بَلائیں اور آفتیں | تماشہ نہیں عذابِ الہیٰ ہیں

1 اپریل 2020 (00 : 12 AM)   
(      )

محمد قاسم
اس وقت کم و بیش پوری دنیا کے عوام ایک نئی جان لیوا ’کرونا وائرس‘ نامی بیماری کی مار جھیل رہے ہیں جس کے یک طرفہ پھیلاؤ سے پورا انسانی معاشرہ تھرتھر کانپ رہا ہے اورفضا کو مسموم کرنے کے بعد اس مُہلک و جان لیواوائرس’ نے چھوٹے بڑے، امیر غریب، حاکمِ اَعلیٰ و محکومِ اَدنیٰ سے لےکر اپنے پرایوں اور عام خاص کی تمیز کو یکسر مِٹا کر رکھ دیا ہے۔ چنانچہ جیسے جیسے یہ وائرس اپنی ظالمانہ آغوش کو دراز سے دراز تَر کرتا جا رہا ہے ویسے ویسے اس بھیانک اور ہر سطح پر تباہی خیز ثابت ہونے والے مادہ اور آفاقی شئی، جسے کسی طبقے کے مابین تو قُدرتی وبا و بَلا سے تشبیہ دی جا رہی ہے تو کہیں اسے قدرت کی طرف سے لوگوں کے امتحان و آزمائش سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ بھی آراء سامنے آ رہی ہیں، مثلاًیہ ایک نئی متعدّی بیماری ہے جو ملکِ چین سے پوری دنیا میں پھیلی ہے، جبکہ کچھ کا نظریہ یہ بھی ہے کہ یہ سب امریکہ اور چین کی سازشی حرکت ہے کیوں کہ وہ اپنے ملک سمیت پوری دنیا سے چند سالوں میں غریبی بالفاظ دیگر غریبوں کا خاتمہ کرنا چاہتے تھے ،اصل حقیقت کیا ہے،اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔کرونا وائرس کی وجہ سے آج پوری دنیا نفسانی خوف میں مبتلا ہے اور لوگ ڈرے سہمے اپنے طور پر یا حکومت کی جاری کردہ ہدایات پر محفوظ مقامات میں خود کو محبوس و محصور کئے عالَم ِحیرانی و پریشانی میں ڈوبے ہیں اور جلد از جلد اس مسموم وائرس کے ختم ہونے کا انتظار کر رہے ہیں تاکہ عالم مبہوتی سے نکل کر خود کو کھلی و آرام دہ فضااور پُرسکون ماحول سے لطف اندوز کر سکیں۔
ایک طرف تو لوگوں کی پریشان کُن حالت کا یہ عالَم ہے تو وہیں دوسری طرف ذرا ان لوگوں کو بھی دیکھئے جو ماحول کی اس کشمکش اور جلوے بِکھیرتی سنگینی کے دوران کس کس انداز میں اپنا ناقِص کردارنبھاتے پائے گئے اور اس بَلائے آسمانی اور آفتِ ناگہانی میں’زبان کے چٹوروں اور کانوں کے رسیا ‘افراد کی مانند مذاق اڑاتے رہے، اس ناہَنجار و نامراد ٹولے نے متأثرہ علاقوں اور متأثرہ لوگوں پر تفریحِ طبع اور مُوڈ فریش کے بہانے ایسے ایسے لطیفے اور جوکس گھڑے کہ ألأمان والحفیظ۔ وہیں ایک بڑی تعداد ایسے ماہرین کی بھی سامنے آئی جن کی تمام معلومات کا منبع ’’واٹس اپ اور فیس بک یونیورسٹی‘‘ ہے اور وہ یہیں سے اخذ کردہ معلومات کو فارورڈ کرنے میں لگے ہیں، گویا خود ساختہ معالج و حکیم بن کر’’کرونا وائرس‘‘ جیسی متعددومہلک بیماری اور اس کے جراثیم سے نمٹنےپر گِیان تقسیم کرنے میں لگے ہیں۔بہر کیف ! ملکی پیمانوں سے نکل کر عالمی سطح پر جیسے جیسے یہ وائرس پھیلتا گیا لوگوں میں تشویش، تکلیف اور اندیشے مزید گہرے ہوتے چلے گئے اور گزرتے وقت کے ساتھ اس نے کیسی خطرناک صورتحال اختیار کر لی ہے اسے اب ہم اور پوری دنیا آنکھوں سے دیکھ رہی ہے۔
