ایک لمحۂ فکریہ!

آئیں اللہ کے حصور سربسجود ہوں

2 اپریل 2020 (00 : 01 AM)   
(      )

آصف یوسف
انہی دنوں میں کرونا وائرس کی تباہ کاریوں کے تناظر میں امام صاحب مسجد نبوی شریف نے ایک خطبہ ارشاد فرمایاہے۔ یہ خطبہ جہاں بہت فکر انگیز تھا وہاں کرب اور سوز و گداز سے بھی لبریز تھا۔اس کے دوران وہ خود بھی اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور حاضرین کو بھی رلا دیا انہوں نے فرمایا:
" اللہ نے مخلوقات اور آباد شہروں میں ایک چھوٹی سی مخلوق چھوڑی تو شہروں کے شہر خالی ہو گئے۔سخت سے سخت جسم بربادہو گئے۔مجمعوں کے مجمعے بکھر گئے۔ مال کا کثیر حصہ تباہ ہو گیا۔اس نے بڑے بڑے سرکشوں کو رسوا کر دیا۔ان کے جمے قدموں کو اکھیڑ دیا، اونچی عمارتوں کو چھوڑا نہ بڑے بڑے لشکروں کو، نہ نیکو کاروں اور عبادت گزاروں کو اور نہ نافرمانوں اور سرکشوں کو۔ جب یہ گنجان اور آباد شہروں اور سخت اتحاد و اتفاق والے علاقوں میں پہنچی تو سانسیں رک گئیں اور حرکت شل ہو گئی گویا کہ کل وہاں کچھ تھاہی نہیں۔۔۔دوستوں کو بھی دشمنوں کے اخلاق لگ گئے۔ اب وہ ایک دوسرے کی ملاقات سے بھاگتےہیں ،بڑی قربت کے بعد اب وہ دور دور نظر آتےہیں، پیاروں کے بیچ بھی اس نے دوریاں پیدا کر دیں ، اب وہ ایک دوسرے کو یوں دیکھتے ہیں جیسے پیاسا سراب کو دیکھتاہے یا قحط زدہ علاقے والا بادل کو تکتاہے۔ "
امام صاحب اس کا سبب بتاتےہیں کہ:
" اس سب کی وجہ ہماری اپنی برائی ہے اور اللہ کی مہربانی کا ہٹ جانا ہے، مت سمجھنا کہ دشمن غالب آ گیا ہے بلکہ یقین کرو کہ محافظ روٹھ گیا ہے۔"
قرآن مجید میں مذکور واقعات کے حوالے سے امام صاحب نے ذکر کیا کہ اللہ تعالی نے گزشتہ امم کو مختلف قسم کی آزمائشوں میں اس لئے ڈالا کہ شائد وہ تائب ہو جائیں، پلٹ آئیں، عاجزی اختیار کر لیں اور شائد کہ انہیں ہوش آجائے۔دلوں کا زنگ بڑھ جائے تو اسے دور کرنے کی تدابیر کی جاتی ہیں۔۔۔۔۔انہوں نے قرآن کی سورہ یوسف کی آیت 100 کا حوالہ دیا جس میں فرمایا گیا ہے۔
(واقعہ یہ ہے کہ میرا رب غیر محسوس تدبیروں سے اپنی مشیت پوری کرتا ھے۔ بے شک وہ علیم و حکیم ہے۔)
 ان حالات میں امام صاحب نے عوام کو جو تاکید کی ہے، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ لوگ صبر و پامردی کے ساتھ صورت حال کا مقابلہ کریں۔ احکام الٰہیہ کے اندر رہتے ہوئے حکمرانوں اور علماءکی طرف سے دی گئی ہدایات پر عمل کریں۔ اپنی اور دوسروں کی جانیں بچانے کے لئے Isolation اختیار کریں اور اس تنہائی کو غنیمت جانتے ہوئے اپنے رب کی طرف رجوع کریں۔دعائیں کریں ،زاری کریں، اپنے گھروںہی کو مسجدیں بنالیں اور وہاں نماز قائم کریں، جلدبازی نہ کریں اور نہ افواہیں پھیلائیں۔
