباعث فخرسمجھاجارہاہے،جس کے نتیجہ میںیہ حیاسوزحرکتیں صرف کلبوں اورہوٹلوں ہی میں نہیں کی جارہی ہیںبلکہ کالجوں اورسڑکوں پربھی طوفان بے حیائی وبدتمیزی بپاکیاجارہا ہے۔احساس کمتری میں مبتلالوگ مغرب کی ہرچھوٹے بڑے معاملہ میں تقلیدونقالی کواپنے لئے ترقی وکامیابی کارازسمجھتے ہیں،یہی وجہ ہے کہ آج اگراُمتِ اسلامیہ کے حالات پرذراسی نظرڈالی جائے توبے شماربیماریاں ایسی نظرآئیں گی جن کااسلامی تہذیب ومعاشرت سے دورکابھی واسطہ نہیں،بلکہ شریعت اسلامیہ میں ان کے خلاف واضح ہدایات موجودہیں۔اس کے باوجودمسلمان اُن کے عادات واطواراوررسو م ورواج کواپناتاجارہاہےاوریوں دھیرے دھیرے اپنے اسلامی تشخص اورمسلم آئیڈینٹی کوکھوتاجارہاہے۔نتیجہ یہ کہ شکل وشباہت،اندازِخوردونوش،نشست وبرخاست،خوراک وپوشاک،چال ڈھال اورکام کاج غرضیکہ ہرمعاملہ میں اغیارکی نقل کرنے پرفخرمحسوس کرتے ہیںاورتمام ذرائع ابلاغ(میڈیا)انہیں اس نقّالی پراُکساتے رہتے ہیں۔حجاب اٹھتاجارہاہے،عورتیں پردہ چھوڑرہی ہیںاوروہ پردہ مردوں کی عقلوں پرپڑتاجارہاہے۔ایسی ہی بے شماررسوم وعادات میں سے ایک''اپریل فول ''منانے کی رسم بھی ہے،فرنگیوں نے آپس میںایک دوسرے کواُلُّوبنانے کے لئے اوردوسروں کوپریشانی میں مبتلاکرکے خودخوش ہونے کے لئے اس ''اپریل فول ''نامی رسم کورواج دیااورہماری قوم نے اُسے ہاتھوں ہاتھ قبول کرلیا۔
معاشرے میں پائی جانے والی برائیوں میں ایک ناسُور''اپریل فول ''(April Fool)''بھی ہے جسے یکم اپریل کورسم کے طورپرمنایاجاتاہے۔نادان لوگ اس دن پریشان کردینے والی جھوٹی خبرسناکر،مختلف اندازسے دھوکادے کراپنے ہی اسلامی بھائیوں کو(Foolیعنی بے وقوف)بناکرخوش ہوتے ہیں،مثلاًکسی کویہ خبردی جاتی ہے کہ آپ کاجوان بیٹافلاں جگہ ایکسیڈنٹ ہونے ک وجہ سے شدیدطورپرزخمی ہے اوراُسے فلاں اسپتال میں پہنچادیاگیاہے۔آپ کافلاں رشتہ دارانتقال کرگیاہے ۔آپ کی دکان میں آگ لگ گئی ہے ۔آپ کی دوکان میں چوری ہوگئی ہے۔آپ کے پلاٹ پرقبضہ ہوگیاہے۔آپ کی گاڑی چوری ہوگئی ہے۔آپ کے بیٹے کوتاوان کے لئے اغواکرلیاگیاہے وغیرہ۔پھرحقیقت کھلنے پر''اپریل فول ''اپریل فول ''کہہ کر اس کامذاق اُڑایاجاتاہے ۔جوجتنی صفائی اورچالاکی سے دوسرے کوبے وقوف بنائے وہ خودکواتناہی عقل مندسمجھتاہے مگراس''فول ''کویہ احساس نہیں ہوتاکہ وہ کتنی بڑی بھول کرچکاہے۔''اپریل فول ''منانے والے دانستہ یانادانستہ طورپرکن لوگوں کی پیروی کررہے ہیںملاحظہ کیجئے:
