تازہ ترین

پازیٹو قرار دیئے گئے ڈاکٹر کے اہل خانہ سکتے میں

تبلیغی جماعت سے کوئی رابطہ نہ کیا، کبھی سبزی خریدنے بھی نہیں نکلا

1 اپریل 2020 (54 : 01 AM)   
(      )

سید امجد شاہ
جموں //گزشتہ روز جموں میں کورونا وائرس میں مبتلا پائے گئے ڈاکٹر کے اہل خانہ سکتے میں ہیں اور انہوںنے ہسپتال انتظامیہ کے اس دعوے کو مسترد کردیاہے کہ ہوسکتاہے کہ مذکورہ ڈاکٹرکا تبلیغی جماعت کے کسی کرونا مریض سے رابطہ رہاہو۔اہل خانہ نے کشمیرعظمیٰ کو بتایاکہ ڈاکٹر کبھی سبزیاں خریدنے گھر سے باہر بھی نہیں گیا لیکن یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ اسے وائرس کیلئے تبلیغی جماعت سے نتھی کیاجارہاہے ،وہ تو براہ راست گھر سے ہسپتال اور ہسپتال سے گھر آتاتھا۔گورنمنٹ میڈیکل کالج و ہسپتال جموں میں تعینات اس ڈاکٹر کے کورونا میں مبتلا پائے جانے کے بعد حکام نے اس کی اہلیہ جو سابق پولیس افسر ہیں، کے علاوہ زیا بیطس کاشکار والدہ کوریلوے اسٹیشن روڈ پرواقع سکاسٹ یونیورسٹی کے گیسٹ ہائوس میں قرنطینہ کیاہے جبکہ ان کے محافظ ایس پی او کوسانبہ میں قرنطینہ میں رکھاگیاہے۔ اہل خانہ نے بتایاکہ ڈاکٹر کو13سے 19مارچ تک نمونے حاصل کرنے کی ڈیوٹی پر تعینات رکھاگیاتھا اوراسے صرف ایک ماسک فراہم کیاگیا جس کے علاوہ کوئی دیگر تحفظاتی شئے نہیں دی گئی ۔انہوںنے الزام لگایاکہ اس سے تحفظ فراہم کئے گئے بغیر خدمات حاصل کی گئیں اور اب انتظامیہ تبلیغی جماعت سے جوڑ رہی ہے ۔ اہل خانہ نے بتایاکہ ڈیوٹی سے واپس لوٹنے کے بعد اس نے تھکاوٹ کی شکایت کی اور ایک گھنٹے کے اندر ہی ایمبولینس کے ذریعہ ہسپتال منتقل کیاگیا۔انہوںنے مزید بتایاکہ ان کے نمونے لینے کیلئے کوئی سکاسٹ گیسٹ ہائوس نہیں آیا اور نہ ہی ڈاکٹر کی علیل والدہ کو دوائی فراہم کی گئی ہے ۔گورنمنٹ میڈیکل کالج و ہسپتال جموں کے شعبہ مائیکرو بائیولوجی کی سربراہ ڈاکٹر ششی سودن نے رابطہ کرنے پر بتایاکہ ڈاکٹر کے اہل خانہ کے نمونے آج لئے جائیں گے ۔انہوںنے بتایاکہ ڈاکٹر نمونے حاصل کرنے والی ٹیم کا حصہ تھا لیکن یہ بات غلط ہے کہ اسے تحفظاتی اشیاء فراہم نہیں کی گئیں ۔انہوںنے بتایاکہ شروع ہی سے سازوسامان بڑی تعداد میں دستیاب ہے تاہم ایسا ہوسکتاہے کہ اس نے اس کی مانگ نہ کی ہو۔