محبوبہ مفتی کو رہا کیا جائے: عمر عبداللہ

انٹرنیٹ کیلئے بھکاریوں جیسا سلوک کیوں؟

26 مارچ 2020 (00 : 01 AM)   
(      )

اشفاق سعید
سرینگر/ / نیشنل کانفرنس کے نائب صدر اورسابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بدھ کو پی ڈی پی صدر اور جموں کشمیر کی ایک اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی سمیت دیگر نظر بندلوگوںکی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ’’ محبوبہ مفتی کی مسلسل نظربندی مرکزی حکومت کا ظالمانہ اپروچ ہے‘‘۔ عمر عبداللہ کو گذشتہ روز کم و بیش آٹھ ماہ کی اسیری کے بعد رہا کیا گیا۔اپنی رہائی کے دوسرے دن عمر عبداللہ نے سماجی رابطہ گاہ ٹیوٹر پر لکھا’’ موجودہ صورتحال میںمحبوبہ مفتی اور دیگر لوگوںکو بدستور نظر بند رکھنا ظالمانہ اور ناگوار عمل ہے، پہلے تو کسی کو نظربند رکھنے کا کوئی جواز تھا ہی نہیں اور ایک ایسے وقت میں جب ملک بھر میں3ہفتوں کا لاک ڈائون ہے، کسی کو نظربند رکھنا مزید بلا جواز بنتا ہے،مجھے امید ہے کہ وزیر اعظم کا دفتر اور مرکزی وزیر داخلہ انہیں رہا کریں گے‘‘۔محبوبہ اور خود عمر کو گذشتہ برس5اگست کے جموں کشمیر کے بارے میں پارلیمانی فیصلے سے چند گھنٹے قبل ہی حراست میں لیا گیا تھا۔ بعد ازاں دونوں پر پبلک سیفٹی ایکٹ عائد کیا گیا۔ نیشنل کانفرنس کے صدر اور عمر کے والد ڈاکٹر فاروق عبد اللہ بھی پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتارہونے والوں میں شامل تھے ،جنہیں 13مارچ کے روز رہا کیا گیا۔ادھر تیزرفتار انٹر نیٹ کی بحالی کے حوالے سے آنے والی خبروں پر سابق وزیر علیٰ عمر عبداللہ نے سماجی رابطہ کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے ایک اور ٹویٹ میں کہا ’’اگر آپ 4جی انٹر نیٹ سروس کو بحال کر رہے ہیں تو اس میں کوئی دیری نہ کریں بلکہ بحال کر دیں ‘‘۔انہوں نے کہ وہ ہمیں دماغی طور پر پریشان کرنا بند کریں اور’’ احکامات ‘‘’’ مصنوعی احکامات ‘‘اور’’ ان کی تردید‘‘ کا سلسلہ بند کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ساتھ ایسی سہولیات ، جو ملک میں ہر شخص کو میسر ہیں ،کیلئے بھکاریوں جیسا سلوک کیوں کیا جائے ۔  

تازہ ترین