کوٹ بلوال جیل کے قیدیوں کا چیف جسٹس کو مکتوب

کورونا وائرس کے پیش نظر مشروط رہائی کی اپیل

29 مارچ 2020 (00 : 01 AM)   
(      )

یو این آئی
سرینگر//  کوٹ بلوال جیل جموںمیں بند قیدیوں نے جموں وکشمیر ہائی کورٹ کی چیف جسٹس ،جسٹس گیتا متل سے عالمی وبا کورونا وائرس کے خطرات کے پیش نظر انسانی بنیادوں پر مشروط رہائی کی اپیل کی ہے۔واضح رہے کہ کوٹ بلوال جیل جموں میں بند قیدیوں میں سے بیشتر قیدی کشمیر سے تعلق رکھتے ہیں جن میں سے اکثر کو متنازع قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت بند رکھا گیا ہے۔ کورٹ بلوال جیل جموں کے قیدیوں نے جموں و کشمیر ہائی کی خاتون چیف جسٹس، محکمہ داخلہ کے پرنسپل سکریٹری اور جموں و کشمیر پولیس سربراہ کے نام اپنے 4صفحات پر مشتمل مکتوب، جس کی ایک کاپی یو این آئی اردو کے پاس موجود ہے، روانہ کیا ہے جس میں انہوں نے موجودہ حالات کے پیش نظر انسانی بنیادوں پر اپنی عارضی و مشروط رہائی کی اپیل کی ہے۔قیدیوں نے اس مکتوب میں کہا ہے کہ جموں و کشمیر کے جیلوں میں صحت صفائی اور سینی ٹائزیشن کا فقدان ہے جس کے باعث یہ وائرس ان جیلوں میں پھیلنے کے زیادہ خطرات لاحق ہیں۔انہوں نے کہا ہے کہ قیدی جو جیل میں موثر صحت و صفائی کے انتظامات کی عدم دستیابی کے باعث پہلے ہی مختلف بیماریوں میں مبتلا ہوتے ہیں، اس وائرس کا بہ آسانی شکار ہوسکتے ہیں۔قیدیوں کا کہنا ہے کہ جموں و کشمیر کے جیلوں میں بنیادی میڈیکل سہولیات و ایمرجنسی ساز سامان کا فقدان ہے۔ انہوں نے لکھا ہے: 'قیدی اپنے اہل خانہ کے بارے میں بھی متفکر ہیں جن کے ساتھ وہ اب کئی ہفتوں سے ملاقی نہیں ہوپار ہے ہیں نیز جیل میں دستیاب فون سہولیات ناکافی ہی نہیں بلکہ اس قدر مہنگی ہیں کہ عام قیدیوں کے بس سے باہر ہیں'۔ انہوں نے لکھا ہے: 'جموں و کشمیر کے جیلوں میں بنیادی صحت و صفائی اور سینی ٹائزیشن کا از حد فقدان ہے، یہاں دستیاب طبی سہولیات ناکافی ہیں اور ضروری معیار سے کافی نیچے ہیں، نیز اکثر قیدیوں کا غیر معیاری غذا کی فراہمی کے باعث  مدافعتی نظام بھی کافی کمزور ہوچکا ہے'۔قیدیوں نے کہا ہے کہ جیل کی بارکیں گنجائش سے بھی زیادہ بھری ہوئی ہیں تو اس صورت میں سماجی دوری بنائے رکھنا ناممکن ہے۔ انہوں نے لکھا ہے: 'جیلوں میں طبی حفاظتی اقدام کی عدم موجودگی کے پیش نظر اگر کوئی قیدی اس وائرس کا شکار ہوا تو جیل میں تباہی مچ سکتی ہے جس سے تمام قیدیوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ سکتی ہیں، صرف ہاتھ دھونے سے اس وائرس سے محفوظ نہیں رہا جاسکتا'۔

تازہ ترین