سچائی ۔صدیقیت کا مقام ہے | تاریخی نقطہ نظر سے اپریل فول کی حقیقت

سبق آموز

تاریخ    1 اپریل 2020 (00 : 12 AM)   


صہیب قاسم ندوی ۔الٰہی باغ
اسلام ایک ایسا مکمل نظام حیات انسان کو پیش کرتا ہے جس کی نظیر ملناناممکن ہے،اسلام کے تمام شعبہ ہائے زندگی میں جو راہ نما اصول مسلمانوںکے پاس ہیں کسی اور مذہب میں نہیں پائے جاتے ،چاہے وہ اخلاقیات ہوں،سماجیات ہوں، سیاسیات ہوں،یا معاشرتی زندگی ہو، نیز زندگی کے ہر شعبہ میں جامع ہدایات موجود ہیں جس سے انسان کی دنیاوی اور اخروی دونوں جہاں آباد ہیں اور اس کی کامیابیوں اور کامرانیوں کا مرجع اور محوراسی دین حنیف پر موقوف ہیں۔مگر بدقسمتی سے آج یہ انسان مختلف خرافات اور باطل نظریات کا پیروکار بن چکاہے اور ستم ظریفی کا حال تو یہ ہے کہ ان خرافات میں مسلمان مرد عورتیں بھی پیش پیش نظر آتے ہیں،آج کا یہ روشن خیال مسلمان جس میں زیادہ تر تعداد تعلیم یافتہ طبقے پر منحصرہیں ان غیراسلامی شعائراور روایات کو اپنانے پر فخر محسوس کرتا ہے، جن کی اسلام میںکوئی حیثیت نہیں۔انہیں غیر اسلامی رسوم میں ایک رسم اپریل فول ہے، جو یکم اپریل کو منایا جاتا ہے۔ جس دن غیرت اور حیا کا جنازہ نکالا جاتا ہے،ایکدوسرے کی تذلیل و تضحیک کی جاتی ہیں،لوگوں کو بے وقوف بنانے کے لئےاخبارات میں سنسنی خیز سرخیوں کے ساتھ خبریں شائع ہوتی ہیں، جسے پڑھ کرلوگ تھوڑی دیرکے لیے ورطہء حیرت میں پڑجاتے ہیں۔بعدمیں پتہ چلتاہے کہ آج یکم اپریل ’’اپریل فول‘‘ہے۔یہ سراسر شیطانی افعال ہیں جس کا ہمارے دینِ حنیف سےکوئی تعلق نہیں اور ایسی بیہودہ حرکتیں کرنا اسلامی تعلیمات اور اسلامی شعائر کے عین خلاف ہیں۔
انسائیکلو پیڈیا انٹرنیشنل کے مطابق مغربی ممالک میں یکم اپریل کو عملی مذاق کا دن قرار دیا جاتا ہے اس دن ہر طرح کی نازیبا حرکات کی چھوٹ ہوتی ہے اور جھوٹے مذاق کا سہارا لے کر لوگوں کو بیوقوف بنایا جاتا ہے۔ یہ یورپ سے شروع ہوا اور اب ساری دنیا میں مقبول ہے۔ 1508ء سے 1539ءکے ولندیزی اور فرانسیسی ذرائع ملتے ہیں جن سے یہ پتہ چلتا ہے کہ مغربی یورپ کے ان علاقوں میں یہ تہوار تھا جسے انتہائی خو ش دلی سے مسلمانوں کے خلا ف عظیم فتح کی یاد میں منایا جاتا تھا۔
برطانیہ میں اٹھارویں صدی کے شروع میں اس کا عام رواج ہوا۔اپریل لاطینی زبان کا لفظ Aprilis   یا Aprire   سے ماخوذ ہے جس کا مطلب ہے پھولوں کا کھلنا، کونپلیں پھوٹنا،قدیم رومی قوم موسم بہار کی آمد پرشراب کے دیوتا کی پرستش کرتی اور اسے خوش کرنے کیلئے لوگ شراب پی کر اوٹ پٹانگ حرکتیں کرنے کیلئے جھوٹ کا سہارا لیتے ،یہ جھوٹ رفتہ رفتہ اپریل فول کا ایک اہم حصہ بن گیا۔