تازہ ترین

شہزادہ بسملؔ

قلم کا شہزادہ، لفظوں کا جادوگر

29 مارچ 2020 (00 : 01 AM)   
(      )

طارق شبنم
وادی کشمیر کے ادبی افق پر سجی کہکشاں میں شہزادہ بسمل کا ایک نمایاں مقام ہے جو عرصہ دراز سے اردو زبان و ادب کے گلشن کو سجانے، سنوانے اور قسم بہ قسم کے گل کھلانے میں مصروف عمل ہیں ۔اردو زبان وادب کے فروغ کے لئے ان کی بے لوث خدمات قابل سراہنا ہیں ۔بسمل صاحب ایک سلجھی ہوئی بہترین شخصیت کے مالک، نہایت ہی ملنسار اور صاف گو انسان ہیں ۔آپ کے اعلیٰ اخلاق ،بہترین طرز کلام اور شرین زبان انسان کو متاثر کئے بنا نہیں رہ سکتے اور ہر ملنے والا ایک ہی ملاقات میں ان کی شخصیت کا اسیر ہو جاتا ہے ۔روزنامہ کشمیر عظمیٰ سرینگر میں گزشتہ دس سال سے متواتر طور شایع ہورہا ان کا ہفتہ وارمقبول عام کالم ’’چلتے چلتے‘‘ ان کی ایک خاص پہچان ہے ۔
شہزادہ بسمل کا قلمی سفر کم وبیش پچاس سال پر محیط ہے جس دوران انہوں نے مختلف اصناف پر طبع آزمائی کی ہے لیکن ان کے کالم بہت زیادہ مقبول ہوئے ،حق بات یہ ہے کہ راقم الحروف بھی ان کے کالموں کا گرودیدہ ہے جن کے مطالعے سے کافی کچھ سیکھنے کو ملتا ہے ۔ان کا اصل نام غلام قادر خان ،شہزادہ بسمل قلمی نام ہے اور اسی نام سے ادبی حلقوں میں جانے جاتے ہیں ۔آپ کی پیدائیش سن 1942 ؁ء  میں سرینگر کے ستُھو بر بر شاہ کے علاقے میں ایک تجارتی گھرانے میں ہوئی۔ آپ کے والد صاحب زیادہ پڑھے لکھے نہیں تھے لیکن اپنے بیٹے کو اعلیٰ تعلیم دینا چاھتے تھے ۔ ابتدائی تعلیم مڈل سکول ستُھو بر برشاہ میں حاصل کرنے کے بعد بسمل صاحب نے سری پرتاپ ہا ئی سکول میں داخلہ حاصل کیا جہاں انہیں اکبر جے پوری جیسے استاد کی صحبت حاصل رہی جنہوں نے ان کو لکھنے کی ترغیب دی ۔بہرحال یہاں سے دسویں جماعت کا امتحان پاس کرنے کے بعد جموں کشمیر یونیورسٹی میں ماہوار پچاس روپے کے تنخواہ پر بحثیت کلرک تعینات ہوئے۔ لیکن پرائیویٹ امیدوار کے طور اپنا تعلیمی سفر جاری رکھتے ہوئے کشمیر یونیورسٹی سرینگر سے بی ۔اے ۔اردو اور جامع اردو علی گڑھ سے اردو ادبیات کی ڈگریاں حاصل کیں ،جب کہ ہندی ادبیات واردھا گجرات کے چند امتحانات پا س کر کے ہندی زنان پر بھی عبور حاصل کر لیا ۔آپ یونیورسٹی میں سات سال تک بحیثیت کلرک فرائیض انجام دیتے رہے اور ترقیوں کے منازل طئے کرتے ہوئے 1905؁ء میںبورڈ آف سکول ایجوکیشن سے جوائینٹ سیکریٹری ایڈمنسٹریشن کے عہدے سے سبکدوش ہوئے ۔
