اغیار کی نقالی !!

باعثِ ذلت و خواری

28 مارچ 2020 (00 : 01 AM)   
(      )

عبدالرشید طلحہ
تہذیبوں کی آویزش ،ثقافتوں کاٹکراؤاور روایتوں کا تصادم کوئی انوکھی بات نہیں۔روزاول سے یہ سلسلہ بام عروج پرہےاور تاقیامت جاری رہےگا ۔ بالخصوص اسلامی تہذیب کوہرزمانے میں نت نئے چیلنجز درپیش ہوئے۔صلیبیوں،یہودیوں اور تاتاریوں کے ہاتھوں متعددمرتبہ اسلامی تمدن و حضارت پرشب خون مارنےاورچوطرفہ یلغار کرنے کی ناپاک کوششیں کی گئیںمگرہربار یا تو اسلام کےمتوالے اپنی تہذیب کے آگے سدسکندری بن کر کھڑے ہوگئےیا پھرکعبہ کو صنم خانہ سے پاسباں میسر آتے رہے ۔اس وقت بھی اسلامیان برصغیر کے لیے ہندوانہ تہذیب،کشمکش کا ایک ایسا دوراہا ہے،جہاں آکرعوام کی اکثریت قلادۂ اسلام گلوں سے نکال پھینکتی ہےاور اغیار کی نقالی کو قابل فخر کارنامہ سمجھنےلگتی ہے۔کتاب وسنت کی اصطلاح میں اسی کو تشبہ کہاجاتاہےیعنی اپنی ہیئت و وضع تبدیل کرکے دوسری قوم کی وضع قطع اختیار کرلینا،اپنے تہذیبی ورثہ سے دست کش ہوکر دوسروں کی روایات کو حرزجاں بنالینا، اپنی حقیقی شناخت و پہچان کو مسخ کرکے غیروں کے طور طریق کو بہتر تصورکرنےلگنا۔۔۔۔۔اور یہ ایسا سنگین جرم ہے کہ رسول اکرمﷺنے بددعاکےطور پرفرمایا: جو جس قوم کی مشابہت اختیار کرے گا وہ اسی میں شمار ہوگا۔(ابوداؤد)
علماءکرام نے فرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے اس ارشاد میں عقیدہ و ایمان کےتعلق سے غیروں سے مماثلت و مشابہت مراد نہیں کیوں کہ جو شخص عقیدہ و ایمان کے اعتبار سے غیر اسلامی فکر اختیار کرلے وہ توپہلے ہی سے مسلمان نہیں۔اس حدیث میں عملی اورسماجی زندگی میں غیروں کے تشبہ سے منع فرمایا گیا ہے اور مختلف مسائل میں حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی توضیح و تشریح نے اس نکتہ کو مزیدواضح کیاہے ۔مثلاً آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے سورج نکلنے ،اس کے نصف آسمان پر ہونے اور ڈوبنے کے وقت نماز پڑھنے سے منع فرمایا کہ یہ اوقات عام طور پر آفتاب پرست قومو ںکی عبادت کے رہے ہیں، روزہ میں حکم ہے کہ افطار میں جلدی کی جائے تاخیرنہ کی جائے کہ یہ اہل کتاب کا طریقہ ہے، یومِ عاشوراء کے ساتھ مزید ایک روزہ کا حکم ہوا، اس دن یہود روزہ رکھاکرتے تھےتاکہ مسلمان اپنی عبادت میں بھی ان سے ممتاز رہیں۔
ان ہدایات سے حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا منشا یہی ہے کہ مسلمان کو ہر شعبۂ زندگی میں دیگر اقوام سے قومی و دینی اعتبار سے ممتاز اورمشخص رہناچاہیے۔اس کے باوجود اگر کوئی ان ہدایات کوپس پشت ڈال کر غیرو ں کی مشابہت اختیار کرتاہے تو یہ بھی ایک اعتبار سے منافقت ہےاورمنافقین کا مقام جہنم کا نچلا طبقہ ہے۔
حضرت حکیم الامتؒ نے اپنی ایک کتاب میں تشبہ کے اقسام پر تفصیلی روشنی ڈالی ہے۔مناسب معلوم ہوتاہےکہ اس کا کچھ خلاصہ یہاں بھی نقل کردیاجائےتاکہ مزید بصیرت ہوجائے۔
 تشبہ بالکفار اعتقادات وعبادات میں کفر ہے اور مذہبی رسومات میں حرام ہے۔ جیسا کہ نصاری کی طرح سینہ پرصلیب لٹکانا اور ہنود کی طرح زُناَّر باندھنا ایسا تشبہ بلاشبہ حرام ہے۔تشبہ بالکفار امور مذہبیہ میں حرام ہے جو چیزیں دوسری قوموں کی مذہبی وضع ہیں، ان کا اختیار کرنا کفر ہوگا جیسے صلیب لٹکانا، سر پر چوٹی رکھنا وغیرہ۔
 معاشرت اورعبادات اور قومی شعار میں تشبہ مکروہ تحریمی ہے مثلاً کسی قوم کا وہ مخصوص لباس استعمال کرنا جو خاص انہی کی طرف منسوب ہو اور اس کا استعمال کرنے والا اسی قوم کا ایک فرد سمجھا جانے لگے جیسے نصرانی ٹوپی اور ہندوانہ دھوتی، یہ سب ناجائز اور ممنوع ہے اور تشبہ میں داخل ہے۔غیر مسلموں کی زبان اور ان کے لب ولہجہ اور طرز کلام کو اس لئے اختیار کرنا کہ ہم بھی انگریزوں کے مشابہ بن جائیں تو بلاشبہ یہ ممنوع ہوگا۔مسلمانوں میں جو فاسق یا بدعتی ہیں ان کی وضع اختیار کرنا بھی گناہ ہے پھر ان سب ناجائز وضعوں میں اگر پوری وضع بنائی تو زیادہ گناہ ہوگا اور اگر ادھوری بنائی تو اس سے کم ہوگا۔(ماخوذ از انفاس عیسی)
