کورونا بحران سے تجارت اور صنعتوں کو درپیش نقصان

وادی کے تاجروں کاقرضوں پرعائد سود کو معاف کرنے کامطالبہ

28 مارچ 2020 (00 : 01 AM)   
(      )

بلال فرقانی
سرینگر// ریزرو بنک آف انڈیا کی جانب سے قرضوں کی ماہانہ قسطوںاور سود کی ادائیگی کو3ماہ تک موخر کرنے کے اعلان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے وادی کی تاجربرادری نے یک زباں ہوکر کہا ہے کہ ادائیگی میں3ماہ کا وقفہ فراہم کرنے سے انہیں کوئی ایسی بڑی راحت نہیں ملے گی جس کی وہ توقع کرتے تھے ۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ان 3ماہ کے دوران قرضوں پر عائدہونے والی سود کی رقم کو معاف کیا جانا چاہئے۔ کرئونا وائرس کا پھیلائو روکنے کیلئے مکمل لاک ڈائون کے بیچ ریزرو بنک آف انڈیا نے تاجروںکو راحت دیتے ہوئے بنکوں و مالیاتی اداروں سے لئے گئے سود  کی ادائیگی میں3ماہ کا وقفہ دیا ہے،جس کے دوران اُنہیں سود کے قسطوں کی ادائیگی نہیں کرنی پڑے گی۔وادی سے تعلق رکھنے والے تاجروں نے تاہم مرکزی حکومت سے کہا ہے کہ جموں کشمیر کیلئے اس سود کو معاف کیا جائے۔تاجروں کی انجمن کشمیر ٹریڈ الائنس کا کہنا ہے اگر چہ ریزرو بنک آف انڈیا کایہ فیصلہ حوصلہ افزا ہے تاہم وادی سے تعلق رکھنے والے دکانداروں،تاجروں اور صنعت کاروں کو اس سے کوئی بڑی راحت نہیں ملے گی۔ ٹریڈ الائنس کے صدر اعجاز شہدار کا کہنا ہے’’ وادی میں پہلے ہی4ماہ تک نامساعد صورتحال کے دوران تجارتی سرگرمیاں بند تھیںاور اس کے بعد سخت ترین سردی کی وجہ سے تجارتی سرگرمیوں پر منفی اثرات مرتب ہوئے اور اب لازمی  لاک ڈائون کے نتیجے میں وادی کی معیشت مزید رتباہ ہوگی‘‘۔ان کا کہنا تھا کہ مرکز اور ریزرو بنک آف انڈیا  وادی کو خصوصی کیس مد نظر رکھتے ہوئے یہاں کے تاجروں کو3ماہ تک سود کیلئے رعایت فراہم کریں۔ شہدار نے مزید کہا کہ سیاحتی اور صنعتی شعبہ پہلے ہی ختم ہوچکا ہے اور اب لاک ڈائون کے نتیجے میں دکانداروں کا بھی دیوالیہ نکلنا طے ہے۔
کشمیر ٹریڈرس اینڈ مینو فیکچرس فیڈریشن نے بھی ریزرو بنک آف انڈیا  کے فیصلے کو غیر متوازن قرار دیتے ہوئے کہا کہ کشمیری تاجروں کو اس سے کوئی بھی فرق نہیں پڑے گا۔فیڈریشن کے قائمقام صدر منظور احمد بٹ نے کہا’’4اگست کے بعد وادی میں4ماہ تک مکمل بند رہا،جس کے بعد سرینگر جموں شاہراہ بند ہونے کے نتیجے میں2ماہ تک وادی کا کاروباری مفلوج ہوگیا اور اب لاک ڈائون کی وجہ سے تمام سرگرمیاں بند ہے۔‘‘انہوں نے کہا کہ حقیقی معنوں میں وادی کے تاجر4اگست سے ہی لاک ڈائون کا سامنا کررہے ہیں اور قرضوں کی ادائیگی  کے قسطوں کی مدت میں توسیع اور3ماہ تک ادائیگی کے وقفہ میں اضافہ سے کشمیری تاجروں کو کوئی بھی فرق نہیں پڑے گا۔ان کا کہنا تھا کہ حالیہ دنوں میں مرکزی وزیر خزانہ نرملا ستیا رمن کے ساتھ ملاقات کے دوران تاجروں کے وفد نے ان پر واضح کیا تھاکہ 4اگست سے آئندہ3برسوں تک کشمیری تاجروں کے قرضوںپر سودکو معاف کیا جائے۔ منظور احمد بٹ نے کہا کہ ریزرو بنک آف انڈیا کے فیصلے سے وادی سے باہر تاجروں کو راحت مل سکتی ہے تاہم کشمیری تاجروں کو نہیں۔منظور احمد بٹ کا کہنا تھا کہ ماضی میں اس طرح کی صورتحال کے بعد کاروباریوں اور تاجروں کو گھروں سے زیوارات فرخت کرکے بعد میں سود کے قسطوں کی ادائیگی کرنی پڑی ہے۔
 

تازہ ترین