تازہ ترین

کورونا وائرس کا قہر | اجتماعی فیصلہ قوم وملّت کے مفاد میں

30 مارچ 2020 (00 : 12 AM)   
(      )

ڈاکٹر مشاق احمد
اب جب کہ طبّی اور سائنسی تحقیقات نے یہ انکشاف کیا ہے کہ کورونا جیسی مہلک وباء سے تحفظ کے لئے ضروری ہے کہ اجتماعی زندگی سے پرہیز کریں اور انفرادی زندگی صبر وسکون کے ساتھ گذاریں توایسے وقت میں مذہبی فریضہ کو بھی انفرادی طورپر کما حقہ پورا کرنے کی کوشش کی جائے اور سرکاری احکامات کی مکمل طورپر پابندی کی جائے ۔ کیوں کہ یہ سرکاری احکامات کسی خاص فرقہ واحد کے لئے نہیں ہے بلکہ پورے انسانی معاشرے کے لئے ہے۔ جہاں تک مذہبِ اسلام میں اجتماعی عبادت کا سوال ہے تو ایسے حالات میں اس سے پرہیز کرنے کی بھی ہدایت دی گئی ہے ۔ البتہ مسجدوں میں نماز قائم رکھنے اور پابندی سے اذان دینے کی لازمیت کو پورا کرنا ہے ۔ مگر بڑی جماعتوں کے ساتھ نماز کی ادائیگی سے بچنے کی ضرورت ہے ۔ یہ ایک اچھی بات ہے کہ تمام مسلک کے علمائے کرام نے اپنے اپنے اعلانیہ میں قرآن وحدیث کی روشنی میں یہ پیغام دیا ہے کہ اس قدرتی وباء سے تحفظ کے لئے بڑی جماعتوں کے ساتھ نماز کی ادائیگی کو موقوف رکھا جائے اور اپنے اپنے گھروں میں انفرادی طورپر اس فرض کی ادائیگی کی جائے ۔ کیوں کہ قدرتی آفات کے وقت میں اجتماعی فیصلہ ہی قوم وملّت کے مفاد میں ہے۔ لیکن افسو س ہے کہ کہیں کہیں سے یہ خبریں بھی آرہی ہیں کہ کچھ لوگ علمائے کرام کی گذارش کو نظر انداز کر رہے ہیں اور سرکاری احکامات کو نہیں مان رہے ہیں ۔ نتیجہ ہے کہ پولیس انتظامیہ کو جبراً مسجدوں کو بند کرنا پڑ رہاہے ۔ ایسے نازک حالات میں اقلیتی طبقے کے دانشور طبقے کو آگے بڑھ کر شرعی پیغام پر عمل کرنے کا ماحول بنانا ہوگا ۔کیوں کہ پوری دنیا میں اس وقت انسانیت کے تحفظ کے لئے تمام وہ اقدام کئے جا رہے ہیں جس سے اس انسانی معاشرے کو قدرتی آفات سے بچایا جا سکے ۔ عالمِ اسلام میں بھی عالمی برادری کی گذارش پرصد فی صد عمل ہو رہاہے اور دنیا میں پہلی بار ایک مثبت پیغام گیا ہے کہ انسانیت کو بچانے کے لئے مذہبِ اسلام کے پیروکار عالمی برادری کے ساتھ مضبوطی کے ساتھ کھڑے ہیں ۔ جہاں تک ہندوستان کا سوال ہے تو یہاں بھی حکومت نے تمام مذاہب کی عبادت گاہوں میں اجتماعی عبادت پر فی الوقت روک لگانے کی ایڈوائزری جاری کی ہے۔ اس ایڈوائزری کی قانونی حیثیت ہے کہ اگر کوئی اس کی نافرمانی کرتے ہیں تو وہ قانونی طورپر حکم عدولی کی سزا کے مرتکب ہوں گے۔ چوں کہ ہندوستان ایک کثیر المذاہب ملک ہے اور دیگر مذاہب کے لوگوں نے اس ایڈوائزری پر صد فی صد عمل کرنا شروع کردیا ہے اس لئے ہماری طرف سے بھی کسی طرح کی غلط فہمی عام نہیں ہونی چاہئے کیوں کہ ہمارا مذہب تو دنیا کا سب سے آخری اور فطری مذہب ہے۔ اس میں انسانیت کے تحفظ کو اولیت دی گئی ہے اور بالخصوص اس طرح کی وباء سے متعلق آپ ﷺ کی حدیثیں موجود ہیں کہ آپ نے ایسے حالات میں خود کو محدود کرنے کی تلقین کی ہے ۔ ہمارے علمائے کرام اپنے پیغامات میں ان احادیث اور قرآن کی مختلف آیتوں کے حوالے بھی دے رہے ہیں ۔ اخبار اور سوشل میڈیا کے ذریعہ بھی یہ پیغام عام کیا جا رہاہے بالخصوص جمعہ کی جماعت کے تعلق سے اپیل کی گئی ہے کہ کم سے کم افراد مسجدوں میں نماز ادا کریں ۔ اسلام میں متفقہ طورپر یہ وضاحت موجود ہے کہ کتنے لوگوں کے ساتھ جمعہ کی جماعت ہو سکتی ہے ۔کہیں تین اور کہیں چار کی شرط رکھی گئی ہے۔اس پر عمل ضروری ہے۔بہارمیں بھی مختلف دینی اداروں نے اور خانقاہوں نے بھی شرعی پیغامات جاری کئے ہیں ۔ حج بھون کی جانب سے بھی شیعہ وقف بورڈ اور سنّی وقف بورڈ کے چیئر مین نے مسلمانوں سے گذارش کی ہے کہ وہ مرکزی اور ریاستی حکومتوں کے ایڈوائزری پر عمل کریں ۔ دراصل یہ ایک ایسا وقت ہے کہ کسی بھی طرح کی ضد یا ہٹ دھرمی ہماری مذہبی شناخت کو بھی مسخ کر سکتی ہے اور سماجی سروکار کو بھی متاثر کر سکتی ہے ۔یہ ایک ایسا وقت ہے کہ ہم ایک دوسرے کے معاون بنیں ، بلا تفریق مذہب وملّت ایک دوسرے کی حوصلہ افزائی کریں اور اس مہلک وباء سے بچنے کے جو ٹھوس نسخے طے کئے گئے ہیں اس پر صد فی صد عمل کریں۔ کیوں کہ ذرا سی لا پرواہی نہ صرف فردِ واحد کے لئے تباہ کن ہوگی بلکہ پورے انسانی معاشرے کے لئے نقصان دہ ثابت ہوگا۔ اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ ہماری حیثیت علمبردار کی ہونی چاہئے کہ اللہ نے اس سرزمین پر ہمیں اشرف المخلوقات بنا کر بھیجا ہے اور حضور اکرمﷺ کی امت میں پیدا کیا ہے اور آپ ﷺ پوری انسانیت کے لئے رحمت بن کر آئے تھے اور ان کا پیغام پوری انسانیت کے لئے فلاح وبہود کا راستہ ہموار کرتا ہے۔بہ حیثیت مسلمان ہم پر یہ فرض ہے کہ ہم حضور اکرم ﷺ کے احکامات کی روشنی میں تغیرِ زمانہ کے ساتھ حکمتِ عملی اپنائیں اور انسانی معاشرے میں سرخروئی حاصل کریں۔ اس وقت ناگہانی میں ہم پر یہ بھی فرض ہے کہ غریب ومزدور طبقے کی پریشانیوںکو دور کریں ، ان کی مدد فرمائیں کہ ایسے وقت میں صدقہ وزکوٰۃ کی اہمیت اور بڑھ جاتی ہے ۔اگر ہم اپنے اس شرعی عمل کو پورا کرتے ہیں تو سماج میں ایک مثبت پیغام جائے گا اور ہم ثواب کے بھی حقدار ہوں گے۔ ایک گذارش اور بھی ہے کہ سوشل میڈیا کے ذریعہ طرح طرح کی افواہیں پھیلائی جا رہی ہیں ، ایک دوسرے کی کردار کشی بھی کی جا رہی ہے ، مسلکی تنازعے کو بھی فروغ دیا جا رہاہے ۔یہ مشکل وقت ہے اور اس وقت کسی مسلکی فکر کو فروغ دینے کا نہیں بلکہ تحفظ انسانی کی فکر کو فروغ دینے کا وقت ہے ۔انفرادی غلطی پورے سماج کے لئے خسارۂ عظیم ثابت ہو سکتا ہے اس لئے اس سے پرہیز کرنے کی ضرورت ہے ۔ بالخصوص ملک کی جو صورتحال ہے اس میں ہر قدم پھونک پھونک کر اٹھانے کی ضرورت ہے کہ ہر طرف صیّاد کی نگاہیں ہم پر لگی ہوئی ہیں ۔ اس وقت اردو صحافت کی ذمہ داری قدرے بڑھ گئی ہے کہ وہ اقلیتی معاشرے کو صحیح راستہ دکھا سکے کیوں کہ اردو صحافت بہت سی غلط فہمیوں کا ازالہ کر تا رہا ہے اور آج بھی دیگر زبانوں کی صحافت کے مقابلے ہمارے معاشرے کی ترجمانی میں اولیت رکھتا ہے۔ چوں کہ مرکزی حکومت نے اکیس دنوں کا لاک ڈائون نافذ کیا ہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس لاک ڈائون میں بہت سی مشکلیں سامنے آرہی ہیں اور ہم سب اس سے دو چار ہیں لیکن یہ پریشانی صرف مسلمانوں کے لئے نہیں ہے اس لئے صبر وتحمل کا دامن نہیں چھوڑنا ہے اور جب تک حکومت کی طرف سے کوئی راہ نہیں نکالی جاتی ہے اس وقت تک اس پابندی پر پورے طورپر عمل کرنا ہے ۔یہ ایک سنہری موقع بھی ہے کہ ہم اپنی مذہبی کتابوں کا مطالعہ کریں اور خصوصی طورپر تاریخِ اسلامیہ کامطالعہ کریں کہ دنیا کی تاریخ میں اس قوم کو کیسے کیسے آزمائش کے دور سے گذرنا پڑا ہے اور ہمارے اسلاف نے کس حکمتِ عملی سے اس پر قابو پایا ہے اور مذہبی شناخت کو قائم رکھتے ہوئے انسانی معاشرے میں اپنی انفرادیت قائم رکھی ہے۔ممکن ہے کہ اللہ نے اس وباء کے ذریعہ انسانی معاشرے کو ایک سبق دینے کی کوشش کی ہے کہ دنیا میں نفرت کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے بلکہ محبت اور خلوص کے ذریعہ ہی دنیا بدل سکتی ہے۔اس لئے اس آزمائش وامتحان کی گھڑی میں ہمیں بھی کامیاب ہونا ہے اور دوسری قوموں کے لئے مشعلِ راہ بننا ہے۔
پرنسپل ، سی ایم کالج، دربھنگہ
موبائل: 9431414586
ای میل:  rm.meezan@gmail.com
 

تازہ ترین