تحقیقی اور فکری لٹریچرکی اہمیت

دور ِحاضرہ میں اس کی اشدضرورت

31 مارچ 2020 (00 : 12 AM)   
(      )

مجتبیٰ فاروق ۔کانہامہ بیروہ
امت مسلمہ دنیائے انسانیت کے لئے خیر و فلاح کی داعی ہے جو پوری نوع انسانی کے لئے وجود میںلائی گئی ہے ۔اس کا نصب العین انسانیت کو کفر و شرک ،گمراہی اور انسان کے بنائے ہوئے مذاہب و نظریات سے نکال کر راہ حق کی طرف دعوت دینا اور دنیا کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی کی طرف لے آنا ہے  اس عظیم الشان فریضے کو انجام دینے کے لئے اچھی حکمت عملی اور منصوبہ بندی کی بے حد تاکید کی گئی ہے ۔قرآن کریم اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:(اے نبی ؐ) اپنے رب کے راستے کی طرف دعوت دو ،حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ اور لوگوں سے مباحثہ کرو ایسے طریقے پر جو بہتریں ہو ۔(النحل :۱۲۵)
اس آیت میں مسلمانوں کو بالعموم اور علماء و دانشوروں کو بالخصوص یہ حکم دیا گیا ہے کہ لوگوں کو حکمت ،موعظہ حسنی اورجدال بالا حسن (علمی و عقلی دلایل) سے اللہ تعالیٰ کی طرف بلائیںنہ کہ اپنی ذاتی خواہشات ،ذوق اور مذاق کی بنیاد پر۔اس کے علاوہ اس میں یہ بات بھی شامل ہے کہ اہل باطل نے اسلام کے مختلف احکام کے بارے میں جو شکوک و شبہات پھیلائے اور اسلام کو مسخ کرنے کی جو کوششیں کی ہیں ،ان کے علمی اور فکری اشکالات و شبہات کا جواب علمی و فکری زبان میں ہی دینے کی ضرورت ہے ۔ا س کارخیر میں ان تمام ذرائع و وسایل کو استعمال کرنے کی بھی ضرورت ہے جو اس کام کو بحسن و خوبی پایہ تکمیل کو پہنچا سکیں۔
ہمارا یقین ہے کہ ’’اسلام میں ہر مسئلے کا حل ہے ‘‘لیکن اس کو عمدہ طریقے سے ثابت بھی کرنا ہے کہ یہ کس طرح جملہ مسایل کا حل پیش کرتا ہے ۔ہمارا یہ بھی کہنا ہے کہ’’اسلام مکمل ضابطہ حیات ہے‘‘لیکن اس کو دنیا کے سامنے کیسے اور کس طرح واضح کردیں گے کہ اسلام ہی مکمل نظام حیات ہے۔ہم یہ بھی کہتے ہیں کہ دنیائے انسانیت کے لئے اسلام ہی متبادل ہے لیکن جدید دنیا کو ہم مدلل اور جامعیت کے ساتھ کیسے منوائیں گے ۔اس طرح کے اور بھی بہت سے سوالات ہیں جن کا تلاش کرنے کے سلسلے میں نئی حکمت عملی واضح کرنی ہوگی۔عصر حاضر میں مسلمان مقامی سطح سے لے کر بین الاقوامی سطح تک اسلام کو عصری اور سائنٹیفک اسلوب میں پیش نہیں کررہے ہیں اور نہ ہی اس کے لئے جدید زرائع اور وسایل اور منظم اداروں کو بڑے پیمانے پر استعمال میں لایا جارہاہے ۔ہم وہ لٹریچر بھی تیار کرنے میں ناکام نظر آرہے ہیں جو اس عظیم کار خیر میں ممدو معاون ہوسکے۔اس وقت مسلم دنیا میں لاکھوں کی تعداد میں کتابیں اصول ِ دین ،فقہ ،علمِ کلام ،حدیث کی تشریحات و توضیحات اور تفسیری ذخیرہ پر مشتمل ہیں جن میں تخلیقی اور سائنٹیفک اسلوب کی بے حد کمی ہے اور اس میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے جبکہ ایسے لٹریچر کی بے حد کمی محسوس ہورہی ہے جو جدید مسائل اور بحران پر گہرائی اور گیرائی سے تیار کیا گیا ہو ،اور جو لٹریچر بھی تیار ہورہا ہے اس میں تحقیق و تجزیہ تو کسی حد تک ہوتا ہے لیکن مسایل کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش نہیں ہورہی ہے جو وقت کی ضرورت ہے بقول محمود احمد غازی:’’ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مغرب کی تحقیقی کاوشوں پر مسلم دانشوروں کا جواب یا تو مغربی سامعین و قارئین تک پہنچنے میں ناکام ہورہا ہے یا تو ان کے فہم و ادراک کو مطمین کرنے میں موثر ثابت نہیں ہورہا ہے ‘‘۔
