اسلام اور مغرب کے مابین تصورِ آزادی

مذہب اور اخلاق کا پابندنہ ہونا آزادی کا نام نہیں

28 مارچ 2020 (00 : 01 AM)   
(      )

احمد عبید اللہ یاسر
فکری یلغار اور نظریاتی جنگ وہ ہے جو آلاتِ حرب توپ، میزائیل ، ٹینک ، گولے بارود کے بجائے دیگر ایسے ذرائع سے لڑی جاتی ہے۔ غیر معمولی منصوبہ بند اور انتہائی منظم طریقے سے اقوام و ملل کی ذہنیت، تعلیم و تربیت معاشرت و معیشت، تہذیب و تمدن اور خیالات و نظریات تبدیل کیے جاتے ہیں، گویا یہ وہ کارزار ہے جس میں انسان کے جسم کے بجائے عقائد و نظریات پر حملہ ہوتا ہے، جس کے اثرات صدیوں جاری رہتے ہیں، نسل در نسل تقویت کے ساتھ فروغ پاتے رہتے ہیں، دل دماغ، انداز فکر و نظر، یکسر تبدیلی کا شکار ہوکر ارتداد کی لہروں میں گم ہوجاتے ہیں۔ جن افکار میں معصیت کو خوشنما اور دلفریب بناکر پیش کیا جاتا ہے، طبیعتوں کو ہرقیدوبندش سے فرد کو ہر ذمہ داری اور جوابدہی سے آزاد باور کروایا جاتا ہے۔
چنانچہ مغربی افکار میں تو مطلق آزادی اور بے قیدی کی کھلی تبلیغ کو فروغ دیا گیا۔ زندگی سے پورے تمتع، مطالبات نفس کی پوری تکمیل اور لذت پرستی کی اعلانیہ دعوت دی گئی بلکہ حیات انسانی کے اعلیٰ اقدار کی نہ صرف دھجیاں اڑائیں گئیںبلکہ لذت ہوی و ہوس، ظاہر پرستی اور مادی نفع کے سواہر چیز کا انکار کیا گیا۔ نظریاتی جنگ کی رفتار تو سست ہوتی ہے لیکن اثرات دیر پا ہوتے ہیںتاکہ مسلمان اپنے انفرادی تشخص سے محروم ہوکر مغربی افکار کی تقلید کرنے پر مجبور ہوجائیںاور مغرب سے جنگ کا تصور ہی باقی نہ رہے۔ اس لحاظ سے نظریاتی وفکری یلغار عسکری اور حربی یلغار سے زیادہ خطرناک ہے،اگر ہم غور کریں تو معلوم ہوگا کہ فکری اور نظریاتی جنگ کے مقاصد انتہائی ناپاک غلط عزائم سے بھرپور ہیں۔
 اہل اسلام سے اسلامی تعلیمات کا بتدریج خاتمہ ۔اسلامی تعلیمات اور شرعی احکام پر اعتراضات کرکے امت مسلمہ کو شکوک و شبہات میں ڈالنا۔مغربی کلچر کو ساری دنیا میں فروغ دینا۔جمہوریت کے نام پر اسلامی ممالک میں نااہلوں کو قیادت سونپنا۔مسلمانوں کو داخلی انتشار میں مبتلا کرکے خارجی حملے کرنا۔الغرض اہل اسلام سے اسلام کو ختم کرنا اور اسلامی تعلیمات کو بیخ و بن سے اکھاڑ پھینکنا ہے۔اس کے تحت انہوں ایک طویل ترین منصوبہ بندی کرکے اسلام پر حملہ آوری شروع کردی۔
مغربی کی اسلام دشمنی:
اہل مغرب کا اہل اسلام کو اسلامی تعلیمات سے برگشتہ کرنے اور ان میں نظریاتی ارتداد پھیلانے کا منصوبہ تاریخ اسلامی کا سب سے خطرناک منصوبہ ہے کہ اس فکری یلغار نے گذشتہ ڈیڑھ صدی کے طویل عرصے میں نظریاتی سیاسی اور نشریاتی وسائل کو بتدریج بروئے کار لاتے ہوئے لاکھوں مسلمانوں کو اسلام سے بیگانہ کردیا اور انہیں مغربی نظریات میں رنگ دیا جسکی وجہ سے وہ علانیہ طور پر کفر کے جھنڈے تلے اسلام کے خلاف کھڑے ہوگئے لیکن افسوس صد افسوس!