بعض مصنّفین کا کہنا ہے کہ فرانس میں سترہویں صدی سے پہلے سال کا آغازجنوری کے بجائے اپریل سے ہوا کرتا تھا، اس مہینے کو رومی لوگ اپنی دیوی’’وینس‘‘ (Venus) کی طرف منسوب کرکے مقدس سمجھا کرتے تھے، تو چونکہ سال کایہ پہلا دن ہوتا تھا،اس لیے خوشی میں اس دن کو جشن کے طور پر منایا کرتےتھے اور اظہارِ خوشی کے لیے آپس میں ہنسی مذاق بھی کیا کرتے تھے، تو یہی چیز رفتہ رفتہ ترقی کرکے اپریل فول کی شکل اختیار کرگئی۔اس کی ایک وجہ یہ بھی بیان کی گئی ہے کہ21 مارچ سے موسم میں تبدیلیاں آنی شروع ہوجاتی ہیں۔ ان تبدیلیوں کو بعض لوگوں نے کچھ اس طرح تعبیر کیا کہ قدرت ہمارےساتھ مذاق کر کے ہمیں بے وقوف بنا رہی ہے (یعنی کبھی سردی ہوجاتی ہے توکبھی گرمی بڑھ جاتی ہے، موسم کے اس اتار چڑھاؤ کو قدرت کی طرف سے مذاق پرمحمول کیا گیا) لہٰذا لوگوں نے بھی اس زمانے میں ایک دوسرے کو بے وقوف بنانا شروع کردیا۔انسائیکلوپیڈیاآف برٹانکااورانسائیکلولاروس کامصنف اپریل فول کے تعلق سے لکھتا ہیں کہ’’جب یہودیوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کوگرفتارکرلیااوررومیوں کی عدالت میں پیش کیاتورومیوں اور یہودیو ں کی طرف سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کےساتھ مذاق،تمسخر، استہزا اور ٹھٹھاکیاگیا۔ان کوپہلے یہودی سرداراورعلماکی عدالت میں پیش کیاگیا پھر پیلاطس کی عدالت میں لے گئے کہ فیصلہ وہاںہوگا،پھروہاں سے ہیروڈیلس کی عدالت میں پیش کیاگیا،پھرہیروڈیلس سے پیلاطس کی عدالت میں فیصلے کے لیے بھیجاگیا،ایسامحض معاذ اللہ تفریحاً کیاگیا‘‘۔لوقاکی انجیل میں اس واقعے کویوں بیان کیاگیاہے’’جب لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کوگرفتارکیے ہوئے تھے تویہودان کی آنکھیںبند کرکے منھ پرطمانچہ مارکرٹھٹھاکرتے تھے۔ ان سے یہ کہتے تھے کہ نبوت یعنی الہام سے بتاکہ کس نے تجھے مارا۔اس کے علاوہ اوربہت سی باتیںبطورطعنہ کہتے تھے‘‘۔ (معاذ اللہ)فریدی وجدی نے اپنی انسائیکلوپیڈیامیں لکھاہے کہ’’میرے نزدیک بھی اپریل فول کی حقیقت یہ ہے کہ یہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی گرفتاری،ان کی شان میں توہین،ان کے ساتھ مذاق اورتکلیف پہنچا نے کی یادگارہے‘‘۔
دوسری روایات میں یہ واقعہ بیان کیا جاتا ہے کہ جب عیسائی افواج نے اندلس کو فتح کیا تو اس و قت اندلس کی زمین پر مسلمانوں کا اتنا خون بہا یا گیاکہ فاتح فوج کے گھوڑے جب گلیوں سے گزرتے تھے تو ان کی ٹانگیں گھٹنوں تک مسلمانوں کے خون میں ڈوبی ہوتی تھیں۔ جب قابض افواج کو یقین ہوگیا کہ ا ب اندلس میں کوئی بھی مسلمان زندہ نہیں بچا ہے تو انہوں نے گرفتار مسلمان فرما روا کو یہ موقع دیا کہ وہ اپنے خاندان کیساتھ واپس مراکش چلا جائےجہاں سے اس کے آباؤ اجداد آئے تھے۔قابض افواج غرناطہ سے کوئی بیس کلومیٹردور ایک پہاڑی پر اسے چھوڑ کر واپس چلی گئی۔جب عیسائی افواج مسلمان حکمرانوں کو اپنے ملک سے نکال چکیں تو حکومتی جاسوس گلی گلی گھومتے رہے کہ کوئی مسلمان نظر آئے تو اسے شہید کردیاجائے،جو مسلمان زندہ بچ گئے وہ اپنے علاقے چھوڑ کر دوسرے علاقوں میں جابسے اور وہاں جا کر اپنے گلوں میں صلیبیں ڈال لیں اور عیسائی نام رکھلئے۔