کرونا وائرس کی یلغار | ترقی یافتہ ممالک نے ہتھیار ڈال دیئے

احتیاط لازمی ۔طبی اصول اللہ کا ہی جاری کردہ نظام ہے

31 مارچ 2020 (00 : 12 AM)   
(      )

ڈاکٹر امتیاز عبد القادر
’کورونا وائرس‘ جسے Covid-19کا نام دیا گیا ہے، سے مُراد دسمبر۲۰۱۹ء میں اِس انفیکشن سے پیدا ہونے والا نمونیا ہے۔ ’کورونا ‘لاطینی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ’تاج‘ہے۔ چونکہ اس وائرس کی ظاہری شکل سورج کے ہالے کے مشابہ ہوتی ہے، اسی وجہ سے اس کا نام ’کورونا وائرس‘  رکھا گیا ہے۔ اس وائرس کی دریافت۱۹۶۰ء کی دہائی میں ہوئی تھی، جو سردی کے نزلہ سے متاثر کچھ مریضوں میں خنزیر سے متعدی ہو کر داخل ہوا تھا۔ اس وقت اس وائرس کو ’ہیومن کورونا وائرس‘( E229 اور OC43 )کا نام دیا گیا تھا۔ بعد ازاں اس وائرس کی اور دوسری قسمیں بھی دریافت ہوئیں۔ (ویکیپیڈیا)
عالمی ادارہ صحت(WHO) کے ذریعے نامزد کردہ(Covid-19) نامی ’کورونا وائرس‘ کی ایک نئی وبا ۳۱دسمبر۲۰۱۹ء کو چین میں عام ہوئی۔ جو کہ آہستہ آہستہ اب عالمی وبائی شکل اختیار کر چکی ہے۔ اب تک کی رپورٹ کے مطابق چین میں 3285 افراد اس وباکی وجہ سے فوت ہو گئے ہیں۔ سب سے زیادہ متاثر ملک اٹلی میں 6820 اموات ہوئے ہیں اور پوری دنیا میں 460,000 اشخاص اس وبا سے متاثر ہیں جن میں بیس ہزار لوگ وفات پا چکے ہیں اور110,000 وقت پر علاج اور احتیاط کی وجہ سے ٹھیک بھی ہوئے ہیں۔
ایسی وبائیں دراصل اللہ کی تنبیہات میں سے ہے اور اس کا مقصد بندوں کو خالق کی پکڑ پراور اُس کی قدرت سے متنبہ کرنا ہوتا ہے۔ تنبیہ ایک opportunity ہوتی ہے ان انسانوں کے لیے جو غلط راہ پر اپنی توانائیاں ’بہا‘ رہے ہوتے ہیں۔ جن کے فکر و نظریے میں ایسا جھول ہو کہ اپنے خالق کو ہی بھول جائیں۔ مادیت کا ایسا غلبہ ہو کہ وہ روحانیت اپنے ہی وجود میں ’دفن‘ کرکے آئے ہوں۔ ’حق‘ کا جنازہ وہ بڑی شان، سے نکالیں اور باطل کی آبیاری و پرورش اُن کا اوڑھنا بچھونا ہو۔ جو اس کائنات میں صرف’ مادہ‘ کی کارفرمائی کے قائل ہوں اور اپنی صلاحیتیں ، پیسہ، ٹیکنالوجی اسی کام میں صرف کر رہے ہوں کہ خالقِ کائنات کو اُس کی اِس شاہکار تخلیق سے ہی ’بے دخل‘ کر دیا جائے۔ جو درپردہ اور اعلانیہ اللہ کے خلاف فکر و عمل کی ’جنگ ‘میں مصروف ہوں۔ جن کایہ دعویٰ ہے کہ یہ کائنات رب کے بغیر بھی چل سکتی ہے۔ جن کو اپنی طاقت، پیسے، عہدے اور ترقی کا غرّہ ہے۔ اللہ کی ’لاٹھی‘ تب تب انسانوں کو متنبہ کرنے کے لئے حرکت میں آتی ہے کہ اے انسان تیری ان تمام ترترقیوں، توانائیوں کے بعد بھی تم میں سے ہر ایک میرے سامنے بے بس ہے،محتاج ہے۔خدا اور بندوں کی جنگ میں فتح ہمیشہ حق ہی کی ہوئی ہے۔ 