کہ نہ تو مغربی افکار اور نظریات کو ماننے والی مسلمان نسل یہ تسلیم کرتی ہے کہ وہ عملا ایک صریح ارتداد میں مبتلا ہے اور نہ ہی اس زہریلے پہلو پر توجہ دیتی ہے کہ موجودہ دور کا ارتداد جو کبھی کمیونزم کبھی لبرل ازم کے شکل میں ظاہر ہوتا ہے اور پورے وجود کو تباہ و برباد کرکے رکھ دیتا ہے، وہ سب سے پر خطر اور سنگین ہے۔ چنانچہ سب سے پہلے ہمیں مغربی سازشوں اور ان کے فکری حملوں سے واقف ہونے کی ضرورت ہے۔
مغرب کے ملحدانہ افکار:
اپنے اس ایجنڈے کو بروئے کار لانے کے لئے مغرب نے آئے دن اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرکے اہل اسلام کو دین و شریعت سے دور کرنے کی کوششیں کی ہے ۔مغربی طرزِ فکر کا سب سے اہم مقصد یہ ہے کہ مساوات کا نعرہ لگاکر انسان کو عقل کا تابعدار بنایا جائے، پھر وحی الہی سے اس کے دل و دماغ میں بغاوت پیدا کی جائے یعنی انسان کے ذہن میں یہ بات بٹھادی جائے کہ جو بات عقل کے ترازو اور انسانی معیار کو ٹھیک لگے، وہ صد فی صد صحیح اور مبنی برحق ہے اور جو عقل کی سمجھ سے بالا تر ہو یا وہ اسے سمجھنے سے قاصر ہو یا اس کے مفاد اور ہوش و ہوس کے برخلاف ہو وہ بر سر غلط یا پھر اس کے حق میں ظلم و زیادتی ہے۔ چنانچہ مغرب کی جانب سے اس نظریہ کو فروغ دینے کی کوششیں کی گئی اور اس میں بہت حد کامیاب ہوتے چلے گئے، اس کے نتیجے میں آج نوجوان نسل یہ سوال کرتی ہے:
کیا یہ اسلام کی جانب سے سراسر ظلم اور نا انصافی نہیں ہے کہ مرد کو چار شادیوں کی اجازت اور عورت کو صرف ایک؟یہ کیا بات ہے کہ مرد کو طلاق کا حق ہے اور عورت کو نہیں؟ یہ کیسا اسلامی قانون ہے کہ عورت میراث میں، طرز زندگی میں، حتی کہ آزادی رائے میں مرد کے شانہ بشانہ کھڑی نہیں ہوسکتی؟اور یہ اسلام کا کیسا نظام ہے کہ مرد کے لئے کوئی پردہ نہیں اور عورت کو گھر میں قید کرکے رکھا جاتا ہے؟ کیا فضول خرچی نہیں ہے کہ حج میں لاکھوں کروڑوں روپے صرف کرکے حج ادا کیا جاتا ہے؟ اس سے اچھا ہوتا اگر کسی غریب کی مدد کردی جاتی!اور تو اور یہ کیسا پیسے کا ضیاع اور پیٹ کی بھوک ہے کہ بقرعید کے تین دنوں میں عالم اسلام میں لاکھوں جانور ذبح کردیئے جاتے ہیں؟ کیا یہی پیسے قوم مسلم کی تعلیمی پسماندگی اور معاشی بحران کے خاتمہ کیلئے صرف نہیں کئے جاسکتے؟
در اصل ان سوالات کی اصل وجہ نظام الٰہی اور وحی خداوندی سے بغاوت اور عقل کو معیار سمجھنے کی غلطی ہے۔