جدید دنیا میں نت نئے اور ابھرتے ہوئے مسایل کا اسلامی تناظر میں حل نہ نکالنا یا اس سے صرف نظر کرنا اسلامی اسکالرس اور دانشوروں کے لئے بہت بڑا المیہ ہے ،نیز وہ اعلیٰ علمی و تحقیقی معیار قائم کرنے میں بھی کوتاہی کرتے ہیں ۔معروف ایرانی مفکر ڈاکٹر مرتضیٰ مظہری اس حوالے سے لکھتے ہیں:’’ہم ذمہ دار ہیں کیونکہ ہم نے اسلام کے متنوع پہلوئوں پر عصری زبانوں میں لٹریچر تیار نہیں کیا ۔کیا ہم نے صاف اور شرین پانی وافر مقدار میں بہم پہنچانے کا اہتمام کیا ہے جبکہ لوگ گندہ پانی استعمال کرنے پر مطمئن نہیں ہیں‘‘۔البرت ہورانی کی یہ بات بھی چشم کشا ہے کہ موجودہ نظریات پر مسلم اسکالرس کی تحریریں اس معیار پر پوری نہیں اُترتیں، جو جدید دنیا کو مطلوب ہے ۔ان کے الفاظ ہیں:Most of the writings of Islam by muslims are not on the level or current۔
مسلم دنیا ریسرچ اور سائنس وٹیکنالوجی کے میدان میں بہت پیچھے ہے۔معیاری یونیورسٹیاں ،تحقیقی ادارے اور تھنک ٹینکس نہ ہونے کے برابر ہیں۔ایک دور وہ بھی تھا جب یورپی اور مغربی دنیا علوم و فنون میں عالم اسلام سے استفادہ کرتی تھی لیکن اب حالات بدل گئے ۔اب ہم ریسرچ اور ٹیکنالوجی کے میدان میں دوسروں پر انحصار کرتے ہیں۔سائنس کا اشاریہ سائنس واچ نام کا ایک ادارہ تیار کرتا ہے اس کے مطابق جنوری 2011کے درمیان 147ممالک میں سے 60ممالک نے کم از کم دس ہزار ریسرچ پیپر شائع کئے ۔ریسرچ پیپرز کے اعتبار سے سر فہرست 20ممالک میں سب سے اوپر امریکہ ہے ،اس کے بعد چین ،جرمنی ،جاپان ،انگلینڈ ،کناڈا ،اٹلی،اسپین،آسٹریلیا ،بھارت ،جنوبی کوریا ،روس ،نیدر لینڈ ،برازیل، سویزر لینڈ،سویڈن ،تائیوان ،ترکی اور پولینڈ ہیں۔اس فہرست میں صرف ترکی ہی مسلم دنیا کی نمائندگی کرتا نظر آرہا ہے جو 19ویں نمبر پر ہے ،جو قوم ستاروں پر کمندیں ڈالتے ہیں اس کا اب ہر معاملے میں درآمد پر انحصار ہے جو دینے والے ہاتھ تھے وہ اب ہر معاملے میں لینے والے ہاتھ بن چکے ہیں۔
دور نبوت میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل مکہ کو عقل ،فطرت اور مشاہدے کی بنیاد پر اسلام کی طرف راغب کیا تھا ۔آج بھی اس رہنما اصول کو عمل میں لانے کی ضرورت ہے ۔بلکہ اس سے بھی زیادہ ڈاکٹر مرد ہاؔف نے اس حوالے سے ایک اچھی بات کہی ہے کہ آج کے دور میں آپ اسلام کی دعوت پیش کرتے وقت اعلیٰ معیار اور سائنسی اسلوب کو بھی اختیار کرنا پڑے گا ۔مثلاً اگر آپ کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا تو آپ کوثبوت کے طور پر سائنسی حقائق کو پیش کرنا ہوگا ۔اس طریقے سے ان کو اللہ اور اس کے وجود پر ایمان لانے کی راہ ہموار ہوجائے گی ۔موصوف مزید لکھتے ہیں کہ ہمارے پاس جو لٹریچر موجود ہے وہ اس معیار مطلوب کے مطابق نہیں ہے ۔موجودہ لٹریچر میں کسی بھی نئے مسئلے یا نظریہ کی منفی پہلوئوں پر بحثیں تو مل جاتی ہیں لیکن ان کو کیسے دور کیا جائے یہ زور آور اور محکم دلایل کی بنیاد پر نہیں بتایا جاتا ہے۔
