سمجھدار قوم ناکام قوموں سے عبرت لیتی ہے

ہاں دکھادے اے تصور پھر وہ صبح وشام تو

30 مارچ 2020 (00 : 12 AM)   
(      )

عبدالمنعم فاروقی
عموماً ہر انسان کو اپنی زندگی میں تین حالتوں سے گزرنا پڑتا ہے ۔بچپن ،جوانی اور بڑھاپا، بچپن کھیل کود میں گزر جاتا ہے۔ جوانی زینت وتفاخر میں چلی جاتی ہے اور بڑھاپا مال واولاد کی کثرت کی کوشش میں نکل جاتا ہے ۔انسان جب دنیا سے جاتا ہے تو خالی ہاتھ ہی جاتا ہے ،بچپن ،جوانی اور بڑھاپا تینوں اس کا ساتھ چھوڑ چکے ہوتے ہیںبلکہ جن چیزوں پر وہ فخر کیا کرتا تھا وہ بھی اسے ایک لمحے کے لئے اپنے ساتھ رکھنے کو تیار نہیں ہوتے بلکہ جتنا جلدی ہوسکے اسے مٹی میں دفن کرکے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اس کی کہانی ختم کر دیتے ہیں ۔اب وہ صرف اور صرف بھولی بسری یادیں بن کر رہ جا تا ہے ۔ انسانی زندگی تین حالتوں سے گزرتی ہوئی اپنے اختتام کو پہنچ جاتی ہے،اس میں اسے تین زمانوں سے ہوکر گزرنا پڑتا ہے۔ماضی ،حال اور مستقبل جو لمحات اسے چھو کر جا چکے ہیں وہ اس کا ماضی کہلاتے ہیں ،جن لمحات سے وہ گزررہا ہے وہ اس کا حال ہے اور جو لمحات اس پر گزرنے والے ہیں وہ اس کا مستقبل ہے۔انسانی کامیابی کے لئے حال کا استعمال بڑی اہمیت رکھتا ہے جو اپنے حال کی حفاظت کرتا ہے وہ ماضی سے مایوس اور مستقبل سے خوف زندہ نہیں ہوتا۔زندگی کی ترقی دراصل حال کے تحفظ میں پوشیدہ ہے، حال ماضی کی تلافی کا بہترین ذریعہ ہے ،ہوش مند ماضی سے سبق لے کر حال میں ہر حال کھوئے رہتے ہیں ، لمحہ لمحہ کی قدر کرتے ہیں اور اسے حفاظت کے ساتھ اس طرح استعمال کرتے ہیں جس طرح صحرائی مسافر پانی کے ایک ایک بوند کی حفاظت کرتا ہے۔وہ جانتا ہے کہ یہی قطرات اسے منزل پر پہنچانے کی صلاحیت رکھتے ہیں ،اسی طرح حال کا درست استعمال مستقبل میں کامیابی کی علامت ہے۔زندہ قومیں ماضی سے عبرت اور نصیحت حاصل کرتی ہیں ،اگر ان کے آباء واجداد نے ماضی میں سنہری تاریخ رقم کی تھی تو اس پر وہ صرف فخر نہیں کرتے بلکہ ان کے سچے جانشین بننے کی کوشش کرتے ہیں اور ان کے عظیم کارناموں کو زندہ اور قائم رکھنے کے لئے سر دھڑ کی بازی لگادیتے ہیں۔اگر ان کے آبا ء واجداد کا ماضی قابل فخر نہیں بلکہ قابل عبرت تھا تو اسے دیکھ کر وہ مایوس ،نامراد اور ناامید نہیں ہوتے بلکہ ان کی غلطیوں سے سبق لیتے ہیں اور اس کی تلافی کے لئے ہر ممکن کوشش کرتے ہیں ۔
قرآن حکیم میں کامیاب اور ناکام دونوں طرح کی قوموں کا ذکر ملتا ہے ۔قرآن حکیم کامیاب لوگوں کی کامیاب زندگی کے کامیاب کار ناموں کو بتا کر اس کے اپنانے کی ترغیب دیتا ہے اور اس کے ذریعہ موجودہ قوموں میں تحریک پیدا کرتا ہے اور ناکام قوموں کی ناکامیاں اور اس کے اسباب وعلل بتاتا ہے اور اس کے ذریعہ موجودقوموں کو عبرت لیتے ہوئے اس سے بچنے کی ترغیب دیتا ہے ۔چنانچہ سمجھدار قومیں ناکام وقوموں سے عبرت لیتی ہیں اور کامیاب قوموں سے تحریک حاصل کرتی ہیں ۔ سابق میں اقوام عالم میں قوم مسلم اپنی ایک خاص پہچان رکھتی تھی ،روز اول ہی سے اس نے ایک تاریخ رقم کی تھی ،ہر حالت میں ثابت قدم رہنا ،ہمت سے کام لینا ،قوت سے قدم بڑھانا، خود اعتمادی قائم رکھنا اور کامیابی کی امید کے ساتھ آگے بڑھنا نہ صرف ان کا امتیازی وصف تھا بلکہ ان کی پہچان اور علامت بن چکی تھی کیونکہ مسلمان بے ہمت، پست حوصلہ ،بزدل اور صرف اسباب پر یقین کرنے والا نہیں ہوتا بلکہ حوصلہ مند ،باہمت ،بلند حوصلہ اور مسبب الاسباب پر نظر رکھنے والا ہوتا ہے۔اس کا ایمان وایقان ہوتا ہے کہ کامیابی وناکامی کا دار مدار اسباب پر نہیں بلکہ خدا کے حکم اور اس کی مشیت کے ساتھ وابستہ ہے۔یقینا اللہ تعالیٰ کی مدد ونصرت حوصلہ مند ،جفاکش اور فولادی عزم وحوصلہ رکھنے والوں کے ساتھ ہواکرتی ہے ،وہ انہیں کامیابی سے ہمکنار کرتا ہے جو اس پر بھروسہ رکھتے ہیں اور اپنے دست بازو کو اس کے حکم کے مطابق استعمال میں لاتے ہیں ۔
یقینا ہمارے آباء واجداد کی ایک سنہری تاریخ ہے جس پر ہمیں ہی نہیں بلکہ تاریخ کو بھی ناز ہے ،ان کے کارناموں سے تاریخ کے صفحات بھرے ہوئے ہیں۔ان کے عزم وحوصلوں کی دنیا مثال دیتی ہے،ان کے عدل وانصاف کے دشمن بھی قائل ہیں ، بلند وبالا تاریخی عمارتیں ان کے ذوق کی منہ بولتی تصویر ہیں ،انسانیت نوازی ان کی فطرت تھی ، ان کی کٹی ہوئی گردنیں وطن سے محبت کی نشانی ہیں ،ان کے دور حکمرانی میں سب کے ساتھ برابری ان کے عمدہ اخلاق کی نشانی ہے اور رعایا کا چین وسکون ان کے مخلص ہونے کی دلیل ہے ، یہی کامیاب قوموں کی علامت اور نشانی ہے۔ ہندوستان پر مسلم حکمرانوں نے کم وبیش نوسو سال حکومت کی ہے ،تاریخ ہند گواہ ہے اور یہاں کے شجر وحجر ، دریا وسمند ر ،پہاڑ و جھرنے ، بلند وبالا عمارتیں اور اس کے درودیور زبان حال سے کہہ رہے ہیں کہ حکمران ہوں تو ایسے ، انصاف پرور ہوں تو ایسے اور انسانیت نواز ہوں تو ایسے ،یہ وہ حکمران تھے جن کی حکمرانی پر تخت وتاج بھی ناز کرتے تھے ،بعض متعصب اور عصبیت کا چشمہ لگا نے والے ، جھوٹا مزاج رکھنے والے اور اپنے حقیر مفادات کو پیش رنظر رکھنے والے ان اعلیٰ ظرف،بلند صفت ،انسانیت نواز اور رحم دل حکمرانوں پر کیچڑ اُچھالنے میں لگے ہوئے ہیں ،سستی شہرت کی خاطر بلند ترین ہستیوں کی ہستی مٹانے چلے ہیں ،مگر انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ جس طرح سورج کو چراغ دکھانا، آسمان پر تھوکنا ،سمند ر کو پا ٹنے کی کوشش کرنا اور چاند کے حسن کا مذاق اُرانا ایک حماقت ہے ،اسی طرح عادل ، منصف ،مہربان اور ہمدرد حکمرانوں پر طنز کرنا اور ان کے عظیم کارناموں کو مٹانے کی کوشش کرنا حماقت اور بزدلی ،تعصبیت اور دھوکہ اور فریب ہے ۔