ایک اور قدم آگے بڑھائیں تو نظر آئے گا کہ اہل مغرب یہ چاہتے ہیں کہ آزادی کے تصور کو عام کرکے انسان کو خدا و رسولؐ کی بندگی سے ہٹا کر لذت کا غلام بنادیا جائے اور یہ مغربی طرز فکر کا دوسرا سب سے مؤثر ہتھیار ہے کہ انسان اپنی مرضی کا مالک ہوجائے۔ شریعت کو بالائے طاق رکھ کر لذت و ہوی و ہوس کا عادی ہوجائے بالفاظ دیگر شہوت پرستی کا بھوت انسان کے عقل پر سوار ہو، جو من میں آیا کرتا چلا جائے،الغرض انسان کا وحی کے تصور اور خدائی قانون سے کوئی سروکار نہ ہو، بقول مولانا خالد سیف اللہ رحمانی مدظلہ: "(ان کے نزدیک خدا کے قانون کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ انسان کی خواہش میں رکاوٹ پیدا کرے، انسان کو شریعت کا نہیں لذت کا غلام ہونا چاہئے، جس بات سے انسان کو لذت حاصل ہو، انسان اس کو کرنے کے لئے آزاد ہے”)اس کے نتیجے میں آج ساری دنیا دیکھ رہی ہےکہ مغربی ممالک کا ماحول کیسا بن چکا ہے غیر فطری اور ناجائز کاموں میں مغرب کا سر ہمیشہ بلند رہا ہے، نوبت بایں جا رسید کہ ہم جنس سے جنسی تعلقات میں کوئی مسئلہ نہیں، مغرب کی عدالتوں میں ایک ہی جنس کے لوگوں کا آپس میں نکاح  منظور ہوتا ہے، عریانیت و فحاشیت کی عمومی اجازت ہوتی ہے، زنا بالرضاء میں کوئی جرم نہیں بلکہ خود عورت کا اپنا شوہر مجبور ہے۔
عریانیت و فحاشیت عام ہوگئی، بے ادبی کی فضا میں حفظ مراتب گم ہوگئے یعنی جب باپ اور بیٹے کا حق یکساں ہوجائے تو پھر باپ بیٹے کو کچھ نہیں کہہ سکتا اگر کچھ کہہ دے تو قانوناً جرم ہوگا، دین میں شکوک و شبہات کا دروازہ کھولاگیا،ان سب کا حاصل بس یہی ہے کہ انسان کو آزادی کے پرفریب جھانسے میں پھنسا کر اسکو اس قدر بے لگام کردیا جائے کہ اپنی خواہش پر کوئی کنٹرول نہ رہے، وہ اپنی نفسانی خواہشات پر بآسانی عمل کرنے کے لئے اپنی مرضی کا مالک بن جائے۔جبکہ اسلامی فکر اسکے بالکل برعکس ہے۔بقول علامہ اقبال:
صبح ازل یہ مجھ سے کہا جبرئیل نے     
جو عقل کا غلام ہو، وہ دل نہ کرقبول   
اسلام اور مغرب کے مابین تصور آزادی:
مغربی فکر وفلسفہ میں آزادی کا مطلب ہے مطلق العنانی، مادر پدرآزادی، خدا، رسولؐ، مذہبی جکڑ بندیوں اور روایتی پابندیوں سے آزادی حاصل ہوجائے، ایسی آزادی کا اسلام میں کوئی تصور ہی نہیں ہے ۔اسلام کی نظر میں ایسا آدمی جانورسے بھی بدتر ہے۔ اسلام جہاں ایک طرف بندگی کو انسانیت کا شرف قرار دیتا ہے اور عبدیت اسکی معراج بتاتا ہے ۔اللہ رب العزت نے اپنے رسولؐ کو ایک عظیم لقب عبد عطافرمایا،مقام مدح میں اللہ نے اپنے حبیب کی تعریف کی تو عبد کو ذکر کیا (سبحان الذی اسری بعبدہ) اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم بھی اسی صفت کو پسند فرماتے تھے (عبدہ ورسولہ)  اس لیے مسلمان کا مطمح نظر اور اسکی معراج ﷲ کی بندگی ہے تو دوسری طرف مغربی فکراور تصور آزادی کو اسلام دھریت، بے دینی، لامذہبیت قرار دیتا ہے جوصریح گمراہی تک پہونچا دیتا ہے۔پھر مادیت، آوارگی اور نفسانی خواہشات ہی اسکا قبلہ بن جاتا ہے۔
