ڈپریشن کو بڑھاوا مت دیجئے

تنائو کم کرنے کے لئے اللہ کا دامن پکڑیئے

30 مارچ 2020 (00 : 12 AM)   
(      )

سمیر احمد علائی السلفی،سرینگر
اس دنیا میں رہتے ہوئے جہاں خوشیاں ہیں وہاں غم بھی ہیں،جہاں تونگری و ثروت ہے وہاں غربت و افلاس ہے،جہاں صحت و تندرستی ہے وہاں بیماریاں بھی ہیں۔لیکن ان تغیرات کو نیہ میں مرد میدان وہی ہوتا ہے جو اپنے خالق حقیقی کے قضا وقدر پر مکمل راضی ہو کیونکہ فطراتاً جس جگہ دھوپ کی تپش کی مار ہوتی ہے وہی ہاذن اللہ سایے بھی جلوہ افروز ہوا کرتے ہیں ۔اسی طرح انسان بھی کبھی کبھار بلکہ اکثر بار اوقاتِ غم کے تنائو میں زندگی کے نشیب و فراز طے کرتا ہے لیکن دین اسلام میں اس بات کی رہنمائی فرمائی گئی کہ ان دیگر گوں حالات میں انسان اپنی صحت کا کس طرح خیال رکھ سکتا ہے۔میری مراد صحت اور صحت بدن ہے تاکہ صحت ایمان کے اعتبار سے مزید اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل کرے اور صحت بدن کے اعتبار سے ذہنی تنائو جیسی بیماری سے بچ سکیں ۔جہاں تک پریشانیوں اور مصائب کا تعلق ہے تو ہر ایک انسان کو لا محال اس سے دوچار ہونا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے قانون کے مطابق ایسا ضرور وقع پذیر ہوتا ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ نے (سورہ البقرہ آیت :۱۵۵)میںفرمایا :’’اور ہم کسی نہ کسی طرح تمہاری آزمائش ضرور کریں گے دشمن کے ڈر سے ،بھوک سے پیاس سے ،مال و جان اور پھلوں کی کمی اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دیجئے ۔‘‘اس آیت کریمہ میں اللہ جل شانہ نے انسان کو پہلے ہی آگاہ فرمادیا کہ میں تمہاری آزمائش ضرور کروں گا مگر ساتھ ہی صابر ین کو صبر کرنے کے عوض اپنی رضوان کی بھی بشارتیں بھی دے دی۔سب سے پہلے مناسب یعہ معلوم ہوتا ہے ان پریشانیوں سے پیدا ہونے والی بیماری ’’تنائو‘‘Depression,Tensionکے کچھ اہم اسباب توفیق الٰہی سے بیان کئے جائیں تاکہ قارئین کرام اس بات سے پوری طرح آشنا ہوجائیں کہ آخر یہ بیماری ہوتی کیوں ہے۔
اسباب :انسان درج ذیل وجوہات کی بناء پر ایسی جان لیوا بیماری میں مبتلا ہوسکتا ہے۔
(ا)۔مال و جان میں کوئی نقصان ہو،مثلاً کوئی عزیز فوت ہوجائے ،خود پر کوئی آفت وغیرہ آجائے،مال میں کسی آفت کی وجہ سے نقصان ہوجائے۔(۲)کسی بھی چیز کا ہمارے لئے رنج و الم کا سبب ہونا۔(۳) ہم جو حاصل کرنا چاہتے ہیں اگر حاصل نہ ہو۔(۴)مستقبل کے بارے میں یہ خوف اور فکر ہوکہ کیا ہوگا؟(۵)کسی شخص کے ساتھ امید بندھی ہو ،اگر چور چور ہوجائے۔
قارئین کرام! ان چیزوں کو اگر آپ اس بیماری کی امہات تصور کریں تو غلط نہ ہوگا مگر اب یہ سوال ہے کہ ہمارے عقیدے کے مطابق اسلام ہر مسئلے کا حل مرحمت کرتا ہے تو اس کا حل کیا ہے۔تو سب سے پہلے میں ایک حدیث مبارک پیش کروں گا جس کو امام ابو داود الطیالسیؒ نے حضرت عبداللہ بن مسعودسے روایت کیا کہ ہمارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’کہ بے شک اللہ تعالیٰ نے بڑھاپے کے علاوہ جتنی بھی بیماریاں نازل فرمائی ہیں ساتھ ہی ان کی دوا بھی نازل کی ہے،اب یہ دوسری بات ہے کہ اطباء اس تک پہنچ پارہے ہیں یا نہیں ۔علاج کے ضمن میں سب سے پہلے میں یہ بات عرض کروں گا کہ جس انسان کو اللہ تعالیٰ نے توفیق توحید ،سلف صالحین کے فہم کے مطابق دی ہو ،صرف وہی قرآن و سنت کے ارشاد کردہ علاج سے صحیح طور مستفید ہوسکتا ہے۔کیونکہ یہ سب علاج انسان کے عقیدہ سے تعلق رکھتے ہیں۔تو آیئے ان رہنما اصولوں کا ذکر کیا جائے جس کے ہم سب بلکہ ساری انسانیت مشتاق ہے کیونکہ ہر ایک انسان اپنا ذہنی تنائو Depressionکم کرنے کی کوشش میں مصروف عمل ہے تو شروع میں علاج نمبر ایک اپنے ذہنی دبائو کو کم کرنے کے لئے:
