کرغستان میں کشمیری طلاب کی کسمپرسی

نجی اسکولوں کی انجمن کا اظہار تشویش

1 اپریل 2020 (37 : 01 AM)   
(      )

نیوز ڈیسک
سرینگر//نجی اسکولوں کی انجمن نے حکومت ہنداور جموں کشمیرسرکارپرزوردیا ہے کہ وہ کرغستان میں پھنسے کشمیری طالب علموں تک پہنچنے کی کوشش کریں کیوں کہ انہیں وہاں خوراک اور پیسوں کی عدم دستیابی کی وجہ سے شدید مشکلات درپیش ہیں ۔انجمن نے کہا ہے کہ کرغستان ،بنگلہ دیش کے بعد ایم بی بی ایس کی تعلیم حاصل کرنے کیلئے کشمیرکے طلاب کی مقبول جگہ ہے لیکن مقامی حکومت نے اس ملک کو مکمل طور نظر اندازکیا ہے ۔ نجی اسکولوں کی انجمن  کے صدرجی این وارنے کہا ’’ ہمارے اندازے کے مطابق وہاں جموں کشمیر کے500طالب علم مختلف میڈیکل کالجوں میں ایم بی بی ایس کی تعلیم حاصل کررہے ہیں،یہ تعداد بنگلہ دیش کے بعد دوسرے نمبر پر ہے، لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ یہ ملک حکام کی نظر میں نہیں ہے‘‘ ۔ کرغستان حکومت نے کروناوائرس کی روکتھام کیلئے ملک میں مکمل لاک ڈائون کااعلان کیا ہے اورانہوں نے ہوسٹلوں سے طلباء کو نکالاہے جنہیں قرنطینہ مراکزمیں تبدیل کیاگیا ہے ۔انہوں نے کہا’’اب ہمارے طالب علم کرایہ کے فلیٹوں میں محدود وسائل کے ساتھ رہ رہے ہیں‘‘ ۔انجمن نے کہا کہ لاک ڈائون کی وجہ سے طلباء ضروری اشیاء حاصل نہیں کرسکتے ہیں ۔وار نے کہا’’ ہماری اطلاعات کے مطابق مہاراشٹر کے ایک طالب علم کو باہر نکلنے پر تین لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا،اس سے وہاں طلبا میں خوف پیدا ہواہے،بینک بند ہونے کی وجہ سے اے ٹی ایم بھی کام نہیں کررہے ہیں اور ہمارے طلباء کو لازمی اشیاء حاصل کرنے میں مشکلات پیش آرہی ہیں‘‘ ۔انہوں نے کہا کہ انہیں ،نہیں معلوم کہ وہ کس سے رابطہ قائم کریں ۔انہوں نے کہا کہ طلباء کو موجودہ حالات کا ادراک ہے اور وہ واپسی کیلئے زورنہیں دے رہے ہیں لیکن وقت کاتقاضا ہے کہ ان کی کرغستان میں مدد کی جائے ۔انجمن نے جموں کشمیرحکومت سے استدعاکی ہے کہ وہ نئی دہلی کے ساتھ یہ معاملہ اُٹھا کر کرغستان میں کشمیری طلباء کیلئے کسی راحت کا بندوبست کریں ۔
 

تازہ ترین