ہم میں ہر ایک کے لیے عبرت کا مقام ہے کہ وقت رہتے ہم اُس رب کی طرف لوٹیں۔ اُس ہستی کے بغیر ہم کہیں اور امن نہیں پا سکتے۔ حضرت عیسیٰؑ سے سوال پوچھا گیا کہ ’’ ایک شخص چہار سو تیروں کی بارش کر رہا ہو، تو بچنے کی صورت کیا ہے؟‘‘ درجواب مسیحٰؑ نے فرمایا’’ اُسی شخص کے پائوں کے پاس۔‘‘ حالات نازک ہیں۔ یمین ویسارمیں خوف و ہراس کا عالم ہے۔ لیکن گھبراہٹ یا مایوسی اِس کا حل نہیں بلکہ اللہ سے اُمیدیں وابستہ کریں۔’ کورونا‘ہمارے لئے اللہ کی تنبیہ ہے ۔ اس لیے اُسی کے آگے بِچھ جائیں اور احتیاطی تدابیر کے ساتھ ساتھ اپنے گناہوں سے توبہ کریں۔ اپنے کردار سے توبہ کریں۔ اللہ کے سامنے جبینِ نیاز خلوص کے ساتھ سجدے میں گرا دیں کیونکہ جب ’آہ‘ فرش پر کی جائے تو ’دستک‘ عرش پر ہوتی ہے۔ رسول اللہؐ نے وبا(طاعون) کو مسلمانوں کے لیے رحمت قرار دیا ہے۔ صبر کریں اور اگر خدانخواستہ اسی حالت میں موت واقع ہوتو یہ’ذلیل‘ موت نہیں بلکہ ’شہادت‘ کی موت ہے(بخاری)۔ حضرت عمرؓ کے دورِ خلافت میں بھی ’طاعون ‘ وبا نے فلسطین میں واقع ’عمواس‘ نامی شہر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ دوا اور احتیاطی تدابیر کے باوجود قریباً تیس ہزار صحابہؓ و تابعی اُس وائرس سے شہید ہوئے۔ اس لیے خوف و ہراس میں کوئی ایسی حرکت ہم سے سرزد نہ ہو جو ہمارے لیے دنیا و آخرت میں تباہی کا باعث بنے۔ اللہ پر توکل ضروری ہے۔ البتہ توکل اور بے وقوفی میں زمین و آسمان کا بُعد ہے۔ حافظ ابن حجرعسقلانی ؒ نے لکھاہے کہ ربیع الآخر۸۳۳ھ کوقاہرہ میںوبا(طاعون)پھوٹی۔ اعلان کیاگیاکہ لوگ تین دن کے روزے رکھیں بعدازاںاجتماعی دعاکے لئے جمع ہوں۔لوگوںنے ایساہی کیالیکن اجتماعی دعاکے بعداجتماعی موت کی تعدادمیںغیرمعمولی اضافہ ہوا۔اس سے قبل مرنے والوںکی تعداد چالیس سے کم تھی۔لیکن اجتماعی نمازودعاکے بعدبیماری اس شدت سے پھیلی کہ ہرروزایک ہزارسے زائدلوگ مرنے لگے ۔ظاہرہے کہ لوگوںکے جمع ہونے کی وجہ سے صحت مندلوگ بھی اُس وباسے متاثرہوگئے تھے۔(بذل الماعون،البدایہ النہایہ)
قاہرہ میںطبی اصولوںکی خلاف ورزی کرکے یا’توکل‘کے نام پر’کروا‘کے جوتوبہ واستغفارکی گئی ،اس کے باوجوداموات فی یوم ایک ہزارتک جا پہنچیں۔ خالق نے اُس وقت طبی اصولوںکوہی غالب رکھاکیونکہ طبی اصول بھی اللہ کاہی جاری کردہ نظام ہے اورتدبیربھی تقدیرکاہی ایک حصہ ہے۔