شہزادہ بسمل بچپن سے ہی درد مند دل رکھنے والے انسان ہیں ،ستم رسیدہ غریب عوام کا درد ان کے دل میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے۔  انہوں نے نوجو انی کے ایام میں ہی قلم و قرطاس کو سنبھال کر اپنے دل میں چھپے اس درد کو بانٹنا شروع کیا۔ان کا پہلا افسانہ1968؁ء میں سرینگر سے شایع ہونے والے روز نامہ آفتاب میں شایع ہوا ۔پھر انہوں نے مڑ کر نہیں دیکھا اور آپ کے افسانے روزنامہ آفتاب کے ادبی ایڈیشن اور دوسرے اخباروں میں متواتر طور شایع ہوتے رہے لیکن بعد میں 1974 ؁ء میں ان کا رحجان اچانک کالم نویسی کی طرف ہوگیا اورانہوں نے پندرہ روزہ مسلم کے لئے مزاحیہ کالم ’’چلتے چلتے‘‘ لکھنا شروع کیا یہ کالم اخبار بین حلقوں میں مشہور ہوگیا اور آپ یہ کالم کم وبیش چالیس برس تک متواتر طورلکھتے رہے ،جب کہ اس دوران پندرہ روزہ احتساب کے لئے’’ قوس قزاح‘‘ اور ماہنامہ الحیات کے لئے ’’سات رنگ‘‘ عنوانات سے بھی کالم لکھتے رہے۔ موصوف 2009 ؁ء سے تا ایں دم روز نامہ کشمیر عظمیٰ کے لئے ہفتہ وار کالم ’’چلتے چلتے ‘‘بلا ناغہ تحریر کر رہے ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ ان کا یہ کالم جس میں وہ مختلف سماجی ،سیاسی ،معاشی ،تعلیمی اور اسلامی موضوعات پر اپنے منفرد انداز میں روشنی ڈالتے ہیں ،عوامی حلقوں میں کافی مقبول ہے اور قارئین کو اس کالم کا بے صبری سے انتظار رہتا ہے ۔اطلاعات کے مطابق ایک طالبہ ان کے کالموں پر ایم ۔فل بھی کر رہی ہے ۔ 
شہزادہ بسمل کی اب تک چار کتابیں جن میں سیرت پاک پر’’ آنحضرت ﷺہندو صحائیف میں ‘‘،’’خدا کے لئے مجھے بچائو ‘‘(مشہورڈل جھیل کی رودار)اور دو افسانوی مجموعے ’’رقس بسمل‘‘ اور’’ خوشبو کی موت‘‘ منظر عام پر آکر قارئین سے داد تحسین حاصل کر چکے ہیں ۔اس کے علاوہ ایل ناول ،تین ناولٹ ،چھ طویل کہانیاں ،گلدستہ اشعار (بیت بازی کے لئے منفرد انداز مین )اور کئی جلدوں پر مشتمل منتخب کالموں میں سے فلحال دو جلدیں زیر تکمیل ہیں جن کی بہت جلد منظر عام پر آنے کی امید ہے ۔ سیرت پاک پر مذ کورہ کتاب ان کے سچے عاشق رسول ہونے پر دلالت کرتی ہے جب کہ ان کے اکثر کالموں  میں بھی حضور پر نور ﷺکی محبت اور مساوات کی تعلیم کا تذ کرہ ملتا ہے ۔ ’’خڈا کے لئے مجھے بچائو‘‘ کتانچے میں انہوں نے جھیل ڈل کی رودار الم کی تفصیل انتہائی خوبصورت اور دلچسپ انداز میں بیان کی ہے جو قاری کے ذہن کو جھنجھوڑ کے رکھ دیتی ہے ۔اس کتا ب پر بات کرتے ہوئے مدیر اعلیٰ ’’الحیات ‘‘ ڈاکٹر جوہر قدوسی یوں رقم طراز ہیں ۔