چنانچہ اگر آج ہم اپنے معاشرے کا دیانت داری سے جائزہ لیں کہ ہم مغربی سازش کے کس قدر شکار ہوئے ہیں؟  ہمارے وہ شاہین صفت نوجوان کس لاشعوری طور پر فکری ارتداد کے جال میں بڑی آسانی سے پھنستے چلے جارہے ہیں، دل خون کے آنسو روتا ہے جب ہم اپنی تعلیمی اداروں کی صورتحال کی جانب دیکھتے ہیں۔ یقین مانیں رنج و الم سے دل پھٹنے کو آتا ہےکہ آج قوم مسلم جو دنیاوی تعلیم کے حصول میں کالجوں، یونیورسٹیوں کا رخ کرنے والے طلبہ و طالبات مغربی افکار و نظریات کا اشتہار نظر آئیں گے، صاف ستھری شریعت اور پاکیزہ نظام زندگی کے باوجود اپنا قبلہ و کعبہ مغرب کو سمجھنے لگے ہیں۔ اقدار و روایات کی تبدیلی کے ساتھ ساتھ ترجیحات بھی کافی حد تک بدل چکی ہیں۔ اپنے کردار کی فکر نہ اپنے دین اور ذمہ داریوں کی۔ حد تو یہ ہوگئی کہ اب اسلام کے مطابق خود ڈھالنے میں شرم محسوس کرتے ہیں ۔علامہ اقبال کی زبانی اگر اسکی عکاسی کی جائے تو یہی کہا جاسکتا ہے  ؎
یورپ کی غلامی نے رضا مند ہوا تو
مجھ کو تو گلہ تجھ سے ہے، یورپ سے نہیں 
مغربی افکار کے وسائل:
آج بھی مغرب کے ذہنی غلام اور زر خرید علماء سو کا بہت بڑا لشکر ہمارے درمیان موجود ہے ،چاہے وہ کالج اور یونیورسٹیوں کے اساتذہ ہوں یا فلاسفر، ڈاکٹرز ہوں یا صحافی حضرات، یا شعراء ہوں یا ٹی وی اینکرز جو نئ نسل میں مختلف طریقوں اور دل لبھا زاویوں سے اسلام کے متعلق شکوک و شبہات ڈالتے ہیں،آج یہود و نصاریٰ پوری میڈیا پرقبضہ کرکے ٹی،وی،انٹرنیٹ، اخبار،رسائل اورجرائد میں زہریلے مضامین اور فحش تصاویر کے ذریعے لوگوں کے ایمان کو کمزور کرنے کی کوشش میں مصروفِ عمل ہیں،  مذہبی منافرت پھیلانے سے لیکر جدیدیت اور ماڈرن ازم کا جھانسہ دے کر نیم مسلمان بنانے کی کوشش ان کا خاص مقصد ہے، مغربی طرزِ فکر کو لانے کیلئے روشن خیالی کے نام پر آج ہر ہر شہرمیں درجنوں نائٹ کلب ،نیٹ کیفے ،تھیٹرز (سینماگھر) اور شراب خانے موجود ہیں،یہاں تک کہ آج ہر چیز کی شہرت اور پہچان عورت کو بنادیا گیا ہے ،ہر کمپنی اپنی ایجاد کردہ چیز کو عورت کی تصویر کے بغیر شائع کرنا گوارہ نہیں کرتی۔
مغربی افکار کا تدارک:
مقام فکر ہے کہ آخر ہماری صورتحال اس قدر خوفناک کیوں بن گئی ہے؟ آج ہم اسلامی افکار و اقدار تہذیب و ثقافت کی بجائے مغربی افکار و نظریات کی عکاسی کیوں کر رہے ہیں؟غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ اسکی سب سے اہم وجہ صرف اسلام سے دوری، تعلق مع اللہ کا فقدان حیات دنیاوی سے غیر معمولی محبت، ہے قرآن مجید اور نبی رحمت صلی اللہ علیہ و سلم کی تعلیمات ہمیں پیغام دے رہا ہے کہ ہم اپنی خواہشات کے خول سے باہر نکل کر شیطانی آلہ کاروں کی سازشوں کو ناکام بناتے ہوئے اپنے وجود کو اسلام کے اصولوں کے مطابق ڈھالیں۔
یقین رکھیں!!
