کرونا وائرس: جموں وکشمیرمیں 11سرکاری اسپتال’کورونا صحت گاہوں‘ میں تبدیل

مشتبہ مریضوں کی نگہداشت کیلئے جنگی نوعیت کے اقدامات کا اعلان

25 مارچ 2020 (00 : 01 AM)   
(      )

اشفاق سعید
سرینگر//جموں و کشمیر کی انتظامیہ نے منگل کو 20اضلاع میں 10ہزار بستروں پر مشتمل  11سرکاری اسپتالوں اوردیگرصحت مراکز کو کورونا وائرس کے مشتبہ مریضوں کی طبی نگہداشت کیلئے مخصوص کردیا ۔ کوروناوائرس سے پیدا صورتحال کاجائزہ لینے کیلئے فائنانشل کمشنرصحت وطبی تعلیم اتل ڈلوکی صدارت میں ایک اہم میٹنگ منعقد ہوئی ،جس میں یہ فیصلہ لیاگیاکہ کورونا وائرس کے مشتبہ مریضوں کوانتہائی طبی نگہداشت میں رکھاجائے تاکہ اُن کوعلاج ومعالجہ کی سہولیات فراہم کرنے کیساتھ ساتھ اس بات کوبھی یقینی بنایاجائے کہ مذکورہ مریضوں کاکسی کیساتھ براہ راست کوئی رابطہ نہ رہے ۔ میٹنگ میں ایسے 11اسپتالوں اوردیگرسرکاری صحت مراکزکی نشاندہی کی گئی ،جن کو’کورونا صحت گاہ‘کے طورمخصوص کیاجائیگااوریہاں کورو نا کے مشتبہ مریضوں کے بغیرکسی دوسرے بیمارکوکوئی طبی خدمات فراہم نہیں کی جائیں گی ۔جن سرکاری اسپتالوں اورصحت مراکز کو’کورو ناصحت گاہوں‘ میں تبدیل کرنے کافیصلہ لیاگیااُن میںسکمزمیڈیکل کالج بمنہ سرینگر،سینے کے امراض کیلئے مخصوص سی ڈی اسپتال ڈلگیٹ ،جواہرلعل نہرومیموریل اسپتال رعناواری اورپولیس اسپتال سرینگرکے علاوہ ڈسٹرکٹ اسپتال گاندربل،پلوامہ ،شوپیان اورکپوارہ کے نوتعمیرشدہ’ ائوپی ڈی بلاک‘ بھی شامل ہیں۔گورنمنٹ اسپتال گاندھی نگرجموں ،نوتعمیرکردہ200بستروں والے اسپتال،جی بی پنتھ ستواری جموں اورذہنی دبائو کے شکارمریضوں کیلئے مخصوص اسپتال جموں کوبھی ’کورو نا صحت گاہ‘ میں تبدیل کیاجائیگا۔سرکاری ترجمان نے بتایاکہ فائنانشل کمشنرصحت وطبی تعلیم کی زیرصدارت میٹنگ میں یہ بھی فیصلہ لیاگیاکہ مذکورہ سبھی گیارہ سرکاری اسپتالوں ،میڈیکل کالج اوردیگرصحت مراکزکوکو رونا کے مشتبہ مریضوں کیلئے مخصوص کیاجائے اورایسے تمام مریضوں کوانہی اسپتالوں میں الگ تھلگ رکھ کراُنہیں کڑی طبی نگہداشت میں رکھاجائے۔ترجمان نے بتایاکہ کوروناوائرس کی روکتھام کیلئے روبہ عمل لائے جارہے فوری نوعیت کے جنگی اقدامات کے تحت درکارافرادی قوت کی کمی پرقابو پانے کیلئے محکمہ صحت سے وابستہ این ایچ ایم ،آئی ایس ایم ڈاکٹروں اورمڈلیول ہیلتھ ورکروں کی خدمات کوبھی بروے کارلایاجائیگا۔
 

فوج نے ہیلپ لائن نمبرات جاری کئے 

 سرینگر//سرینگرمیں کرنا وائرس ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد فوج نے ہیلپ لائن نمبرات جاری کئے ہیں۔ دفاعی ترجمان کے مطابق عام شہریوں کو اس وائرس کے متعلق آگاہی فراہم کرنے کی خاطر ہیلپ لائن نمبرات جاری کئے گئے ہیں۔ فوج نے اس سلسلے میں سماجی رابط سائٹوں پر بھی لوگوں کو جانکاری دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ دفاعی ذرائع نے بتایا کہ موجودہ حالات میں ہیلپ لائن نمبرات جاری کرنا ناگزیر بن چکاہے ۔ترجمان کے مطابق بارہمولہ میں  0195-2238826، کپوارہ0195-5252996، شالہ ٹینگ0194-2496618اور اونتی پورہ 0193-3247087 میں ان نمبرات پررابطہ قائم کیا جاسکتا ہے۔ 
 