مگر اس نازک اور پریشان کُن گھڑی میں ہم بھی اپنے اختراعی ذہن اور خدا داد صلاحِیت کی بنیاد پر وقتاً فوقتاً’’واٹس اپ اسٹیٹس‘‘ پر (جس میں الفاظ کی تحدید کے ساتھ اپنی بات مکمل کرنا ہوتی ہے) قرانی آیات کے جملے فقروں سے ماخوذ مختصر تحریریں: جن میں صبر و تسلی، قناعت و توکُّل، رجوع اِلی اللہ، نمازِ پنج وقتہ کے ساتھ تلاوتِ قرآن کی پابندی، کثرت کے ساتھ توبہ استغفار کرنے اور خود کو زیادہ سے زیادہ وقت دعا و مُناجات میں مشغول رکھنے نیز اپنے کریم رب کی ذاتِ وَحْدہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ پر کلی طور پر اعتماد و یقین رکھنے جیسے موضوعات پر مشتمل حالاتِ حاضرہ کی سنگینی کو سمجھنے اور اس کا مَداوا کرنے کےلئے اپنی ان مختصر تحریروں کو قرآنی آیات کی روشنی میں ڈھال کر بَشکلِ اسٹیٹس سوشل میڈیا پر شئر و اپ لوڈ کرتے رہے، چنانچہ اسٹیٹس کی شکل میں مرقوم یہ تحریریں جب سوشل میڈیا پر وابستہ دوست احباب کی نظر سے گزریں تو بہت سے احباب نے اسی وقت انتہائی پسندیدگی کا اظہار کیا اور ہِمّت افزائی کر مبارک باد پیش کی، وہیں کچھ احباب کی طرف سے یہ تقاضا بھی مسلسل ہوتا رہا کہ قرآنی آیات سے مُستعار ان مختصر ترین ’’اسٹیٹس‘‘ کو افادۂ عام کی خاطِر باضابطہ تحریر اور پِرنٹ کی شکل دے دی جائے تو اور بھی زیادہ بہتر و مناسب ہوگا۔ چنانچہ جب ان اسٹیٹس کی تعداد دس سے مُتجاوز ہو گئی تو احباب کے اخلاصِ نیت پر مبنی مشورہ اور تقاضے کو عملی جامہ پہنانے کےلئے ان تحریروں کو وہاں سے کاپی کر ضروری حذف و اضافہ کے ساتھ حوالۂ قرطاس و قلم کرا جا رہا ہے تاکہ کسی بھی انہونی اور مصیبت و پریشانی کے وقت ان قرآنی تراشوں سے راہنمائی حاصل کی جا سکے اور انہیں حرزِ جاں بنایا جا سکے۔
چنانچہ اس وبا کے تعلق سے پہلے دن کا ہمارا اسٹیٹس یہ تھاکہ ہم اللہ کے گھروں کو نماز پنج گانہ، اجتماعی و انفرادی دعاؤں کی پابندی کے ساتھ ساتھ ذکر و تسبیح، تہلیل و تکبیر، اکابر و بزرگانِ دین سے ثابت شدہ اعمال، ان کے مجرّب اور آزمودہ اوراد و وظائف کے معمولات سے آباد کیا جائے نیز معاشرے کو ہر قسم کے و اسباب معاصی سے زیادہ سے زیادہ پاک رکھنے کی فکر و سعی کی جائے۔دوسرا یہ کہ واقعی حالات واقعی بہت ناموافق اور موجودہ فضا بہت مسموم ہے مگر پھر بھی ایک ذاتِ واحد پر یقینِ کامل بنائے رکھیں نیز ایمان کی سلامتی، عقائد کی پختگی، اخلاق و کردار کی شائِستگی اور معاملات کی صفائی ستھرائی پر انتہائی گہری نظر رکھتے ہوئے اپنے اوقات کو زیادہ سے زیادہ قرآن کریم کی تلاوت اور مسنون و مقبول دعاؤں میں مشغول رکھیں،ان شاء اللہ العزیز فتح بھی ہماری ہوگی اور ہمارے یہ سینے بھی آخری دم تک اطمینانِ قلبی کی دولت سے معمور رہیں گے۔تیسرے اسٹیٹس میںہم نے آیت مبارکہ کا مفہوم کچھ اس طرح رقم کیا تھا، کہ ایک ربِ حقیقی کے ماننے والو۔!تمہیں وہ موت سے ڈرائیں گے، مگر تم ڈرنا نہیں کیوں کہ موت سے کسی ذی روح اور جاندار کو رستگاری نہیں، (وہ تو آکر رہےگی)پھر وہ حالات کی ناسازی کا وہم تمہارے دلوں میں پیدا کریں گے، مگر (دیکھو) تم گھبرانا نہیں، کیوں کہ حالات کا تبدل اسی کے قبضۂ قدرت میں ہے۔ آگے لکھا تھا کہ ایسے تمام مواقعوں پر تم اسی طرح اپنے ایمانی موقف پر ڈٹے رہنا اور جمے رہنا جن کی تم روحانی اور ایمانی اولاد کہلانے میں خود پر فخر محسوس کرتے ہو، بس یہی ایک نُسخۂ کیمیا ہے جو تمہیں اپنے دینی و شرعی موقف پر مستحکم و مضبوط بنائے رکھنے میں ممدد و معاون رہےگا۔إِن شاء اللہ۔