مختصر یہ کہ ہم مسلمانوں کو رحمت ِدو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے ظاہری و باطنی اعتبار سے جو کامل و مکمل اور فطری وپاکیزہ طریقۂ زندگی ملاہے، اگر کوئی بدنصیب اسے ترک کرکے کسی اور قوم کی نقل و حرکت اور مشابہت اختیار کرتا ہے، خواہ اخلاق و اطوار میں ہو یا افعال و احوال میں، لباس و معاش میں ہو یاتہذیب و تمدن میں ، جب کہ وہ طور طریق خاص ان ہی کے ہوں تو ان کی مشابہت اختیار کرنے والا حضور صلی اللہ علیہ و سلم کاسچا امتی اور عاشق نہیں ہوسکتا۔
عہدنبوی ﷺمیں جب کوئی شخص مشرف بہ اسلام ہوتاتو اس میں کئی ایک تبدیلیاں رونما ہوچکی ہوتیں، ان میں سے ایک اہم تبدیلی یہ ہوتی کہ اس کی دوستی اور دشمنی کا معیار بدل جاتا ہے۔ جو کل تک اس کے دوست تھے وہ دشمن بن جاتے ہیں اور جو دشمن تھے وہ دوست ہوجاتے ہیں اور ان نئے بننے والے دوستوں کی خاطر وہ اپنے پرانے دوستوں سے لڑائی تک کے لیے تیار ہو جاتابلکہ اس لڑائی میں اپنی جان اور مال قربان کرنے سے بھی گریز نہیں کرتا۔
الغرض یہ ایک قدرتی چیز ہے کہ ایمانی محبت تمام محبتوں پر غالب ہوتی ہے اور اللہ پاک کا ہم سے تقاضا بھی یہی ہے کہ ہماری طرف آؤ تو پورے آؤ،یہ نہیں کہ کچھ دوستی ہم سے اور کچھ دشمنوں سے۔ یہ بات اللہ پاک کو بالکل گوارا نہیں۔ارشاد باری ہے کہ: ” اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! اسلام میں پورے پورے داخل ہو جاؤ اور شیطان کے قدموں کی پیروی مت کرو۔ یقیناً وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔” (البقرہ: 208)
دیوالی، دسہرا اور ہولی کے متعلق تو سب جانتے ہیں کہ یہ ہندوؤں کے مذہبی تہوار ہیں، مگر سنکرانتی اور بسنت وغیرہ کے متعلق یہ غلط فہمی عام پائی جاتی ہے کہ یہ موسمی اور ثقافتی تہوار ہیں۔ ایسا صرف وہی لوگ سمجھتے ہیں جو ان تہواروں میں حصہ تو لیتے ہیں البتہ ان کا پس منظر جاننے کی زحمت انہوں نے کبھی گوارا نہیں کی،حالانکہ مورخین کے مطابق یہ خالصتاً ہندوانہ تہوار ہے ۔نامور محقق ،مؤرخ اور سائنسدان علامہ ابوریحان البیرونی تقریباً ایک ہزار سال قبل ہندوستان آئے تھے۔ انہوں نے کلرکہار (ضلع چکوال) کے نزدیک ہندوؤں کی معروف یونیورسٹی میں عرصہ دراز تک قیام کیا، وہیں انہوں نے اپنی شہرہ آفاق تصنیف ’’کتاب الہند‘‘ تحریر کی جو آج بھی ہندوستان کی تاریخ کے ضمن میں ایک مستند حوالہ سمجھی جاتی ہے۔اس کتاب کے باب 76 میں انہوں نے ’’عیدین اور خوشی کے دن‘‘ کے عنوان کے تحت ہندوستان میں منائے جانے والے مختلف مذہبی تہواروں کا ذکر کیا ہے۔ اس باب میں عید ’’بسنت‘‘ کا ذکر کرتے ہوئے علامہ البیرونی لکھتے ہیں ’’اسی مہینہ میں استوائے ربیعی ہوتا ہے، جس کا نام بسنت ہے، حساب سے اس وقت کا پتہ لگا کر ہندو اس دن عید کرتے ہیں اور برہمنوں کو کھلاتے ہیں، دیوتاؤں کی نذر چڑھاتے ہیں‘‘۔( کتاب الہند، مترجم: سید اصغر علی:صفحہ 206)
الغرض ایسے تہواروں کا شیوا اسلام کا نہیںاورہمیں کوئی زیب نہیں دیتا کہ غیر مسلموں کے تہواروںکو اپنا مشغلہ بنائیں۔ ہمیں تو نعمت عظمی کےطورپر ’’ہدایت نامہ انسانیت‘‘ عطا ہوا، تاکہ ہدایت کے روشن چراغ سے دوسری قوم وملل کے گھرانوں کو روشن کریں نہ کہ اپنے گھروں کی ایمانی شمع کو گل کرکے ظلمت کدہ ٔ کفر بنالیں۔ اس لیے ہم اس بات کی بھرپور کوشش کریں کہ غیروں کی مشابہت سے اپنے آپ کو اور اپنی اولاد کو بچائیںتاکہ کل میدان حشر میں سرخروئی ہمارامقدربن سکے۔
 

تازہ ترین