وبائیں اور حادثات بس موت اور قیامت کی یاد دہانی ہے۔ اللہ کی قدرت اور غیر محدود وسعت کی تذکیر ہے۔ ہم اپنے علم اور دریافتوں کے سحر میں مبتلا ہو کر اپنی حیثیت اور اپنی اوقات اکثر بھول جاتے ہیں۔ ہمیں اپنی عقل کی محدودیت اور علم و عمل کی کمزوری کا احساس ہی نہیں ہوتا۔ ماہنامہ’ اشراق ‘ لاہورکے مدیرکے بقول’’ ہماری دولت، ہمارا علم، ہمارا اقتدار اصل میں ہلدی کی گرہ ہوتا ہے اور ہم اس کی بنا پر یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ ہم نے دنیا کو مسخر کر لیا ہے اور سب کچھ ہمارے قبضۂ قدرت میں آگیا ہے۔ اس حماقت اور خام خیالی سے انسان کو نکالنے کے لیے اللہ اپنی تنبیہات نازل کرتا ہے۔‘‘
ان کشیدہ حالات میں اب کرنا کیا ہے؟ ترقی یافتہ ممالک نے ہتھیار ڈال دیے۔ اٹلی کے وزیر اعظم اپنی بے بسی کا اظہار آنسوئوں سے کر رہے ہیں اور ’آسمان‘ سے آس لگائے بیٹھے ہیں۔ حالانکہ یوروپ میں بہترین ICU'S ہیں۔ لاتعداد ventilators ہیں۔لاکھوں کی تعداد میں ماہر ڈاکٹر زہیں۔ جدید سہولیات سے پُر ہزاروں اسپتال ہیں۔دوامیںملاوٹ نہیںہے۔مضبوط اقتصادی حالت ہے۔مہذب و شائستہ معاشرہ ہے۔سر یرِسلطنت پر چوروں اور قزاقوں کا ڈیرہ بھی نہیں ہے۔اُن کی پارلیمنٹ اور اسمبلیاں مجرموں سے بھری ہوئی نہیں ہیں۔ اندھ وشواس اور اوہام پرستی کے دلدل میںپھنسے ہوئے نہیں ہے لیکن اس کے باوجود آج وہاں بے بسی، لاچاری اور حُزن کا اظہار ہے۔ اجتماعی موتیں ہو رہی ہیں۔ ملک الموت اپنے کارندوں کے ساتھ مل کر اُس مہذب و ترقی یافتہ’ دنیا ‘میںڈنکے کی چوٹ پر ’اَخرجو انفسکم‘کی صدا لگانے میں مشغول ہیں۔ موت نے زیست پر’فتح‘پالی ہے۔کھلی آنکھ سے نہ دکھنے والے اس ’معمولی‘سے وائرس نے دنیا کی ’سُپر پاورز‘ کو خاک میں ملا دیا ہے۔ ہم خود احتسابی کریں تو اُس ترقی یافتہ دنیا سے ہم دو سو سال پیچھے ہیں،جیسے:
۱۔ ہمارے (ہندوستان اورکشمیر) کے پاس انفرا سٹریکچر کی کمی ہے۔
۲۔ Economy لفظ ہی یہاں’ شرمندہ ‘ہے۔ ہرسال یہاں وزیر اعظم کروڑوں روپیہ بیرونِ ملک جاکر اپنی عیش کوشی پر’بہاتا‘ ہے۔ ’گوروں‘ کی آئو بھگت پر بھی کروڑوں روپیے خرچ کئے جاتے ہیں۔ لیکن صحتِ عامہ کے لیے معقول رقم کا استعمال یہاں ’ممنوع‘ہے۔ 
۳۔ طبیبوں کی اور اسپتالوں کی قلت ہے۔ کشمیر میں آبادی کی شرح لگ بھگ 80 لاکھ ہے اور حفظانِ صحت کے شعبے بہت ہی محدود ۔ Ventilatorsکی بہت قلت ہے۔ ICU'S نہ کے برابر ہیں۔ خدا نخواستہ اگر1% آبادی بھی یہاں اس متعدی بیماری میں مبتلا ہوئی تو ہلاکت یقینی ہے۔ 
 

تازہ ترین