مغربی افکار و اقدار، تہذیب و تمدن زندگی کے کسی موڑ بھی ہمارے لیے فائدہ مند ثابت نہیں ہو سکتے۔ آج جو افراد مغرب کے اصول و قوانین اپنا چکے ہیں وہ موضع عبرت ہیں کہ در حقیقت ان کی زندگی ایسے موڑ پر آن کھڑی ہوئی ہے جہاں سے تاریکیوں کی جانب سفر شروع ہوتا ہے، جہاں سے غبار نفس ایک مسلمان کی قدآور شخصیت کو کچل ڈالتا ہے، آزادی افکار، اور مساوات کے یہ کھوکھلے نعرے ان بلبلوں کی مانند ہیں جو ایک ہی لمحے میں یوں فنا ہو جائیں گے جیسے کچھ تھا ہی نہیں۔  شاعر مشرق علامہ اقبال نے اہل مغرب سے اسی لیے کہا تھا اور کیا خوب کہا تھا    ؎
تمہاری تہذیب آپ اپنے خنجر سے خودکشی کرے گی
شاخ نازک پہ جو آشیانہ بنے گا ناپائیدار ہو گا
مغرب کی طرف سے تہذیبی ارتداد، فکری انحراف اور تشکیکی انداز ِفکر کی جو بیماری لانے کی کوشش کی جار ہی ہے اس کا مقابلہ کرنے کے لیے بقول علامہ علی میاں ندوی رحمہ اللہ:”ضرورت ہے کہ ہم حقائق اور واقعات کا جرات و دور اندیشی اور صحیح دینی روح اور دینی بصیرت کے ساتھ سامنا کریں اور ملک میں دین کی صحیح تعلیم کے مطابق ہمہ گیر، صالح اور ضروری تبدلی کے لیے صدق دل اور اخلاص کے ساتھ کوشش شروع کی جائے ۔جن چیزوں کا ازالہ اور سدّ باب ضروری ہو ان کا سدباب کیا جائے اور جن اصلاحات کا نفاذ اور جن اسکیموں کا آغاز ضروری ہو، ان کے آغاز میں دیر نہ کی جائے۔ اسلام، قرآن اور سنتِ رسول اللہ صلی علیہ وسلم کی روشنی میں اور اسلامی حدود کے مطابق معاشرہ میں مساوات اور انصاف قائم کیا جائے۔ اہل ملک کی خوش حالی اور فارغ البالی کے لیے ضروری قدم اٹھائے جائیں، کم از کم جمہور کے ہر فرد کے لیے امکانی حد تک ضروریات زندگی کا بندو بست ہو۔اس بے جا اسراف اور حد سے بڑھی ہوئی فضول خرچی کو ختم کیا جائے جو عوام کی حقیقی ضروریات بھی پوری ہونے نہیں دیتی۔ اغنیا و اہلِ ثروت میں ایثار کا مادہ اور ضروریات سے فاضلِ مال کے خرچ کا جذبہ اور "یسئلو نک ماذا ینفقون، قل العفوا”پر عمل کرنے کا شوق ہو اور فقراءمیں استغناءو خود داری اور اپنے گاڑھے پسینہ اور محنت و قابلیت سے اپنی ضروریات زندگی کے بندوبست کا جذبہ ہو۔نظام تعلیم کو نئے سرے سے اس طرح ڈھالا جائے کہ وہ اسلام کے عقائد و اصول اور عصر جدید کے تغیرات اور علوم و سائل دونوں کے ساتھ ہم آہنگ ہو اور دونوں کے تقاضے پورے کرتا ہو اور نئی نسل میں ایک طرف ایمان و یقین اخلاقی قوت، استقامت، خود اعتمادی و خودداری اپنے دین پر غیر متزلزل یقین اور اس کے لیے قربانی کا جذبہ ہوتو وہیں دوسری طرف قوتِ ایجاد، فکری استقلال، بلند ہمتی اور اولوالعزمی پیدا کرنے اور جرات و ذہانت کے ساتھ مغرب کا مقابلہ کرنے کا جوہر اور اوصاف پیدکیے جائیں‘‘۔
���

تازہ ترین