ایک جان لیوا وباء

احتیاط ہی مؤثر علاج ہے

2 اپریل 2020 (00 : 01 AM)   
(      )

سید مدثر موسوی
کورونا وائرس نامی مہلک بیماری 2019 کے آخر میں چین کے شہر ووہان میں نمودار ہوئی اور آج پوری دنیا کو اپنی گرفت میں لے چکی ہے۔ امریکہ ، چین، اٹلی وغیرہ جیسے ترقی یافتہ ممالک بے بس اور لاچار دکھائی دے رہے ہیں۔ روزانہ کورونا کے مریضوں میں تیزی سے اضافہ ہوتا جارہا ہے اور مہلوکین کی تعداد بھی بڑھتی چلی جارہی ہے۔ پوری دنیا ایک ایسی وباء کا شکا ر ہے جس کا تاحال دنیا کا کوئی بھی ملک علاج یا کوئی موثر دوا دریافت کرنے میں کامیاب نہیں ہوا ہے۔
کورونا وائرس کا پہلا شکار چین جہاں اب صورتحال قابو میں ہے اور ہزاروں کی تعداد میں مریض صحتیاب ہورہے ہیں۔ چین میں ہر طرح کی آمد و رفت معطل اور شہروں کے تمام بازار بند ہیں۔ اسی طرح دنیا کے دوسرے ممالک نے لاک ڈاون کی راہ اختیار کرکے اس مہلک وائرس کو روکنے کی کوششیں شروع کیں۔ 
آج سوشل میڈیا پر مکمل خبریں آرہی ہیں اور اخبارات وغیرہ کے ذریعے سے ہم تک موجودہ صورتحال کے حوالے سے پیغامات و اطلاعات پہنچ رہے ہیں کہ کس طرح کئی ممالک بے احتیاطی سے کام لیکر کورونا وائرس کے پھیلاو کو نہیں روک پارہے ہیں۔ اٹلی میں اس مہلک مرض سے اب تک سب سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور وہاں کے رہائشی اس بات کا اعتراف بھی کررہے ہیں کہ احتیاطی تدابیر پر عمل نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے ان کے ملک میں زیادہ ہلاکتیں ہورہی ہیں۔ برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن خود اس مہلک مرض میں گرفتار ہوچکے ہیں۔ 
ماہرین کے مطابق ہندوستان کورونا وائرس کا اگلا بڑا شکار ہوسکتا ہے ۔ ہندوستان کے سینٔر فارڈیزیزز ڈائنامکس کے ڈائریکٹر ڈاکٹر راماین لکشمی ناراین نے بی بی سی اردو کے ایک انٹریو میں کہا ہے کہ ‘‘ہندوستان اس مقام پر کھڑا ہے جہاں سونامی کو آتے ہوئے دیکھ رہے ہیں ۔ اگر ہم ٹھوس اقدام نہیں کرپائیں تو اس سونامی میں غرق ہونے کا اندیشہ ہے’’۔ ہندوستان نے وسیع پیمانے پر کرونا بیماری کے خلاف جنگ شروع کردی ہے اور تقریبا سبھی ریاستوں اور یونین ٹیری ٹریز میں لاک ڈاون کا اعلان کردیا ہے۔ اس حوالے سے جموں وکشمیر میں بھی عوام کو گھروں میں ہی قیام کرنے کی صلاح دی گئی۔ اب جبکہ حکومت اور دینی و سیاسی جماعتیں متحرک ہوئی ہیں تاہم عوام کا تعاون کورونا وائرس کی زنجیر کو توڑنے کیلئے انتہائی ناگزیر اور ضروری ہے۔ جموں وکشمیر میں تقریباً 20 فی صدی لوگ اس وباء جس نے ایک خطرناک شکل اختیار کی ہے کے نتائج سے ناآشنا ہیں۔
کورونا نامی یہ جرثومہ بلا لحاظ مذہب و ملت، رنگ و نسل، ذات پات، امیر و غریب، مالک اور نوکر کسی بھی جاندار یا غیر جاندار شے میں جگہ بناتا ہے۔ دنیا کے معروف و مشہور دینی و سیاسی رہنما، شعبہ صحت سے وابستہ قابل ڈاکٹر اور متعدد نامور سماجی کارکنان کی ہدایات انسانی جانوں کو تحفظ فراہم کرنے میں اہم رول ادا کرسکتا ہے بشرطیکہ ان ہدایات پر پیروجوان، زن و مرد، صغیر وکبیر عمل پیرا ہوں۔ پروردگار عالم نے انسان کو ایک بہترین تحفہ عقل کی صورت میں بخشا ہے ،جس کا استعمال کرکے انسان اپنی جان کے ساتھ ساتھ دوسروں کی جان کو بھی تحفظ فراہم کرنے میں مدد کرسکتا ہے۔ مگر بدقسمتی سے بعض لوگ احتیاطی تدابیر کو خاطر میں نہیں لاتے ہیں۔ عبادات سے یقیناً روحانی طہارت اور نفس کو فیض پہنچ سکتا ہے لیکن کورونا جیسی وباء کے حل کیلئے طبی تدابیر پر عمل کرنا انتہائی ضروری ہے۔ احادیث کے مطابق مناجات اور دعاؤں سے بھی استفادہ کیا جاسکتا ہے۔ 
اگر چہ قومی سطح پر تمام ممالک نے طبی تدابیر کو عملانے کیلئے کارگر اقدامات کئے ہیں تاہم عوامی سطح پر ان اقدامات کو مکمل طور پر عملایا نہیں جارہا ہے۔ ایک طرف جموں و کشمیر میں شعبہ صحت سے وابستہ طبی عملہ ، محکمہ پولیس  اور دیگرمتعلقہ محکمہ جات انتہائی مشکل حالات میںاپنی خدمات انجام دے رہے ہیں وہیں دوسری طرف عوام سڑکوں پر بھیڑ جمع کرکے ، میدانوں میں کھیلوں کے ساتھ مصروف رہ کر اور غیر ضروری کاموں کو پورا کرنے کی غرض سے انسانی جانوں کو جوکھم میں ڈال رہے ہیں۔ لوگ ابھی بھی اس مہلک وائرس کو ہلکے میں لے رہے ہیں اور اس وباء کو ایک افواہ تصور کیا جارہا ہے۔ جموں وکشمیر میں کورونا وائرس کے پھیلنے کے خدشات دوسری ریاستوں سے زیادہ محسوس کئے جارہے ہیں۔ بیرون ملک اور بیرون ریاست سے آئے ہوئے افراد کی سفری تاریخ کو چھپانا ، قرطینہ میں مقررہ تاریخ سے پہلے ہی فرار ہونا اور عوام الناس کا گھروں سے باہر نکلنے سے اجتناب نہ کرنا طبی عملہ اور محکمہ پولیس کیلئے پریشانیوں کا باعث بنا ہوا ہے۔ ایسے میں  وادی کے عوام میں تشویش پیدا ہوگئی ہے۔
ایسی صورتحال میں ضروری ہے کہ ہم احتیاطی تدابیر کو اپنائیں تاکہ اپنے عزیز و اقارب کے ساتھ انسانی جانوں کے تحفظ و سلامتی میں اپنی ذمہ داریاں نبھائیں۔ 
�����������������
 پارس آباد بڈگام
 

تازہ ترین