اب بظاہراندلس میں کوئی مسلمان نظر نہیں آرہا تھا مگر اب بھی عیسائیوں کو یقین تھا کہ سارے مسلمان قتل نہیں ہوئے ،کچھ چھپ کر اور اپنی شناخت چھپا کر زندہ ہیں۔ اب مسلمانوں کو باہر نکالنے کی ترکیبیں سوچی جانےلگیں اور پھر ایک منصوبہ بنایا گیا۔پورے ملک میں اعلان ہوا کہ یکم اپریل کو تمام مسلمان غرناطہ میں اکٹھےہوجائیں تاکہ انہیں انکے ممالک بھیج دیا جائے جہاں وہ جانا چاہیں۔اب چونکہ ملک میں امن قائم ہوچکا تھا اور مسلمانوں کو خود ظاہر ہونے میںکوئی خوف محسوس نہ ہوا، مارچ کے پورے مہینے اعلانات ہوتے رہے، الحمراء  کےنزدیک بڑے بڑے میدانوں میں خیمے نصب کردیئے گئے، جہاز آکر بندرگاہ پرلنگرانداز ہوتے رہے، مسلمانوں کو ہر طریقے سے یقین دلایا گیا کہ انہیںکچھ نہیں کہا جائے گا ،جب مسلمانوں کو یقین ہوگیا کہ اب ہمارے ساتھ کچھ نہیں ہوگا تو وہ سب غرناطہ میں اکٹھے ہونا شروع ہوگئے، اسی طرح حکومت نےتمام مسلمانوں کو ایک جگہ اکٹھا کرلیا اور انکی بڑی خاطر مدارت کی۔یہ کوئی پانچ سو برس پہلے یکم اپریل کا دن تھا جب تمام مسلمانوں کو بحری جہاز میں بٹھا یا گیا، مسلمانوں کو اپنا وطن چھوڑتے ہوئے تکلیف ہورہی تھی مگر اطمینان تھا کہ چلو جان تو بچ جائے گی۔ دوسری طرف عیسائی حکمران اپنےمحلات میں جشن منانے لگے،جرنیلوں نے مسلمانوںکو الوداع کیا اور جہازوہاں سے چل دیئے، ان مسلمانوں میں بوڑھے، جوان، خواتین، بچے اور کئی ایک مریض بھی تھے۔ جب جہاز سمندر کے عین وسط میں پہنچے تو منصوبہ بندی کے تحت انہیں گہرے پانی میں ڈبو دیا گیا اور یوں وہ تمام مسلمان سمندر میں ابد ی نیند سوگئے۔اس کے بعداندلس میں خوب جشن منایا گیا کہ ہم نے کس طرح اپنے دشمنوں کوبیوقوف بنایا۔پھر یہ دن اندلس کی سرحدوں سے نکل کر پورے یورپ میں فتح کا عظیم دن بن گیا اور اسے انگریزی میں First April Fool کا نام دیدیا گیا یعنی یکم اپریل کے بیوقوف۔آج بھی عیسائی دنیامیں اس دن کی یاد بڑے اہتمام سے منائی جاتی ہے اور لوگوں کو جھوٹ بول کر بیوقوف بنایا جاتا ہے۔
اردوکی مشہورلغت ’’نوراللغات‘‘۱/۱۴۲میں اپریل فول کے تعلق سے مصنف مولوی نورالحسن نیرلکھتے ہیں:’’اپریل فول انگلش کااسم ہے اس کامعنیٰ اپریل کااحمق ہے اورحقیقت یہ ہے کہ انگریزوں میں دستور ہے کہ اپریل میں خلاف قیاس دوستوں کے نام مذاقاًبیرنگ خط،خالی لفافے میں یااوردل لگی کی چیزیں لفافے میں رکھ کربھیجتےہیں۔ اخبارو ں میں خلاف قیاس خبریں چھاپی جاتی ہیں۔جولوگ ایسے خطوط لےلیتے ہیں یااس قسم کی خبرکومعتبرسمجھ لیتے ہیں وہ اپریل فول قرارپاتےہیں۔