اپریل فول کیسے شروع ہوا؟:اپریل فول کے آغازکے بارے میںمختلف اسباب بیان کئے جاتے ہیں جن میںسے ایک یہ ہے کہ جب کئی سوسال پہلے عیسائی افواج نے اسپین کوفتح کیاتواس وقت اسپین کی زمین پرمسلمانوں کااِتناخون بہایاگیاکہ فاتح فوج کے گھوڑے جب گلیوں سے گزرتے تھے توان کی ٹانگیں مسلمانوں کے خون میں ڈوبی ہوتی تھیں،جب قابض افواج کویقین ہوگیاکہ اب اسپین میں کوئی بھی مسلمان زندہ نہیں بچاہے توانہوں نے گرفتارمسلم حکمراں کویہ موقع دیاکہ وہ اپنے خاندان کے ساتھ واپس مراکش چلے جائیںجہاں سے اس کے آباؤ اَجدادآئے تھے ،قابض افواج ’’غرناطہ ‘‘سے کوئی بیس کلومیٹردورایک پہاڑی پراُسے چھوڑکرواپس چلی گئیں۔جب عیسائی افواج مسلمان حکمرانوں کواپنے ملک سے نکال چکیں توحکومتی جاسوس گلی گلی گھومتے رہے کہ کہیںبھی مسلمان نظرآئے تواُسے شہیدکردیاجائے جومسلمان زندہ بچ گئے وہ اپنے علاقے چھوڑ کردوسرے علاقوں میں جابسے اوراپنی شناخت پوشیدہ کرلی،اب بظاہراسپین میں کوئی مسلمان نظرنہیں آرہاتھامگراب بھی عیسائیوں کویقین تھاکہ سارے مسلمان قتل نہیں ہوئے ہیںکچھ چھپ کراوراپنی شناخت چھپاکرزندہ ہیں ،اب مسلمانوں کوباہرنکالنے کی ترکیبیں سوچی جانے لگیںاورپھرایک منصوبہ بنایاگیا۔پورے ملک میں اعلان ہواکہ ’’یکم اپریل ‘‘کوتمام مسلمان غرناطہ میں اکٹھے ہوجائیں تاکہ جس ملک میں جاناچاہیں جاسکیں۔اب ملک میں چونکہ امن وامان قائم ہوچکاتھااس لئے مسلمانوں کوخودظاہرہونے میں کوئی خوف محسوس نہیں ہوا،مارچ کے پورے مہینے اعلانات ہوتے رہے ،’’الحمراء ‘‘کے نزدیک بڑے بڑے میدانوں میںخیمے نصب کردیے گئے ،جہاز آکر بندرگاہ پر لنگر انداز ہوتے رہے، مسلمانوں کو ہر طریقے سے یقین دلایا گیا کہ انہیں کچھ نہیں کہاجائے گااورنہ ہی کوئی تکلیف پہنچائی جائے گی۔جب مسلمانوںکومکمل یقین ہوگیاکہ اب ہمارے ساتھ کچھ نہیں ہوگاتووہ سب ’’غرناطہ ‘‘میں اکٹھے ہوناشروع ہوگئے ۔اس طرح حکومت نے تمام مسلمانوں کوایک جگہ اکٹھاکرلیااوران کی بڑی خاطرمدارت کی ۔یہ'' یکم اپریل ''کادن تھاجب تمام مسلمانوں کوبَحری جہازمیں بٹھایاگیاتواس وقت مسلمانوں کواپناملک چھوڑنے میں کافی تکلیف ہورہی تھی مگراطمینان تھاکہ چلو!کم سے کم جان توبچ جائے گی۔دوسری طرف حکمراں اپنے محلّات میں جشن منانے لگے ،جرنیلوں نے مسلمانوں کوالوداع کیااورجہازوہاں سے چل پڑا،اُن مسلمانوں میں بوڑھے ،جوان،خواتین ،بچے اورکئی ایک مریض بھی تھے۔جب جہازگہرے سمندرمیں پہنچاتومنصوبہ بندی کے تحت اُنہیں گہرے پانی میں ڈُبودیاگیااوریوں وہ تمام مسلمان سمندرمیں ڈوب گئے ۔اس کے بعداسپین میں خوب جشن منایاگیاکہ ہم نے کس طرح اپنے دشمنوں کوبے وقوف (Fool)بنایا۔
اپریل فول کے حرام ہونے کے دلائل:  ’’اپریل فول‘‘اسلامی شریعت توکیا؟اسلامی تہذیب وثقافت کے بھی منافی ہے ۔اس مہلک وجان لیوارسم’’اپریل فول‘‘کے بارے میںقرآن وسنت میں کئی ایسے واضح اشارات موجودہیںجواس کی قباحت وشناعت کے ساتھ ساتھ اس کی حرمت کابھی پتہ دیتے ہیں۔اپریل فول کی بنیادہی ان چارچیزوں پرمنحصرہے،جسے ہم آپ کے سامنے پیش کرتے ہیں۔
