تازہ ترین

کرونا وائرس: دنیا جرثوموں کی زد میں!

بچائو کی تدبیریں ایمان کے منافی نہ توکل کیخلاف

28 مارچ 2020 (00 : 01 AM)   
(      )

بشارت بشیرؔ
دنیا لرزہ بر اندام ہے اور کائنات کے ہر گوشہ ٔ زمین میں رہنے والی انسانی مخلوق دہشت زدہ ، کروناوائرس نے اودھم مچا کے رکھدی ہے۔ ہزاروں لوگ لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ اور اَن گنت تشخیصی عمل سے گذرتے ہوئے بے چینی سے کروٹیں بدل رہے ہیں کہ کہیں اِن کے خون کے نمونوں کی جانچ انہیں بھی وائرس زدہ بتلاکر وادی ٔ موت میں جانے کا پیغام نہ سنادے۔ ماضی میں ڈینگی کانگو، ننگلیریا نے ہاہا کار مچادی تھی اور اب ’’کرونا‘‘ زور آزمائی کرتے ہوئے ہر انسانی بدن پر لرزہ طاری کئے ہوئے ہے۔ دیکھا جائے تو پہلے پہل ان ہلاکت خیز وباؤں کے مراکز غریب ، پسماندہ، اقتصادی لحاظ سے کمزور اور طبی سہولیات سے محروم ممالک رہا کرتے تھے لیکن اسے کیا کہیے کہ اب کے ’’کرونا ‘‘نے مادی لحاظ سے مستحکم ملک چین میں ڈیرے ڈال دئے اور پھراٹلی اور ایران میں اپنے پنجے گاڑھ کر سبھی کو ہیبت زدہ کرکے رکھ دیا ہے۔ترقی یافتہ ممالک ہی زیادہ تر اِس کانشانہ بنے ہوئے ہیں۔ جاپان ، تھائی لینڈ،اسپین، سنگاپور، تائیوان، کنیڈا، جرمنی ، برطانیہ اور امریکہ بھی زد میں آگئے ہیں۔ اب تک تقریباً200 ممالک میں بھی وائرس پھیلنے کی تصدیق ہوچکی ہےاور20ہزار ہلاکتیں ہوچکی ہیںجن میں ہند و پاک میںہلاک ہونے والے کئی افراد بھی شامل ہیں۔ اِدھر وادیٔ کشمیر میںتادم تحریرکرونا کے جرثوم نے ایک فرد کی جان لے لی ہے جبکہ کئی متاثرہ افراد سکمزسمیت دو دیگر ہسپتالوں میں اِ س تعلق سے علاج اور جانچ کے مراحل سے گذررہے ہیںاوربچائو تدابیر کے تحت پوری وادی میں لاک ڈاون ہے۔واضح رہے کہ کرونا وائرس سے اب تک زیادہ خنزیر اور مرغیاں متاثر نظر آتے تھے لیکن اب اِس نے بھیس بدل کر انسانی بستیوں کو اپنے راڈارپر لیا ہے۔ اس بیماری کا نام پہلی بار انسان نے 1960 میں سنا اور اب تک اِس کی 13 اقسام سامنے آچکی ہیں ،جن میں سے سات اقسام انسانوں کو متاثر کرسکتی ہیں۔ واضح رہے کہ یہ وائرس سانس کی اوپری نالی پر حملہ زن ہوکر سانس کے داخلی نظام کو متاثر کرسکتا ہے۔ اور اگر ایسا ہوا تو انسان جان لیوا فلو یا نمونیا میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ 2003 کی بات ہے جب چین میں سارس وائرس نے 774 افراد کی جان لی اور 8000 ہزار اِس کے متاثر قرار پائے یہ وائرس بہت زیادہ ہلاکت خیزتھا۔ چین کے مرکز برائے انسداد امراض و احتیاطی تدابیر کے ڈائریکٹر گاوفو نے کہا ہے کہ یہ وائر س ووھان کی ایک سمندری خوراک کی مارکیٹ میں جنگلی جانوروں سے پھیلا۔ اس مارکیٹ میں مختلف قسم کے جنگلی جانور ، لومڑی، مگر مچھ، بھیڑ یئے اور سانپ وغیرہ فروخت ہوتے ہیں۔ صحت کے عالمی ادارے کے مطابق وائرس کا شکار ہونے کے دو ہفتے کے اندر اِس کی علامات سامنے آتی ہیں۔ چینی محکمہ صحت نے ووھان سے نمودار ہونے والے وائرس کا جنیوم(جینیاتی ڈراف )معلوم کرکے دنیا کو آگاہ کرلیاہے۔ کوئی دوائی یا ویکسین فی الحال اسے روکنے کے لئے موجود نہیں۔ دسمبر 2019 ء میں نیا وائرس سر اُٹھا کر آگیا اور ماہرین علامات کی بنیاد پر ہی علاج و معالجہ کا کام کررہے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ یہ ایک ایسا مرض ہے کہ اسکا وائرس حیوان سے انسان میں منتقل ہونے کی طاقت و صلاحیت رکھتا ہےاور یہی اس کے Infectious ہونے کی نشانی ہے۔ 
حضرت امام کائنات ﷺ کا ارشادگرامی ہے ’’کوئی مرض(اپنی ذات سے) متعدی نہیں ہوتا‘‘[بخاری] اس کا مفہوم یوں بھی کچھ لوگوں نے بتایا کہ چونکہ کوئی مرض متعدی نہیں، اس لئے اس کے بچاؤ کے لئے حفاظتی تدابیر تو کل کے خلاف ہیں۔ یہ سوچ درست نہیں، جناب رسالت مآب ﷺ نے مہلک امراض سے بچاؤ و احتیاط کی تلقین فرمائی ہے ۔ حضرت اسامہ بن زید ؓ روایت فرماتے ہیں کہ امام کائنات ﷺ نے فرمایا: ’’طاعون ایک صورتِ عذاب ہے جسے اللہ تعالیٰ نے تم سے پہلی اُمتوں یا بنی اسرائیل پر مسلط کیا۔ ‘‘سو جب یہ کسی جگہ یہ مرض پھیل جائے تو وہاں کے لوگ اُس بستی سے باہر نہ جائیں اور جو اُس بستی سے باہر ہیں وہ اُس میں داخل نہ ہوں۔‘‘
[مسلم :2218]
سیدنا عمر بن الخطاب ؓ شام کے سفر پر روانہ ہورہے تھے کہ سرغ نامی بستی سے گذرے، حضرت ابو عبیدہ بن جراح ؓ اور دوسرے احباب نے اطلاع دی کہ اِس بستی پر طاعون مسلط ہوچکا ہے تو امیرالمومنین ؓنے فوراً مشاورت کا عمل شروع کیا۔ مہاجرین و انصارؓ اور غزوہ فتح مکہ میں شامل قریش کے بڑوں سے آراء لیں، اجتماعی مشاورت یہ ہوئی کہ بستی میں داخل نہ ہوا جائے، حضرت ابوعبیدہ ؓنے عرض کی کہ سیدی! آپ تقدیر سے بھاگ رہے ہیں تو جواب ملا اللہ کی تقدیر سے بھا گ کر اللہ کی تقدیر کی آغوش میں پنا ہ لے رہا ہوں۔ اس دوران حضرت عبدالرحمان بن عوف ؓ تشریف لے آئے تو فرمایا کہ اِس تعلق سے میرے پاس نبی محترم ﷺ کا ارشاد گرامی موجود ہے۔ جس میں آپ ﷺ نے فرمایاکہ جب تم کسی بستی میں وبا کے بارے میں سنو تو وہاں نہ جاؤ اور اگر تم پہلے سے وہاں موجود ہو اور یہ وبا پھیل جائے تو وہاں سے  بھاگ کر نہ جاؤ۔ سیدنا عمر ابن الخطاب ؓ نے ارشاد گرامی سنا اللہ تعالیٰ کا شکر و سپاس ادا کیا اور سفر جاری رکھا [مسلم ] ان احادیث و واقعات سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوئی کہ وبائی امراض سے بچنے کے لئے احتیاط اور بچاؤ کا ہر جائز او رمناسب طریقہ اپنایا جائے۔ تدابیر اختیار کی جائیں اور یہ عمل تقدیر پر ایمان کے منافی نہیں ہے اور نہ توکل کے خلاف __ توکل کا لب لباب ہے ہی یہ کہ اسباب کو اختیار کیا جائے۔ لیکن اسباب موثر باالذات نہ مانے جائیں بلکہ اللہ مسبب الاسباب پر ہی ایمان رکھا جائے کیونکہ اسباب میں اثرات وہی پیدا کرتاہے او ریہی تقدیر پر ایمان کا تقاضہ بھی ہے ۔آن جناب ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’بیمار کو تندرست سے الگ رکھا جائے ‘‘
[مسلم:2221]
یہی تو ہے تنہائی جسے آج کی اصطلاح میں Isolation Unit کہا جاتا ہے۔ یہ بھی فرمایا آپ ﷺ نے ’’جذام کے مریض سے بچو جیسے تم شیر سے بچتے ہو ‘‘[بخاری:5207 ] دوسری حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جذام کے مریض کو اپنے ساتھ بٹھا کر ایک برتن میں کھانا کھلایا ۔‘‘[ ابن ماجہ: 354 ] اس شعار نبوی ﷺ کا مقصد و حکمت یہ کھل کر سامنے آتی ہے کہ کسی وبائی مرض میں مبتلا مریض سے احتیاط تو رکھی جائے لیکن اُس سے نفرت نہ کی جائے۔ تاکہ وہ اپنے کو سماج و معاشرے سے الگ نہ سمجھے نفسیاتی بیماریوں کا شکار نہ ہو۔ اپنوں بے گانوں کی دشمنی اس کے دل میں جگہ نہ لے۔
رسول محترم ﷺ کا یہ ارشاد مقدس کہ کوئی مرض متعدی نہیں ہوتا، اس کی شرح میں یہ آیا ہے کہ بظاہر ان احادیث میں تعارض ہے کہ ایک جگہ مریض سے بچنے کا حکم ہے اور دوسرا جذام کے مریض کے ساتھ کھانا کھانے کے حوالہ سے آپ ﷺ کا مقدس عمل ہے۔ اِ سے کوئی مرض کے متعدی ہونے کا نتیجہ توکرسکتا ہے۔ تو ان احادیث میں تطبیق یوں ہوسکتی ہے کہ امراض میں متعدیت ہونے کی تاثیر اللہ کی پیدا کردہ ہے لیکن وہ اللہ کی مشیت سے موثر ہوتی ہے۔ کسی بھی شئے میں کوئی اثر و تاثیر ذاتی نہیں اگر ایسا ہوتا تو دوائی کا استعمال کرنے والا اور ڈاکٹر و معالج سے رجوع کرنے والا ہر بیمار شفایاب ہوجاتا ! لیکن مشاہدہ تو یہی ہے کہ ایسا نہیں ہوتا ڈاکٹر کا اندازہ درست اور دوا شفاء کا ذریعہ بنتے ہیں۔ چنانچہ جب نبی ﷺ نے مرض کے بذاتہٖ متعدی ہونے کی نفی فرمائی تو ایک اعرابی گویا ہوا۔ اے اللہ کے رسول ﷺ ! اونٹ ریگستان میں ہرن کی طرح اچھل کود کررہے ہوتے ہیں کہ کوئی خارش زدہ اونٹ ان میں در آتا ہے اور پھر سارے ہی اونٹ خارش کے شکار ہوجاتے ہیں۔ تو زبان رسالت مآب ﷺ نے جوابی سوال فرماکر خاموش کرادیا ’’پہلے اونٹ کو خارش کہاں سے لگی؟‘‘[مسلم 2220 ] بات صاف ہوئی کہ آپ ﷺ نے اللہ کی قدرت کی جانب متوجہ کیا۔ کہ عالم اسباب مسبب الاسباب کے تابع و زیر نگین ہے لہٰذا تدبیر کے طور اسباب کو اختیار کیا جائے لیکن سب کو قادر مطلق کے حکم کے ماتحت سمجھاجائے صرف سبب، مسبب اورعلت و معلول کے روابط کو ہی مؤثر حقیقی ماننا تونراالحاد ہے ۔ جس سے بچا جائے غر ض جانور تو ہر زمین و زمن میں رہتے آئے ہیں اور خاص اوقات پر ایسے وائرس اور جرثوموں کا پیدا ہونا اور انسانی مخلوق کے اجسام کے اندر گھس جانا سلیم الفطرت انسان کو اللہ تعالیٰ کی مشیت اور تقدیر کی کارفرمائی کے حوالہ سے سوچنے پر آمادہ کرتا ہے۔ اِس لئے ایسے امراض سے بچنے کے لئے ماہرین جن احتیاطی تدابیر کی صلاح دیں اور جو جائز علاج بتا دیں ۔اُس پر عمل پیرا ہوا جائے۔ چونکہ مرض کا تعلق سانس کے عمل سے ہے۔ اِس لئے منہ اور ناک پر ماسک لگانے کے مشورہ پر بھی عمل ہو۔ یہ لازم تو نہیں کہ ہر شخص اس مرض کے وبائی اثرات کا شکار ہو۔ جیسے بعض متعدی امراض ایک گھر میں داخل ہوتے ہیں کئی ایک کو لپیٹ میں لیتے ہیں اور کئی محفوظ رہتے ہیں۔ کیونکہ ہر شخص کا immune system مدافعتی نظام الگ الگ ہوتاہے۔ عالمی ادارہ صحت نے جو ہدایات جاری کی ہیں اختصار اً یوں ہیں : ۱۔ باربار اچھے صابن سے ہاتھ دھوئیں ۔۲۔نزلہ زکام کے مریضوں سے دور رہیں ۔۳۔کھانستے اور چھینکتے وقت منہ اورناک کو ڈھکیں ۔۴۔جانوروں سے دور رہیں ۔
۶۔کھانا پکانے سے پہلے اور بعد میں ہاتھوں کو اچھی طرح دھولیں ، کھانا اچھی طرح پکائے اور اسے کچا نہ رہنے دیں ،کسی کی بھی آنکھ ، چہرے اور منہ کو چھونے سے گریز کریں۔ جو شخص پانچ مرتبہ دِن میں نماز کا اہتمام کرتا ہے اور کھانے سے پہلے اور بعد میں ہاتھ دھونے کی سنت پر عمل پیرا ہے____ اس کے لئے تو ان تدابیر پر عمل کرنا کوئی مشکل کام نہیں۔ ہاں احتیاطی تدابیر کے ساتھ ساتھ اِن وبائی امراض سے بچنے کے لئے اسلامی ادعیہ ووظائف کا بھی ورد ہو۔ کہ شفاء توشافی الامراض کے دستِ رحمت میں ہی ہے۔ دعائیں کرتے رہئیے۔(اَللّٰھُمَّ اِنِّی اَعُوْذُبِکَ مِنَ الْبَرَصِ وَالْجُنُوْنِ وَالْجُذَامِ وَمِنْ سَیِّیِئِ الْاَسْقَامِ۔)’’اے اللہ میں تجھ سے برص، جنون،جذام اور تمام بری بیماریوں سے پناہ مانگتا ہوں۔‘‘ [ابو داؤد]