1۔موجودہ زمانے کا صحیح اور گہرا مطالعہ:
دور حاضرہ مغربی فکر و تہذیب کے غلبے کا زمانہ ہے ۔اس کا سطحی اور سرسری مطالعہ کرنے کی بجائے اس کی نظریاتی اساس اور بنیادی اقدار کا گہرائی سے جاننا انتہائی ضروری ہے ۔مسلم دانشوروں اور علماء کرام کی یہ اہم ذمہ داری ہے کہ وہ خاموش تماشائی بن کر ہاتھ پہ ہاتھ دھرے منتظر فردا کی طرح نہ بیٹھیں بلکہ اپنے ارد گرد میں اور عالمی سطح پر انہی مغرب کے متعصب مصنفین اور مستشرقین کی کارستانیوںاور ان کی سرگرمیوں پر پوری تحقیق سے دیکھتے رہیں ۔ان کی فکری چال بازیوں اور سازشوں سے امت مسلمہ کو باخبر کراتے رہیں ۔اس کے لئے مغرب کی فکری سازشوں اور کارستانیوں سے آگاہ رہنا بے حدضروری ہے ۔عالم عرب کے مشہور مفکر انور الجندی کے الفاظ میں ’’مسلمانوں کی لساۃ ثانیہ اس وقت شروع ہوگی جب وہ مغرب کی سازشوں کو صحیح طور سے سمجھ لیں گے ‘‘لہٰذا ان سے غافل رہنا ایک بڑی کوتاہی ہوگی ۔فقہ کے اصولوں میں سے ایک اہم اصول یہ بھی ہے کہ ’’جو شخص اپنے زمانے کے لوگوں کو نہیں پہچانتا وہ جاہل ہے ‘‘ اسلئے زمانہ شناس بن کے رہنا انتہائی ضروری ہے ۔مسلمان سکالرس اور دانشوروں کا بس اتنا ہی کام نہیں ہے کہ وہ مغربی مصنفین کی پھیلائی ہوئی غلطیوں اور استشراقی لٹریچر کا علمی مطالعہ اور تجزیہ کریں اور ان کی دانستہ یا غیر دانستہ غلطیوں کی تصحیح کرنے کے لئے تصنیفی و تالیفی پروگرام مرتب کریں بلکہ فکری بحران کے اس دور میں آگے بڑھ کر زمانے کے تقاضوں کے ساتھ رہنمائی کرنے کا فریضہ انجام دیں۔
2۔ذرائع و وسائل کا استعمال:
ماضی میں مسلمانوں کی علمی و سائنسی خدمات پر گیت گانا کافی نہیں ہے بلکہ سائنسی و ٹیکنالوجی کے اس دور میں علم کے ہر شعبہ میں قایدانہ رول ادا کرنے کی ضرورت ہے ۔اس کے لئے انسانی وسائل کے ساتھ ساتھ جدید ذرائع و وسائل اور ابلاغ کو بڑے پیمانے پر استعمال کرنے کی ضرورت ہے ۔جدیدیت اور مابعد جدیدیت کے پیدا کردہ وسائل کا پہلے منظم خاکہ بنانا ہوگا ۔اس کے بعد ایک سالہ،دو سالہ،تین سالہ، پانچ سالہ اور دس سالہ منصوبہ بندی کرکے جدید ذرائع و وسائل کو بروئے کار لایا جانا از حد ضروری ہے ۔
3۔علمی اور تحقیقی ماحول کو پروان چڑھانا:
مغربی فکر و تہذیب اور جدیدیت کے مضر اثرات سے امت مسلمہ کی اساس یعنی نئی نسل کے سامنے اسلام کو جملہ فکری بیماریوں کا مداوا کے طور پر پیش کرنے کی ضرورت ہے ۔اس کے لئے طلباء،نوجوانوں اور اسکالروں میں علمی و تحقیقی ذوق و شوق پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ تجدیدی نظریات پیدا کرنے کی بھی ضرورت ہے ۔
4۔اعلیٰ علمی اور تحقیقی لٹریچر کی تیاری:
جدید تقاضوں اور عصری اسلوب میں اعلیٰ علمی اور تحقیقی معیار پر سیاسی ،سماجی،معاشرتی ،اقتصادی ،ماحولیاتی وغیرہ جیسے موضوعات پر قابل قدر لٹریچر منصۂ شہود پر لانا ہے ۔یہ لٹریچر مغربی تحقیق و نہج اور مواد سے بھی اور اسلوب اور معیار سے بھی اعلیٰ ہو ،جس میں زندگی کے متنوع مسائل کا ٹھوس ،مدل ااور حرف آخر والا جواب ہو ۔ اس کے لئے ذہین و فطین اور محنتی طلبہ و ریسرچ اسکالرس کو تیار کرنا ہوگا ۔اس کے علاوہ نیا تحقیقی لٹریچر تیار کرنے میں اجتماعی طور سے کوششیں کرنی چاہئیں کیونکہ اس میں اعلیٰ علمی معیار کا عنصر غالب رہے گا ۔
 

تازہ ترین