  اپریل فول کو’’جھوٹ کاعالمی دن ‘‘کہاجاتاہے۔اس رسم کی ادائے گی تب تک ممکن ہی نہیںجب تک جی بھرکرجھوٹ نہ بولاجائےجبکہ جھوٹ کی مذہب اسلام میں قطعاً اجازت نہیں ہے۔چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تبارک وتعالیٰ منافقین کے بارے میں ارشادفرماتاہے :’’اوران کے لئے دردناک عذاب ہے بدلاان کے جھوٹ کا‘‘۔(ترجمہ کنزالایمان،البقرۃ،آیت10)اورآگے چل کرایک جگہ ارشادفرماتاہے :’’بے شک اللہ راہ نہیں دیتااسے جوجھوٹابڑاناشکراہو‘‘۔(ترجمہ:کنزالایمان،الزمر،آیت3)
اورجھوٹ بولناقرآن کریم کے روسے باعث ِ لعنت فعل ہے۔ جھوٹ ایک قبیح فعل ہے، جس کی شریعت اسلامیہ میں قطعاًاجازت نہیں ہے۔توپھر’’اپریل فول‘‘منانے والے مسلمانوں کے لئے کیوں کرجھوٹ بولناجائزہوگا۔اس لئے جو مسلمان بھائی اس طوفان بدتمیزی والے رسم کی ادائیگی میں مبتلاہیں،وہ ہوش میں آئیں اوراس فعل قبیح کوانجام دینے سے خودبھی بازرہیں اوراپنے دوسرے مسلمان بھائیوں کوبھی بازرہنے کی تلقین کریں۔
حضورنبی اکرم نورمجسم سیدعالم شافع اُمم ﷺ کی احادیث طیبہ میں بھی جھوٹ کی بڑی مذمت آئی ہے۔چنانچہ صحیح بخاری ومسلم شریف میں ہے کہ:’’ جھوٹ بندے کوفسق وفجورونافرمانی کی طرف لے جاتاہے اورفجورونافرمانی اُسے جہنم تک پہنچادیتی ہے،بندہ جھوٹ بولے چلاجاتاہے حتیٰ کہ وہ اللہ تعالیٰ کے یہاںجھوٹالکھ دیاجاتاہے ‘‘۔حضرت ابن عمررضی اللہ عنہ نے کہاکہ حضورپاک ﷺ نے فرمایاکہ جب بندہ جھوٹ بولتاہے تواُس کی بدبوسے فرشتہ ایک میل دُورہٹ جاتاہے۔(ترمذی شریف) 
اوربخارومسلم شریف میں ہی آقائےدوجہاںصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے منافق کی جوچارعلامتیں بتائی ہیںاُن میں سے (۱)خیانت،(۲)بدعہدی،(۳)گالی گلوج اور(۴)جھوٹ بولناہے۔چنانچہ ارشادنبوی ﷺ ہے:’’آیۃ المنافق اربعۃ:منافق کی چارنشانیاں ہیںاوران میں سے ایک یہ ہے:واذاحَدَّثَ کَذَبَ.....اورجب بات کرے توجھوٹ بولے‘‘۔اورمنافق کی سزااتنی سخت ہے کہ اللہ تعالیٰ ارشادفرماتاہے:بیشک منافق دوزخ کے سب سے نیچے طبقے میں ہے اورتوہرگزاُن کامددگارنہ پائے گا۔(ترجمہ:کنزالایمان،النساء،آیت145)
مسنداحمدکی روایت میں ہے کہ  آقائے دوجہاں ﷺ نے ارشادفرمایا: ’’بندہ کامل ایمان والانہیں ہوسکتاحتیٰ کہ مذاق میں جھوٹ بولنااورجھگڑناچھوڑدے اگرچہ سچاہو‘‘۔’’اپریل فول ‘‘میں دوسروں کی پریشانی پرخوشی کااظہاربھی ہوتاہے،ایسے لوگوں کوڈرناچاہئے کہ وہ بھی اس کیفیت کاشکارہوسکتے ہیں۔عربی کاایک مقولہ مشہورہے:مَنْ ضَحِک ضُحِکَ یعنی جوکسی پرہنسے گااُس پربھی ہنساجائے گا۔
  اپریل فول کی رسم اداکرنے کے لئے دھوکہ دہی کی جاتی ہے جوکہ اس کی ادائیگی کایہ ایک لازمی عنصرہےجبکہ دھوکہ دہی کواسلام نے حرام قراردیاہے،حتیٰ کہ صحیح مسلم شریف میں حضورنبی اکرم ﷺ کاارشادپاک ہے:’’جس نے ہمیں دھوکہ دیاوہ ہم میں سے نہیں ہے‘‘۔