’’صدیوں پرانی کہانی جو اس جھیل کی جیتی جاگتی اور چلتی پھرتی تصویر ہما رے سامنے پیش کرتی ہے ۔ڈل کی اس ایک کہانی میں صدیوں پر پھیلے ہوئے عہد بہ عہد کی تہہ درتہہ دسیوں کہانیاں جنم لیتی ہیں اور پڑھنے والے کے ذہن کو ایک نئے ہی عالم میں پہنچا دیتی ہیں ۔ایک ایسا عالم جہاں جھیل ڈل خود اپنی زبان میں ہماری کوتاہ اندیشیوں پر خندہ زن ہو کر کبھی ہنسنا شروع کردیتی ہے اور کبھی اپنے تئیں ہمارے نا روا سلوک پر ماتم کرنے لگتی ہے ۔کہیں یہ جھیل مسرور و مخمور ہو کر فخر کے ساتھ اپنے کارناموں کا ذکر کرنے لگتی ہے اور کہیں اپنے دامن کے چاک ہونے پر مغموم و مجروع ہو کر رونا شروع کر دیتی ہے ۔کہیں پر اپنے زیر سایہ ہو رہی سرگرمیوں کی چشم دید گواہ بن کر ان کی دلچسپ رودار سناتی ہے اور کسی جکہ تاریخ کے اتھاہ سمندر میں غوطہ لگا کر چند موتی نکال کر ہمارے سامنے رکھ دیتی ہے ‘‘۔
(خدا کے لئے مجھے بچائوص۷)
کالم نگاری کے ساتھ ساتھ شہزادہ بسمل فن افسانہ پر بھی اچھی خاصی دسترس رکھتے ہیں جس کا ثبوت ان کے دو افسانوی مجموعے، جن کا ذکر اوپر ہو چکا ہے،ہیں۔قابل ذکر ہے کہ ان کا پہلا افسانوی مجموعہ’’ رقس بسمل‘‘سن 1985؁ء کو جموں سے شایع ہوا تو ڈائیکٹر سکول ایجو کیشن جموں نے مالی سال 1985 / 86 کے لئے محکمہ تعلیم جموں کے لئے منظور کیا اور اس مجموعے کا دوسرا ایڈیشن بیس ہزار کی تعداد میں چھاپ کر جموںصوبہ کے ضلعی تعلیمی افسران کو سپلائی کیا گیا ۔1986؁ء میں اس کا تیسرا اور2018؁ء میں چوتھا نظرثانی واضافہ شدہ ایڈیشن منظر عام پر آیا ۔اس مجموعے کے بارے میں پروفیسر ڈاکٹر ظہورالدین لکھتے ہیں ۔
’’فنی اعتبار سے یہ کہانیاں دلچسپی سے خالی نہیں ہیں ۔خوش آیند پہلو تو یہ ہے کہ فنکار نہ صرف کہانی کہنے کے فن سے واقف ہے بلکہ ماضی میں ہوئے مختلف تجربات اور ان کے اسا لیب سے بھی روشناس ہیں۔اس لئے کہیں تو وہ بیانیہ اسلوب اختیار کرتے ہیں تو کہیں ڈرامائی ،کہیں وہ خطوط نگاری کے اسلوب کو برتتے ہیں تو کہیں نقاد اور تبصرہ نگارکے تجرباتی اور تخیلی انداز کو ‘‘۔ (رقص بسمل ص۹)
شہزادہ بسمل کا دوسرا افسانوی مجموعی’’ خوشبو کی موت‘‘ سن 2018میں منظر عام پر آیا اور یہ سفر ہنوز جاری ہے ۔وہ اپنے افسانوں میں زندگی کی ٹھوس حقیقتوں کو پیش کرتے ہیں ۔تنقیدی نکتہ نظر سے اگر چہ ان کے افسانوں پر بات کرنے کی گنجائیش ہو سکتی ہے لیکن یہ بات وثوق کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ وہ اپنے افسانوں میں انسانی سماج کو درپیش غربت ،کرپشن ،اخلاقی پستی جیسے ہمچو قسم کے مسائیل کو دلچسپ انداز میں پیش کرکے معاشرے کے رستے زخموں پر مرہم کاپھاہا رکھ کر ایک شفاف اور خرافات سے پاک سماج کی تشکیل کے متمنی ہیں ،ذرا دیکھئے یہ اقتباس ۔
