طبی عملہ کو بہت زیادہ خطرہ درپیش , اگر طبی عملہ ہی متاثر ہواتو تباہی ہوگی/ ڈاک

31 مارچ 2020 (58 : 01 AM)   
(      )

نیوز ڈیسک
 سرینگر// ڈاکٹرس ایسوسی ایشن کشمیر(ڈاک)نے کہا ہے کہ طبی عملہ ،جن میں ڈاکٹر، نرسیں پیرامیڈیکل سٹاف شامل ہے، دیگر لوگوںسے زیادہ کوروناوائرس کے نزدیک ہونے سے خطرے میں ہے ، اس لئے مذکورہ عملہ کو بہتر سے بہتر حفاظتی اقدامات اُٹھانے کی ضرورت ہے جس کیلئے اُنہیں بہتر سازوسامان کی بھی ضرورت ہے ۔ ڈاکٹرس ایسوسی ایشن کشمیر کے صدر ڈاکٹر نثارالحسن نے ایک بیان میں کہا کہ دیکھنے میں آیا ہے کہ پیرامیڈیکل سٹاف موجودہ صورتحال سے بہت زیادہ متاثر ہورہاہے ۔اُن کا کہنا تھا کہ اٹلی میں اب تک 41ہیلتھ ورکر وبائی وائرس سے فوت ہوچکے  ہیں جبکہ 5000سے زائد طبی عملہ کے اراکین، جن میں ڈاکٹر، نرسیں، ٹیکنشن اور ایمبولنس سٹاف کے علاوہ دیگر ملازمین اس وائرس سے متاثر ہوچکے ہیں ۔ چین میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک 3400طبی ارکان وائرس کا شکار ہوچکے ہیں جن میں قریب 22افراد فوت ہوچکے ۔ ڈاکٹر نثارالحسن نے کہا’’ دیگر مریضوں کی نسبت طبی عملہ زیادہ بیمار ہورہا ہے شائد اس لئے کہ یہ وائرس سے متاثرہ افراد کے زیادہ قریب رہتے ہیں ، میڈیکل سٹاف کو اس وائرس سے زیادہ خطرہ رہتا ہے، خاص کر آئی سی یو سے وابستہ سٹاف بہت جلد وائیرس کا شکار ہورہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اگر طبی عملہ ہی بیمار ہوجائے تو وائرس میں مبتلاء مریضوں کی زیادہ ا موت پیش آنے کا امکان ہے ۔ اسلئے ضرورت اس بات کی ہے کہ ڈاکٹروں ، نرسوں اور پیرا میڈیکل سٹاف کو بہتر حفاظتی آلات اور سازوسامان سے لیس کیا جائے ۔انہوں نے کہا کہ میڈیکل سٹاف کو ہر صورت میں محفوظ رہنا چاہئے کیوں کہ اگر وہ متاثرہوئے تو تباہی ہوگی ۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جو سٹاف کووڈ 19کے مریضوں کا علاج کرتے ہیں ان کو زیادہ سے زیادہ بہتر حفاظتی سامان مہیا کیا جائے ۔ اس کے ساتھ ساتھ عملہ کو اپنا زیادہ دھیان رکھنا ہوگا تاکہ وہ محفوظ رہ سکیں ۔ (سی این آئی )
 

تازہ ترین