 اللہ تعالی کی اس آزمائش کو اس لحاظ سے ایک نعمت کے طور پر بھی لیا جائے کہ اس نے لوگوں کو رجوع الی اللہ کی راہ دکھائی جیسا کہ امام ابن قیم کا قول ھے کہ:
" اللہ تعالی بطور رحمت اپنے بندوں کو مصائب، پریشانیوں اور آزمائشوں میں مبتلا کرتا ہے تاکہ وہ ان کی خطائیں معاف فرما دے۔لہٰذا یہ اللہ کی عظیم نعمتوں میں سے ہیں اگرچہ لوگوں کے دل اسے ناپسند کرتے ہیں۔
 حکومتیں اور ذمہ دار ادارے جہاں اپنے وسائل کے مطابق اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں وہاںہم سب کو چاہئیے کہ بھرپور تعاون کریں اور وہ سب طریقے اختیار کریں جن سے یہ وبا جلد از جلد ختم ہو،ہماری بے احتیاطی اور عدم تعاون اجتماعی خرابی اور اس پریشانی کے بڑھنے اور طویل ترہونے کا باعث بن سکتی ہے ۔اس حوالے سے Isolation سب سے ضروری ہے ،یوں سمجھ لیا جائے کہ گویا ہم جیل میں ہیں۔۔۔۔۔اس کی سختیاں حضرت یوسف علیہ السلام کی طرح خندہ پیشانی سے برداشت کریں۔
اس فرصت کے زمانے کوہم بہت مفید اس طرح بنا سکتے ہیں کہ :
ہم اللہ تعالی کی طرف رجوع بڑھائیں۔نماز کی پابندی کریں۔تمام افراد خانہ مل کر جماعت کا اہتمام کر لیا کریں۔ قرآن مجید نہ صرف ناظرہ پڑھیں بلکہ ترجمہ و تفسیر کے ساتھ بھی اس کا مطالعہ کریں۔ احادیث میں مذکور اور علما  و مشائخ کی طرف سے ہدایات کردہ اوراد و وظائف بھی اپنے معمول میں شامل کریں درج ذیل کا اہتمام ان شاء اللہ بہت مفید رہے گا۔۔۔
� آیت کریمہ� یا حیی یا قیوم برحمتک استغیث� حسبنا اللہ و نعم الوکیل 
 �طلبہ اپنا نصابی مطالعہ منقطع ہرگز نہ کریں ، بلکہ ٹائم ٹیبل بنا کر اسے جاری رکھیں ،دینی لٹریچر کے مطالعے کے لئے بھی کچھ وقت نکالیں۔جن جن امور میں خامیاں رہ گئی ہوں انہیں دور کرنے کی سعی کریں۔گزشتہ کے out standing کام اس وقت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انجام دے لیں۔
�اپنے اہل خانہ ، اقارب اور احباب سے بہت حسن سلوک اور اعلی اخلاق سے پیش آئیں غلطیوں اور زیادتیوں کی معذرت کر لیں۔
� اگر ممکن ہو اور ضروری ہو جائے تو ان ہنگامی امدادی سرگرمیوں کو سپورٹ کریں۔
� لوگوں میں اس وبا کے حوالے سے Awareness عام کرنے کے لئے انٹرنیٹ یا دیگر ذرائع بھی اعتدال کے ساتھ استعمال کریں۔
�سب سے اہم بات یہ کہ اسے اللہ کی طرف سے آزمائش سمجھ کرہمت اور صبر سے اس کا مقابلہ کریں۔جو تقدیر میں لکھا ہے وہ توہو کر رہنا ہے ، اصلاح احوال کے لئے جوہم کر سکیں اس میں کوتاہی نہ کریں، ان شاء اللہ مشکل کے ساتھ آسانی بھی ہو۔
ان مع العسر یسرا
 

تازہ ترین