واضح رہے کہ تمسخر و استہزاء اسلامی تعلیمات کے منافی ہے۔ شریعت اسلامی ہمیں نہ کسی فرد کو دوسرے فرد سے تمسخر کرنے کی اجازت ہے اور نہ کسی جماعت کو دوسری جماعت کیساتھ استہزاءکی اجازت دی گئی ہے۔ مسلمانوں کو مزیداحتیاط سے کام لینا چاہئے، لیکن افسوس صد افسوس مسلمانوں پر کہ جنہیں خیرامت کا اعزاز ملا ہے اور رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے یہود ونصاریٰ کی صریح مخالفت کی تاکید کے باوجود آج وہ اپنے ازلی دشمن یہودونصاریٰ کے جملہ رسم و رواج، طرزعمل اور فیشن کو بڑی ہی فراخ دلی سے قبو ل کر رہے ہیں جب کہ انہیں اس سے بچنے اور احتیاط کرنے کی سخت ضرورت ہے۔مسلمانوں کا اپریل فول منانا قطعاًجائز نہیں ہیں،کیونکہ اس میں کئی مفاسدہیں جو ناجائز اور حرام ہیں۔اس میں غیرمسلموں سے مشابہت پائی جاتی ہے، جس کے تعلق سے سنن ابو داود میںابن عمرؓ ?اللہ کے رسول ؐ سے روایت کرتے ہیں کہ’’ جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی تووہ انہی میں سے ہے‘‘(سنن ابی داؤد،حدیث نمبر4031)۔ ایک واضح قباحت اس میں یہ بھی ہےکہ جھوٹ بول کر دوسروں کو پریشان کیا جاتا ہے اور جھوٹ بولنا شریعت اسلامی میں ناجائز اور حرام ہے۔ حدیث مبارکہ میں ہے: ام المؤمنین حضرت عائشہ?ؓسے روایت ہیں کہتی ہیںکہ رسول اللہ ?صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک جھوٹ سے بڑھ کر کوئی اور عادت نفرت کے قابل ناپسندیدہ نہیں تھی اور جب کوئی آدمی نبی اکرم ?صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جھوٹ بولتا تو وہ ہمیشہ آپکی نظر میں قابل نفرت رہتا ،یہاں تک کہ آپ جان لیتے کہ اس نے جھوٹ سے توبہ کرلی ہے۔(سنن ترمذی، حدیث نمبر:1973)بلکہ ایک حدیث مبارک میں تو جھوٹ بولنے کو منافق کی علامت قرار دیا گیاہے۔صحیح بخاری میں ابو ہریرہ?ؓسے روایت ہے کہ رسول اللہ ?صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’منافق کی تین علامتیں ہیں۔ جب بات کرے جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے اس کے خلاف کرے اور جب اس کو امین بنایا جائے تو خیانت کرے‘‘(  صحیح بخاری،حدیث نمبر:33)۔اس دن جھوٹ کی بنیاد پربسا اوقات دوسروں کے بارے میں غلط سلط باتیں پھیلا دی جاتی ہیں، جس کیوجہ سے ان کی عزت خاک میں مل جاتی ہے،جو حرام ہے۔حدیث میں ہے: ابن عباس ؓ بیان کرتےہیں کہ رسول اللہ ؐ نے فرمایاتمہارے خون، تمہارے مال اور تمہاری عزت ایکدوسرے پر اس طرح حرام ہے جیسے اس دن کی حرمت اس مہینے اور اس شہر میں ہے(صحیح بخاری، حدیث نمبر:1739)۔
مشکوٰ?ۃشریف میں حضرت اسدحضرمی روایت کرتے ہیںکہ میں نے رسول اللہ ?صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ یہ بڑی خیانت ہے کہ تو اپنے بھائی سے ایسی گفتگو کرے جس میں وہ تجھے سچاسمجھتا ہو حالانکہ تو اس سے جھوٹ بول رہا ہو۔(مشکوٰۃ شریف جلد ۲،حدیث نمبر:4845)