۱۔ انسان یہ پختہ یقین رکھے کہ مصائب اور مشکلات اللہ نے مقدر کردئے ہیں ۔ اللہ رب العزت کا فرمان ہے؛’’آپ کہہ دیجئے کہ ہمیں سوائے اس کے جو اللہ نے ہمارے حق میں لکھ رکھا ہے کوئی چیز پہنچ ہی نہیں سکتی۔وہ ہمارا کارسازاور مولا ہے، مومنوں کو تو اللہ کی ذات ہی پر بھروسہ کرنا چاہئے‘‘۔(التوبہ:۵۱)
علماء تفسیر اس آیت کریمہ کے ضمن میں فرماتے ہیں کہ یہ منافقین کے جواب میں مسلمانوں کے صبر ثبات اور حوصلے کے لئے فرمایا جارہا ہے کیونکہ جب انسان کو یہ معلوم ہو کہ اللہ کی طرف سے مقدر کام ہر صورت میں ہونا ہے اور جو بھی مصیبت یا بھلائی ہمیں پہنچتی ہے اس تقدیر الٰہی کا حصہ ہے تو انسان کے لئے مصیبت کا برداشت کرنا آسان اور اس کے حوصلے میں اضافے کا سبب ہوتا ہے۔
اس آیت کریمہ میں ایک اور لطیفے کا ذکر کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی مومن کا حقیقی دوست ہوتا ہے تو دوستی کا تقاضا یہ ہرگز تو نہیں کہ محب اپنے محبوب کو ایک پل بھی عذاب میں مبتلا کردے۔ہمارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا خوب رہنمائی اس اُمت کوفرمادی کہ’’اگر تمہیں مصیبت آجائے تو تم یہ مت کہو کہ اگر میں نے ایسا کیا ہوتا تو ایسا ہوتا بلکہ صرف اتنا کہو جو اللہ نے مقدر میں رکھا تھا اور جو چاہا کردیا ‘‘۔(رواہ مسلم کتاب القدر )یہاں یہ بات ذہن نشین رکھیں کہ تمام مصائب و آلام کو دور کرنے کی حد درجہ کوشش کرنا لیکن مصیبت کا صدمہ کبھی بھی اپنے آپ پر حاوی نہیں ہونے دینا ہے بلکہ اطمینان رکھنا چاہئے کہ یہ ہمارے مولیٰ کا فیصلہ ہے جو کبھی بھی ہماری بربادی نہیں چاہتا ۔
۲۔انسان اُمید رکھیں کہ آنے والی مصیبت میں باذن اللہ ضرور ہوگا ۔اللہ نے فرمایا :’’تم جس چیز کو ناپسند گردانتے ہو شاید کہ اُسی میں تمہارے لئے خیر ہو اور جس چیز کو تم پسند کرتے ہو شاید وہی تمہارے لئے ضرر رساں ہو ،یہ صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے ،تم نہیں جانتے‘‘۔(البقرہ:۲۱۶)لیکن انسان ضعف ِ اعتقاد کی بنا پر اللہ تعالیٰ کی ذات ِ مبارک کے ساتھ سوئِ ظن رکھتا ہے تو برباد ہوکے رہ جاتا ہے۔کیونکہ ایک حدیث قدسی میں ہے ۔’’میں بندے کے گمان کے ساتھ ہوں ‘‘یعنی جو کچھ بندہ مجھ پر گمان رکھتا ہے اُس کو ویسا ہی عطا کرتا ہوں۔حضرت حسن بصری ؒ نے کیا خوب فرمایا ہے کہ’’آنے والی مصیبتوں کو ناپسند نہ جانو پس کتنی ہی ناپسند چیزیں تمہاری نجات کا ذریعہ ہوتی ہیں اور کتنی ہی محبوب چیزیں تمہاری سزا کے طور پر تم پر واقع ہوتی ہیں۔ (بحوالہ تفسیر القرطبی :۳/۳۹)یہ ضروری نہیں کہ کڑوی دوا انسان کی تکلیف کا سبب ہو بلکہ اس کو استعمال کرنے کے بعد راحت و چین کا سانس مقدر بن جاتی ہے۔
