ملک میں لاک ڈاون کاشاخسانہ | چوزوںکی پیداوار بند ہونے سے پولٹری صنعت کو بھاری نقصان

تاریخ    31 مارچ 2020 (23 : 02 AM)   


یو این آئی
نئی دہلی // ملک میں کورونا وائرس (کووڈ -19) کے بڑھتے کیسز اور انفیکشن کو کنٹرول کرنے کے لئے لاگو کئے گئے لاک ڈاؤن کی وجہ سے چوزوں کی پیداوار تقریبا بند ہونے سے پولٹری صنعت کو بھاری نقصان ہو رہا ہے۔اس عالمی وبا سے نمٹنے کے لئے ٹریفک ذرائع پر لگائی گئی روک کی وجہ سے زیادہ تر مقامات پر ہیچنگ کام روک دیا گیا ہے اور انڈوں کے اسٹوریج پر زور دیا جا رہا ہے۔ اتنا ہی نہیں سرکاری اداروں میں کسانوں کے تربیتی پروگراموں کو بھی روک دیا گیا ہے۔ کورونا وائرس کے پیش نظر ٹریفک کے ذرائع پر روک لگائے جانے سے نہ صرف لوگوں کا آنا جانا رکا ہوا ہے بلکہ مرغی دانا، ادویات، وٹامنس،منرلز اور فروخت کے لئے تیار مرغیوں کے نقل و حمل بھی بری طرح سے متاثر ہوا ہے۔بہار پشو وگیان وشو ودیالیہ کے وائس چانسلر ڈاکٹر رامیشور سنگھ نے پولٹری صنعت کے بحران کے بارے میں پوچھے جانے پر بتایا کہ بحران کی وجہ سے ایسے حالات پیدا ہو ئے ہیں جس کا آنے والے دنوں میں کسانوں کے اقتصادی حالات پر وسیع پیمانہ پر اثر پڑے گا۔ڈاکٹر سنگھ نے بتایا کہ چوزوں کی پیداوار بند ہونے سے کاروباری پیمانے پر پولٹری کی صنعت بری طرح متاثر ہوئی ہے اورآگے بھی ہوگی، اور بالآخر اس کا اثر کسانوں کی معیشت پر پڑے گا۔ملک میں تقریبا 10 لاکھ کسان پولٹری کاروبار سے جڑے ہوئے ہیں جن میں سے 60 فیصد کسان 10 ہزار سے کم پرندوں کو پالتے ہیں۔ ملک کی جی ڈی پی میں پولٹری صنعت کا تعاون 1.2 لاکھ کروڑ روپے سالانہ ہے۔ ملک بھر میں پورے پولٹری کاروبارمیں چین سے تقریبا دس کروڑ لوگ جڑے ہوئے ہیں۔گزشتہ دنوں کورونا وائرس کے حوالہ سے پھیلائی گئی افواہ کی وجہ سے چکن کی تھوک قیمت اوندھے منہ گر گئی تھی اور لوگ 15 روپے کلو بھی لینے کو تیار نہیں ہو رہے تھے۔ملک میں سرکاری سیکٹر میں بنگلور، حیدرآباد، چنڈی گڑھ، بریلی، عزت نگر اور زرعی یونیورسٹیوں میں بڑے پیمانے پر چوزوں کو تیار کیا جاتا ہے اور یہاں کسانوں کو تربیت بھی دی جاتی ہے۔ جنوبی ہندوستان میں نجی شعبوں میں بڑے پیمانے پر چوزے تیار کئے جاتے ہیں اور اسے کسانوں کو سپلائی کی جاتی ہے۔ڈاکٹر سنگھ نے بتایا کہ ملک میں پولٹری پروسیسنگ اور قیمت کے نشیب و فراز میں زبردست فقدان ہے،اور ایسا ہونے پر بڑے پیمانے پر چکن اور انڈوں کی پروسیسنگ کی جا سکتی تھی۔ فوڈ پروسیسنگ اور صنعت کی وزارت کے مطابق صرف چھ فیصد پولٹری کی ہی پروسیسنگ کی جا رہی ہے۔اس دوران پولٹری فیڈریشن آف انڈیا کے صدر رمیش چندر کھتری نے بتایا کہ پولٹری صنعت کی کمر ٹوٹ چکی ہے اور چوزوں کی سپلائی چین مکمل طور پر تباہ ہو گئی ہے۔ 
 

تازہ ترین