 ایک اور روایت میں ہے : حضرت بہز بن حکیم اپنے والد معاویہ کے واسطہ سے اپنے داداحیدہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا:’’جو شخص لوگوں کو ہنسانے کے لیے جھوٹ بولے اس کے لیے بربادی ہو،2315:بربادی ہو، بربادی ہو‘‘(ترمذی شریف،حدیث نمبر:2315:)مطلب یہ ہے کہ صرف لطف صحبت اور ہنسنے ہنسانے کے لیے جھوٹ بولنا بھی ممنوع ہے۔ آج کل لوگ نت نئے چٹکلے تیار کرتے ہیں اور محض اس لیے جھوٹبولتے ہیں تاکہ لوگ ہنسیں، انھیں آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشادیاد رکھنا چاہیے اور اس برے فعل سے باز آنا چاہیے۔اخیر میں ہم اس حدیث کو بیان کرتے ہیں : عبداللہ بن مسعود ?بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ?ؐنے فرمایاسچ بولاکرو، اس لیے کہ سچ نیکی کی طرف رہنمائی کرتا ہے اور نیکی جنت کیطرف رہنمائی کرتی ہے، آدمی ہمیشہ سچ بولتا ہے اور سچ کی تلاش میں رہتاہے، یہاں تک کہ وہ اللہ کے نزدیک سچا لکھ دیا جاتاہے، اور جھوٹ سے بچو،اس لیے کہ جھوٹ گناہ کی طرف رہنمائی کرتا ہے اور گناہ جہنم میں لے جاتاہے، آدمی ہمیشہ جھوٹ بولتا ہے اور جھوٹ کی تلاش میں رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ کے نزدیک جھوٹا لکھ دیا جاتا ہے.(جامع ترمذی،حدیث نمبر:1971)
معلوم ہوا کہ ہمیشہ جھوٹ سے بچنا اور سچائی کو اختیار کرنا چاہیئے،کیونکہ جھوٹ کا نتیجہ جہنم اور سچائی کا نتیجہ جنت ہے۔اسلامی اخلاقیات میں اولین اہمیت رکھنے والی چیز صدق یعنی سچائی ہے جوکردار کی تعمیر کےلیے بنیاد کی حیثیت رکھتی ہے جو شخص ہمیشہ سچ بولتا ہےاور ہر سچی بات کو قبول کرنے کے لیے آمادہ رہتا ہے وہ اپنے کو صحیح رخ پرڈال دیتا ہے جس کے نتیجہ میں اس کا کردار سچائی کے سانچے میں ڈھل جاتا ہےاور اس کی زندگی سنور جاتی ہے، ایسا شخص اللہ کی طرف سے آئی ہوئی سچائی کو آگے بڑھ کر قبول کر لیتا ہے کیونکہ جس شخص نے سچائی کا وصف اپنے اندرپیدا کر لیا ہو ،اللہ تعالیٰ کی ہدایت کو جو سچائی کا چشمہ ہے کس طر ح جھٹلا سکتا ہے۔گویا راست گفتاری انسان کو راست روی پر ڈال دیتی ہے اور وہ اس کی بدولت جنت میں پہونچ جا تا ہے زندگی میں ایسے نازک مواقع آتے ہیں جب کہ انسان کی سچائی کا امتحان ہوتا ہے لیکن جو شخص اللہ کی خاطر نقصان برداشت کرنےکے لیے تیار ہو جاتا ہے اور سچائی پر قائم رہنے کے لیے ہر طرح کی قربانیاں دیتا ہے وہ مجسم سچائی بن جاتا ہے۔ یہ صدیقیت کا مقام ہے جوانسان کے ارتقا کی آخری منزل ہے،بر خلاف اس کے جو شخص جھوٹ بولتا ہے ،وہ اپنے کو غلط رخ پر ڈال دیتا ہے جسکے نتیجہ میں غلط ذہنیت پرورش پاتی ہے اور اسے بداخلاقی و بدکردار بنا کرچھوڑتی ہے اور آخرت میں اس کا انجام یہ ہو گا کہ اسے جہنم کی سزا بھگتناہو گی۔ یہ بھی واقعہ ہے کہ آدمی جھوٹ بولنے لگے تو وہ رفتہ رفتہ جھوٹ کاعادی ہو جاتا ہے اور پھر یہ عادت اتنی پختہ ہو جاتی ہے کہ وہ زبردست جھوٹا آدمی بن کر رہ جاتا ہے۔
suhaibqasim2009@gmail.com
9469033846