حضرت امام بخاریؒ نے اپنی صحیح میں سیدنا ابو ہُریرہ ؓ سے روایت کی ہے :’’ حضرت ابراہیم ؑاور حضرت سارہؑ ہجرت کرکے مصر پہنچے تو ظالموں میں سے ایک ظالم نے گرفتار کیا ۔ظالم حکمران کو کہا گیا کہ یہاں (ہماری سر زمین میں)ایک جوڑا ہے جو بہترین شکل و صورت والے ہیں،پوچھ تاچھ کے دوران حضرت ابراہیمؑ سے کہا کہ یہ عورت کون ہے۔ تو فرمایا: یہ میری بہن ہے۔ پھر ابراہیم ؑ ،سارہؑ کے پاس آئے اور کہا کہ تمہارے اور میرے سوا اس روئے زمین پر اور کوئی مومن نہیں (یعنی بحیثیت جوڑا ،وگرنہ حضرت لوطؑ بھی دنیا میں موجود تھے)اور انہوں نے مجھے تمہارے بارے میں پوچھا تو میں نے جواب دیا کہ یہ میری بہن ہے تو تم بھی مجھے نہ جھٹلانا ۔پھر سارہؑ کو لایا ۔جونہی اس کمرے میں داخل ہوئی تو ظالم نے بُری نیت سے پکڑنا چاہا اور اسی وقت اس کے جسم کو گرفت میں لیا گیا ۔بادشاہ نے استفسار اً کہا کہ میرے لئے دعا کر تمہیں کوئی نقصان نہ پہنچائوں گا ۔تو سارہؑ نے دعا کی اور وہ شفا یاب ہوگیا ۔یہی معاملہ پھر دوسری بار کرنا چاہا تو پھر گرفت آگئی ،پھر یہی سوال کیا کہ میرے لئے دعا کر کہ تجھے کوئی نقصان نہ پہنچائوں گا ۔اس محسنہ عورت نے پھر اس کے لئے دعا کی، پھر بری ہوگیا تو آخر پر اپنے خدام سے کہنے لگا کہ تم نے میرے پاس کسی انسان کو نہیں لایا، یہ تو کوئی جن ہے۔تو اُس بادشاہ نے اُن کی خدمت میں ہاجرہؑ کو دیا اور پھر اپنے شوہر ابراہیم ؑ کے پاس آئی ،وہ اُس وقت نماز پڑھ رہے تھے۔اسی دوران اپنے دست مبارک سے اشارہ کیا کہ کیا معاملہ ہوا تو جوان دیا کہ اللہ تعالیٰ نے کافر کی چال کو زائل کردیا ۔اور فرمایا : ’’یہی تمہاری ماں ہے اور اشارہ ہاجرہؑ کی طرف ہے کہ یہی عربوں کی ماں ہے‘‘۔(بحوالہ بخاری ،کتاب الانبیاء)یہ ذکر کرنے کا مقصد یہی ہے کہ اس سے کچھ فوائد اخذ کئے جائیں۔
۱۔جب انسان کے لئے تمام ظاہری اسباب ختم ہوجائیں تب بھی ایک ذات باری تعالیٰ کا دروازہ اس کے لئے ہمیشہ ایک اُمید کی کرن ہوتی ہے ۔جیساکہ ابراہیم  ؑنے اسباب نہ ہونے پر بھی اسی دروازے کا سہارا لیا اور نماز میں مشغول ہوگئے کہ کب نصرت الٰہی جلوہ افروز ہوجائے۔
۲۔ سارہؑ کااُ س بادشاہ کے روبرو جانا کسی بڑی مصیبت سے کم نہیں کہ عزت و آبرو دائو پر لگی ہو ۔پھر اس مصیبت کے پیٹ سے کیا نکلا (یہی ہمارا موضوع گفتگو ہے)کہ اُس بادشاہ جے حضرت حاجرہؑ کو ہدیہ میں دیا پھر اُسی کے بطن مبارک سے اسمائیل ؑ آئے ،پھر آگے جاکے اُن کی نسل سے ایسی رحمت نے وجود پایا جن میں ایسا چشمِ کائنات نے نہ کبھی دیکھا ہے اور نہ کبھی دیکھے گی۔وہ رحمت ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ۔جن کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا:آپ تو سراپا صراط مستقیم کی طرف رہنمائی کرنے والے ہیں۔‘‘اسی طرح قرآن و سنت میں ایک اور واقعہ جو بظاہر تو لگتا ہے کہ بہت ہی بڑی مصیبت ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے اسی مصیبت کے بیچ ایسی بشارتیں ہمارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کودیں جن کا آج تک کوئی بھی مصدق نہ بن سکا اور( وہ واقعہ افک کے نام سے موسوم ہے)اللہ تعالیٰ سورۃ نور (کی آیت نمبر :۱۱) میںفرماتا ہے:’’جو لوگ بہتان لے کر آئے وہ تم ہی میں سے کچھ لوگ ہیں ،تم اس کو اپنے لئے شر مت سمجھنا بلکہ یہ تو تمہارے لئے خیر ہے‘‘۔خیر اس انداز میں کہ سیدہ عائشہؓ کی تطہیر اللہ تعالیٰ نے عرش معلیٰ سے ان آیات کی صورت میں اُتاری اور قیامت تک یہ آیات مسلمانوں کے حسانات میں اضافہ اور اُن کے ساتھ محبت میں زیادتی کرتی جائے گی ۔اس لئے اپنے زہنی تنائو کو کم کرنے کے لئے یہ اُمید ہمیشہ رکھئے کہ وہ مولا ئے کائنات میرے حق میں سحیح فیصلہ لیتا رہا ہے اور لیتا رہے گا۔


تازہ ترین