اورایک حدیث مبارکہ میں آپ ﷺ نے ارشادفرمایا:’’کہ پانچ آدمی اہل جہنم سے ہیںاوراُنہیںمیں سے ایک وہ شخص ہے جوشب ورُوزآپ کے اہل وَمال میں دھوکہ کررہاہو‘‘۔بخاری شریف کی روایت میںہے کہ آپ ﷺ نے ارشادفرمایا:’’جومسلمان کودھوکہ دے اس پراللہ تعالیٰ کی لعنت ہے،فرشتوں اورتمام لوگوں کی لعنت ہے،نہ اس کی نفل عبادت قبول ہوگی اورنہ فرض‘‘۔
 دھوکہ دِہ اورپُرفریب شخص لوگوں پرظلم وستم کرتاہے،دھوکہ دے کرلوگوں کامال بٹورتاہے اوراُسے پریشان کرتاہے۔دھوکہ دِہ، چالباز،حقوق اللہ اورحقوق العباددُونوں کی خلاف ورزی کامرتکب ہے۔ایک کامل مسلمان کی شان سے بہت بعیدہے کہ وہ لوگوں کودھوکہ دے۔دھوکہ دینااورچالبازیاں کرناعدم ایمان کی علامت ہے۔دھوکہ دیناپاک وشفاف معاشرے کوخراب اورتباہ کرنے کے مترادف ہے۔دھوکہ دہی منافق،فاسق اورمجرم شخص کاہی کام ہوسکتاہے۔(نضرۃ النعیم)
  اس رسم کی ادائیگی کاسب سے اہم عنصریہ ہے کہ دوسروں کو’’اُلّوبنانے‘‘کے نام سے عارضی طورپرہی سہی مگرذہنی طورپرپریشان کیاجائے اوراس کوپریشانی کے عالم میں دیکھ کرخوداس کاتماشہ دیکھاجائے اورظاہری وباطنی طورپراپنے اُن احباب کے درمیان جواس رسم ِبدکاحامی وناصرہو ،اظہارمسرت کیا جائے۔اسلام نے اس طوفان بدتمیزی والے رسم ’’اپریل فول‘‘اوردیگرہرقسم کی ایذارسانی سے سختی کے ساتھ منع کیاہےاوراس رسم کی قباحت وشناعت اُس وقت اوربھی بڑھ جاتی ہے جب اُس کاارتکاب کسی کمزوردل مسلمان بہن یابھائی سے کیاجائےکیوں کہ پریشانی کے اچانک جھٹکاسے وہ بے ہوش ہوجائے گااوراَمراض قلب میں مبتلالوگوں کاایسے میں ہارٹ فیل ہوجانااوروفات پاجانابھی کوئی بعیدازقیاس بات نہیں ہے۔ایسے مواقع پرپھروہ کہاوت صادق آتی ہے ،جس میں کہتے ہیں کہ’’چڑیوں کی موت اورگنواروں کی ہنسی‘‘
اپریل فول کی بنیادی تاریخ سے معلوم ہوا ہےکہ یہ کافروں کی جاری کردہ رسم ہےاوراُسے اپنانے والاکافروں کی مشابہت کاارتکاب کرتاہے، جس سے حضورنبی اکرم ﷺنے سختی سے منع فرمایاہے۔جیساکہ ایک مشہوراِرشادنبوی ﷺ ہے:’’من تشبہ بقوم فہومنہم-جس نے کسی قوم سے مشابہت اختیارکی وہ اُنہیں میں سے ہے‘‘۔’’اپریل فول ‘‘کی یہ رسم جھوٹ،دھوکہ دہی،دوسروں کواذیت دینااورکُفّارکی مشابہت اِنہیں چاروں امور پرمشتمل ہیں،اسی لئے اس رسم بدکوشرعاًحرام وناجائزقراردیاگیاہے۔
  افسوس ! خرابیوں کامجموعہ ہونے کے باوجودہرسال’’ یکم اپریل‘‘ کوجھوٹ بول کربیشتر مسلمان اپنے ہی مسلمان بھائیوں کوپریشان کرکے اُن کی ہنسی اُڑانے کوتفریح کانام دے دیتے ہیں۔اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے حبیب مکرم ﷺ کے صدقے میں ایسے لوگوں کوعقل سلیم عطافرمائے اورایسے قبیح فعل سے اپنے دامن کوبچانے کی توفیق عطافرمائے ۔آمین
�������������������
امام روشن مسجد،میسورروڈ،بنگلور26
09108254080

تازہ ترین