’’پیار کی میٹھی اور اشک انگیز دنیا کے مزے لوٹ کر میری نیندیں اُڑ چکی تھیں۔میں نے سوچا کہ سوئوں گی نہیں بلکہ اپنے دولہے کا انتظار کروں گی ۔میں حسین دنیا کے تانے بانے بُننے میں کھوگئی۔تقریباً آدھا پونا گھنٹہ گزرا ہوگا ۔پھر دروازہ اکھلنے اور بند ہونے کی آواز آئی ۔ میں اشتیاق بھرے انتظار کے ساتھ سنبھل کر بیٹھ گئی ۔کوئی میری مسہری پر آیا۔اُس کے منہ سے شراب کی بد بو آرہی تھی ۔میں نے چونک کر اُسے دیکھا مگریہ ۔۔۔۔۔۔وہ نہیں تھا ۔۔۔۔۔۔ پھر ۔۔۔۔۔۔ اگر یہی میرا دولہا تھا ۔۔۔۔۔۔ تو پھر وہ کون تھا؟‘‘(افسانہ ۔۔۔۔۔ خوشبو کی موت)۔اس افسانے کا مختصر تجزیہ لکھنا پلیز۔۔۔
شہزادہ بسمل کے افسانوں پر بات کرتے ہوئے معروف معالج اور ادیب ڈاکٹر نذیر مشتاق لکھتے ہیں ۔
’’جناب شہزادہ بسمل اپنے افسانوں میں واقعات کی جس فنی مہارت اور پُر اثر انداز میں منظر کشی کرتے ہیں اُس کا اندازہ افسانے پڑھنے کے بعد ہوتا ہے ۔جملوں کی ساخت اور استعاروں کا استمال مصنف کو اتنا اچھا آتا ہے کہ افسانوں کا ہر جملہ قاری کے دل کے تا روں کو چھیڑ کر اس کے جذبات و احساسات اور امنگوں میں خاموش ارتعاش پیدا کرتا ہے ‘‘۔(خوشبو کی موت ص۱۳)  
شہزادہ بسمل اپنی تحریروں میں موقعہ اور مناسبت کے لحاظ سے خوب صورت اشعارکا بھی استمال کرتے ہیں جن سے ان کی تحریروں کا حسن دو بالا ہو جاتا ہے ۔ موصوف کا قلمی سفر اب بھی اپنی آب وتاب کے ساتھ جاری و ساری ہے اور وہ مختلف سطحوں پر اردو زبان و ادب کی زُلفیں سنوارنے میں منہمک ہیں ۔فلوقت وہ ہفتہ روزہ’’ مسلم‘‘،ماہنامہ’’ الحیات‘‘ کے ایڈیٹوریل بورڈ کے معمبر ہونے کے ساتھ ساتھ بورڈ آف سکول ایجو کیشن کے ا ن فیر مینز کمیٹی کے معمبر ہیںجب کہ جموں کشمیر فکشن رائیٹرس گلڈ کے نائیب صدر کے عہدے پر بھی  فائیز ہیں اور ہر ہفتے گلڈ کی ہفتہ وار نشستوں میں اپنی دلنشین تحریریں پڑھ کر اور اردو فکشن کے حوالے سے اپنے تجربات کو بیان کرکے نئے لکھنے والوں کی تربیت کا کام انجام دیتے ہیں ۔اللہ تبارک تعالیٰ ان کے قلم اور زیادہ طاقت بخشے اور عمر دراز سے نوازے ۔۔۔آمین ۔  
جیسے خوشبو سے معطر ہے مہکتا ہوا لہجہ تیرا
کتنا مسحور ہے اردو سا لہکتا ہوا لہجہ تیرا
(مہر افروز)
٭٭٭
رابطہ: اجس بانڈی پورہ،موبائل نمبر؛9906526432
رابطہ؛ tariqs709@gmail.com 
مضمون نگار معروف افسانہ نگار اور ولر اردو ادبی فورم بانڈی پورہ کے صدر ہیں۔