ہمارے آباء واجداد نے ملک کی ترقی اور اس میں بسنے والے باشندگان کی سہولت کے لئے وہ گراں قدر کام کئے ہیں جس کی صرف گنتی کے لئے کئی صفحات درکار ہیں ،انہوں نے ہر میدان میں نہایت خوش اسلوبی سے کام کیا تھا ، جس کا نتیجہ یہ تھا کہ یہاں کے باشندگان جو الگ الگ مذہب ومشرب کے ماننے والے تھے اس طرح خوش رہتے تھے جس طرح باپ کے سایہ شفقت میں ان کی اولاد رہتی ہے ، اس زمانہ میں پورا شہر ایک کنبہ کی طرح رہتا تھا، ہر شخص دوسرے کے درد کو اپنا درد سمجھتا تھا ،دوسروں کی خوشی پر پھولے نہیں سماتا تھا ،جس کا ثبوت جنگ آزادی اور اس کی قربانیاں ہیں ،سبھوں نے مل کر اور اجتماعی قوت بن کر ایسا حملہ آور ہوئے تھے کہ غاصبوں کو سر پر پیر رکھ کر بھاگنا پڑا تھا۔ افسوس تو ہم پر ہے اور ان کی اولاد کہلائے جانے والوں پر ہے کہ وہ خود اپنے آباء واجداد کی سنہری تاریخ سے نابلد اور ناواقف ہیں ۔ بلاشبہ قوموں کی کامیابی و ترقی کے لئے ان کے آباواجداد کے تاریخی کارنامے بڑی اہمیت رکھتے ہیں ،ان کے واقعات اور حالات سے حوصلے پروان چڑھتے ہیں ، قوت ارادی میں تقویت پیدا ہوتی ہے اور کچھ کر گزرنے کا جذبہ انگڑایاں لینے لگتا ہے ۔ کسی کہنے والے نے یہاں تک کہا ہے کہ آباء واجداد کی سنہری تاریخ کے مطالعہ اور ان کے عظیم کارناموں کے مذاکرہ سے مردہ قوم میں پھر سے جان پیدا ہوتی ہے ۔
اس وقت پوری دنیا میں اور خصوصاً ہند میں مسلمان جن صبر آزما حالات سے گزر رہے ہیں ایسے میں ان کے لئے صحابہ ؓ ، تابعین، مسلم حکمران اوردرد ملت رکھنے والے اپنے اسلاف واکابر ؒ کی تاریخ پڑھنا ضروری ہے ۔ تاریخ اسلامی پر نظر ان کے لئے حوصلوں کی بلند پروازی کا بہترین ذریعہ ہے ،یقینا اللہ کی مدد غافلوں پر نہیں بلکہ ہوش مندوں اور حرکت کرنے والوں کے ساتھ ہوتی ہے ۔ ملت اسلامیہ کی انفرادی واجتماعی ذمہ داری ہے کہ وہ مایوس نہ ہوں ، ناامیدی اُجالے مٹاتی ہے اور اندھیروں کو پھلنے پھولنے کا موقع فراہم کرتی ہے ،ڈر بزدلی کا بیج بوتی ہے اور مایوسی پیدا کرتی ہے جو کہ کفر ہے ۔ اہل ایمان پر ہر دور میں ناگفتہ بہ حالات آتے رہے ہیں اور آتے رہیں گے ،مگر جن کی ڈور رب کائنات کے دست قدرت میں ہے وہ طوفان اور آندھیوں میں استقامت کا پہاڑ بن کر ثابت اور بے خوف و خطر رہتے ہیں۔ اہل دل فرماتے ہیں کہ سابق میں امت پر جب کبھی ایسے حالات پیش آئے تھے تو انہوں نے پانچ چیزوں کو اپنے اوپر لازم کر لیا تھا جس کے نتیجہ میں ڈرانے والے خود ڈر کر بھاگ گئے اور وہ قوم جو مٹانے چلی تھی یا تو مٹ کر رہ گئی یا پھر دین پر 
مر مٹنے والی بن گئی ۔ ان میں سے ایک ہے رجوع الی اللہ ،دوسرے دعوت الی اللہ ،تیسرے صبر ،چوتھے اتحاد اور پانچویں سنتوں پر عمل ۔ یقینا حالات سازگار ہوں گے ،اللہ کی مددشامل حال ہوگی ، نامساعدحالات کا خاتمہ ہوگا ،مسلمانوں کا وقار بحال ہوگا اور جس دور کے ہم متمنی ہیں وہ دور پھر سے لوٹ کر آئے گا، جس کی تمنا ہم میں سے ہر ایک کو ہے اور اسی کا اظہار علامہ اقبال ؒ نے اپنے اس شعر میں کیا ہے ؎
ہاں دکھادے اے تصور پھر وہ صبح وشام تو

 

تازہ ترین