ایک اور آیتِ کریمہ کے تحت لکھا گیا تھا کہ یہ جانتے ہوئے بھی کہ:حَیات و مَمات کا مالک اللہ ہے، صحت و بیماری مالکِ دوجَہاں کی دین ہے، خیر و شر کا نزول بھی اسی کے حکم سے ہوتا ہے، اس کے باوجود شریعتِ مطہّرہ نے ہمیں احتیاطی تدابِیر اختیار کرنے اور متعدی امور کے پیش آنے کے وقت میں جہاں اسباب و وسائل کے استعمال کرنے کا پابند و مکلف بنایا ہے، وہیں خدائے وحدہٗ لا شریک لہٗ کی ذات پر یہ یقینِ کامِل بھی رکھنا چاہئیے کہ:’’وہ اپنے بندوں کو (ہر اعتبار سے) کافی ہے اور بہترین کارساز بھی۔‘‘
موجودہ حالات کی روشنی میں حکمرانوں کی ہٹ دھرمی اور ناانصافی کی تصویر کچھ اس طرح سے بیان کی کہ:وائرس زدہ دنیا کی موجودہ حالت اور تازہ ترین صورتحال جس میں ظالِم و جابِر، طاقتور اور منصب و اقتدار کی کرسی پر بیٹھے شخص سے لےکر غریب، محتاج، مزدور و ملازم اور ہر وہ شخص جسے تھوڑی سی بھی احساس و شعور کی دولت میسر ہے۔ اسے وائرس کی تباہ کاریوں کا بخوبی ادراک ہونے کے بعد کم از کم اتنا اندازہ تو ضرور ہو چکا ہوگا کہ ’’جب فرش والے ظلم و تَعدّی اور ناانصافی سے کام لیتے ہیں تو اس وقت عرش والا اپنی طاقت و قدرت اور ناراضگی کا اظہار و احساس کچھ اس طرح بھی کراتا ہے‘‘۔
ہمارے ایک اور تحریر کا محور دراصل وزیرِاعظم ہند کی طرف سے ایک دن کے ‘عوامی کرفیو’ کے اعلان اور اس کے اختتام پر تالی، تھالی اور گھنٹی بجانے کی اپیل کے پس منظر میں تھا، جس کے سلسلے میں حالات شناس طبقہ اور ماہرینِ سماج نے مختلف اندیشوں کا اظہار بھی کیا تھا۔
 اس میں کوئی شک نہیں کہ آنے والا ہر لمحہ گزرے لمحے سے کہیں زیادہ مایوسی، پریشانی، افسردگی اور خطرناکی کی منظر کشی کرا رہا ہے، جس سے کہ مجموعی طور پر لوگوں کے اَذہان و قُلوب پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور عدمِ اطمینان کی لہر مزید گہری ہوتی جا رہی ہے اور اس نازک گھڑی میں ایسا ہونا فطری اور یقینی چیز ہے۔ لہٰذا مصیبت و پریشانی کی اس نازک گھڑی میں دولتِ ایمان سے سرفراز حضرات کو چاہئیے کہ وہ پوری انسانیت کو حالات کی دَلدل سے نکالنے اور مایوسی کے اندھیروں میں ٹامَک ٹوئِیاں مارنے سے بچانے کے لئے کثرت کے ساتھ اپنے رب کی تحمید و تقدیس بیان کرنے میں خود کو مشغول کریں، اس کے ساتھ پریشان حال عوام کا ذہن بھی اس مہتم بِالشان امر کی جانب مبذول کرا کر ناراض اللہ کو راضی کریں۔
ایک اور تحریر کا عنوان بھی قرآن کی آیتِ کریمہ سے مستعار ہے، ساتھ ہی اس میں ایک تمثیل کا سہارا لیتے ہوئے سہل انداز میں عوام کو سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے اور وہ اس طرح کی دیکھو۔ عام سودا سلَف خریدنے میں اگر کوئی دوکاندار ہمارے ساتھ ایک مرتبہ بھی دھوکہ دہی کا معاملہ کر دیتا ہے تو پھر ہم آئندہ اس دوکان کی طرف رُخ کرنا بھی گوارا نہیں کرتے اور اس سے محتاط ہو جاتے ہیں۔
لیکن کبھی ہم اس بات پر بھی تو غور و تدبر کریں کہ قرآن پاک میں متعدد مقامات پر اس دنیاوی زندگی کو ہی ‘دھوکہ کے سامان’ سے تعبیر کیا گیا ہے؟ سو دنیا کے دھوکے میں آنے سے بچو اور اس بات کو جاننے کےلئے موجودہ حالات کا گہرائی سے مشاہدہ کرنا ہی کافی ہو جاتا ہے۔ایسی صورت میں دولتِ ایمان سے مُشرّف لوگوں پر دہری ذمہ داری عائِد ہوتی ہے کہ جن لوگوں کے اوصاف حمیدہ اور شب بیداری کرنے کو یہ آیت بیان کر رہی ہے وہ مصیبت و بےقراری کے اس عالَم میںاپنے پہلؤوں کو اپنی آرام گاہوں سے مزید جدا رکھ کر نمازِ تَہجّد و دعاؤں کا اہتمام فرمائیں‘‘۔
 

تازہ ترین