یوں بھی اللہ کے حضور اپنے اور اپنے اہل خانہ کے لئے گڑ گڑائیے۔ ’’اے اللہ میں تجھ سے دنیا وآخرت میں عافیت کا طلب گار ہوں ، اے اللہ میں تجھ سے عفو، درگذر ، اپنے دین و دنیا ، اہل و عیال اور مال میں عافیت کی التجا کرتا ہوں، اے اللہ ہماری ستر پوشی فرما، ہماری شرم گاہوں کی حفاظت فرما، ہمیں خوف و خطرات سے محفوظ و ماموں فرما ، اے اللہ تو ہمارے آگے اور پیچھے سے دائیں اور بائیں سے اوپرسے حفاظت فرما اور میں اس بات سے تیری عظمت کی پناہ میں آتا ہوں کہ میں اچانک نیچے سے اُچک لیاجاؤں۔‘‘ [ ابوداؤد:5074]
یہ تعلیم فرمودہ دعائیں کیجئے دِل سے نکلیں گی تو انہیں طاقت پرواز حاصل ہوگی۔ اللہ تعالیٰ کافی و شافی ہے۔  یہ بھی یاد رہے کیا امیر کیا غریب ایک 115 قومیں کرونا سے متاثر ہیں۔  دنیا کے غالب حصے کو اِس بھلا نے اپنی زد میں لیا ہے ۔ اعداد و شمار کے مطابق لاکھوں بیمار ہوچکے ہیں تا دم تحریر کئی ہزارنفوس موت کی آغوش میں جاچکی ہیں۔ ہزاروںمتاثرین  شفاء یاب ہوچکے ہیںکئی ہزار زیر علاج ہیں ۔ بہتیرے لوگوںکی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہیں۔ بے شمار مریضوں کی حالت خطرے سے باہر ظاہر کی گئی ہے۔ مختصر یہ کہ مرض پر پھیلاچکا ہے۔ ان شاء اللہ کافور ہوگا لیکن یہ بات بھی مادی دنیا میں مست انسان سمجھ لیں کہ یہ مادی عروج ، صنعتی انقلاب ، برق رفتار رابطے ، جدید ٹکنک سب اس وباء کے آگے بے بس ، سائنسدان ، ڈاکٹر ، محققین سب نئے تانے بانے بُن رہے ہیں۔ مگر کچھ بَن نہیں پارہا ہے۔ مادی اور سائنسی لحاظ سے عروج کو چھونے والی اقوام کو اس نے لرزہ براندام کردیا ہے۔ صاف جھلکتا ہے کس قدر بے بسی یہ مخلوق اپنے مولیٰ کے سامنے ، جو پل پل یہ سمجھا رہا ہے کہ خیر و شر اور نفع و ضرر سب اُسی کے دست قدرت میں ہے۔ اور انسان کو چاہئے اسی کا ہوکر رہے تو گتھیاں سلجھ جائیں گی۔ مشکلات حل ہونگے مصائب سے نجات ملے گی۔ کیا قرآن کی یہ آیت ہم سب نہیں پڑھتے:{وَإِن یَمْسَسْکَ اللَّہُ بِضُرٍّ فَلاَ کَاشِفَ لَہُ إِلاَّ ہُوَ وَإِن یُرِدْکَ بِخَیْرٍ فَلاَ رَآدَّ لِفَضْلِہِ یُصَیبُ بِہِ مَن یَشَاء مِنْ عِبَادِہِ وَہُوَ الْغَفُورُ الرَّحِیمُ}’’اور اگر تمہیں اﷲ کوئی تکلیف پہنچا دے تو اُس کے سوا کوئی نہیں ہے جو اُسے دور کر دے، اور اگرو ہ تمہیں کوئی بھلائی پہنچانے کا ارادہ کر لے تو کوئی نہیں ہے جو اُس کے فضل کا رُخ پھیر دے۔ وہ اپنا فضل اپنے بندوں میں سے جس کوچاہتا ہے، پہنچا دیتا ہے، اور وہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔‘‘ہاں احتیاط اور حفا ظتی تدا بیر سے پہلو تہی مت کیجیے یہ ہلاکت خیزی ہوگی ۔ دعا دوا اور پر ہیز کے ساتھ چلیں تو نجات کا راستہ ان شا ء اللہ ضرور نکل آئے گا 
 
٭٭٭٭٭٭
موبائل نمبر؛9419080306

تازہ ترین