میڈیکل کالج اننت ناگ میں صرف 2وینٹی لیٹر دستیاب

عارف بلوچ
 
اننت ناگ //جنوبی کشمیر میں حکومت کروناوائرس سے نمٹنے کے لئے کتنا سنجیدہ ہے ،اس بات کا اندازہ گورنمنٹ میڈیکل کالج اننت ناگ میں موجود طبی سازوسامان سے لگایا جاسکتا ہے ،جہاں30لاکھ آبادی کیلئے صرف2وینٹی لیٹردستیاب ہیں ۔محکمہ صحت کے ایک عہدیدار کے مطابق اسپتال میں 2وینٹی لیٹر دستیاب ہیں جس کیلئے تربیت یافتہ عملہ بھی نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ گورنمنٹ میڈیکل کالج پر 4اضلاع کی آبادی کا دبائو ہے جس کے لئے 20وینٹی لیٹر ضرورت ہیں ۔انہوں نے کہا کہ میڈیکل کالج کے لئے فنڈس کی کوئی کمی نہیں ہوتی ہے تاہم اس کے باوجود بھی کالج کو بنیادی ڈھانچے اور مشینری کی کمی کا سامنا ہے ۔ میڈیکل کالج اننت ناگ 250بستروں پر مشتمل ہے جو وسیع آبادی کے پیش نظر نا کافی ہے ۔ ضلع میں قائم زچہ بچہ اسپتال گذشتہ 20برسوں سے وینٹی لیٹروں کے بغیر کام کر رہا ہے۔پرنسپل میڈیکل کالج ڈاکٹر شوکت جیلانی نے جگہ کی کمی کو بنیادی ڈھانچے میں رکاوٹ کا سبب قراردیتے ہوئے کہا کہ 3ماہ قبل 3وینٹی لیٹروں کے لئے آرڈر دیاگیاہے اور اُمید ہے کہ آنے والے دنوں میں دستیاب ہونگے ۔
 

میڈیکل بلاک حاجن میں بنیادی سہولیات کا فقدان

سرینگر//میڈیکل بلاک حاجن میں قائم بیشتر طبی مراکز میں ماسکوں اور دیگر حفاظتی سہولیات کی کمی کے باعث یہاں تعینات طبی اور نیم طبی عملہ سخت تشویش میں مبتلا ہے۔مارکنڈ ل ،شادی پورہ ، شلوت، ڈانگر پورہ ، ایس کے بالا، ایس کے پائین، نسبل، گنستان ، گارڈ کھوڈ، پنزی نارہ، زالپورہ، مدون ، پرنگ، مقدم یاری ،کھاٹہ پورہ ، نوگام، گوشہ بگ اور دیگر دیہات میں قائم طبی مراکزمیں ماسک،سینی ٹائزراوردیگر سہولیات کا فقدان ہے۔
 

خدمت خلق کی اہمیت اور زیادہ بڑھ گئی ہے: جمعیت اہلحدیث

سرینگر// جمعیت اہلحدیث نے کہا ہے کہ کروناوائرس نے اب جبکہ ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے جس میں جموں و کشمیر بھی شامل ہے، خدمت خلق کی اہمیت اور زیادہ بڑھ گئی ہے۔موصولہ بیان کے مطابق چونکہ جموں و کشمیر کے حالات تجارتی اعتبار سے پہلے ہی ناگفتہ بہ ہیں اورتازہ صورتحال کی وجہ سے اب صورتحال میں مزید اضافہ ہوگیا ۔بیان کے مطابق ان حالات کو سامنے رکھتے ہوئے جمعیت صدر پروفیسر غلام محمد بٹ المدنی نے تنظیم کے سبھی ذمہ داروں، مساجدانتظامیہ اور اہل خیر حضرات سے اپیل کی ہے کہ وہ بلا امتیاز مسلک و ملت محض انسانیت کی بنیاد پر اپنے اپنے محلہ جات میں رہنے والے نادار ، بے بس اور مزدور پیشہ افراد کی حتی المقدور امداد کریں اور اپنے منصبی فرائض کو ان حالات میں احسن طریقے سے نبھائیں۔اس دوران موصوف نے محکمہ صحت کی طرف سے جاری ایڈوئزری پر مکمل عمل پیرا ہونے کی اپیل کی۔
 

کپوارہ میں279افراد زیر نگرانی :ترقیاتی کمشنر

لوگو ں سے افواہو ں پر کان نہ دھرنے کی اپیل 

اشرف چراغ 
 
کپوارہ//ضلع ترقیاتی کمشنرکپوارہ انشل گرگ نے عوام سے احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل کرنے کی تاکید کی ہے ۔ میڈیا کو تازہ صورتحال کی جانکاری دیتے ہوئے موصوف نے کہا کہ اب تک باقی ریاستو ں سے 279شہری اپنے گھرو ں کو واپس آگئے ہیں جو زیر نگرانی ہیںجن میں 111گھریلو اور40افراد ضلع انتظامیہ کے قرنطینہ مراکز میں رکھے گئے ہیں اور88افراد پر محکمہ صحت کی ٹیموں کی براہ راست نگرانی ہے ۔ انشل گرگ نے کہا کہ اب تک ان فراد میں 2افرادکے نمونے حاصل کئے گئے ہیں جن میں 1کا نمونہ منفی آیاہے ۔انہو ں نے کہا کہ گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے اور لوگ افواہو ں کے بجائے اس وباء کی روکتھام میں ضلع انتظامیہ کو اپنا تعاون فراہم کریں ۔انہوں نے کہاکہ کرونا وائرس کی کوئی بھی جانکاری حاصل کرنے کے لئے ضلع انتظامیہ نے پہلے ہی کنٹرول روم قائم کیا ہے اور کسی بھی وقت کنٹرول روم کے فون نمبرات1 253522 ,941926812 01955پر رابطہ کیا جاسکتا ہے ۔
 

 نمازوں کا اہتمام گھروں میں ہی کیا جائے: انجمن اوقاف جامع مسجد سرینگر 

سماجی رابط کم کرکے ایک دوسرے کو نقصان سے بچائیں

سرینگر//انجمن اوقاف جامع مسجد سرینگر نے کروناوائرس کے مسلسل پھیلائو کے تناظر میں عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے گھروں میں ہی نمازوں کا اہتمام کریں۔انجمن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اسلامی تعلیمات کی بنا پر اور اسلامی تاریخ میں پیش آئے اس طرح کی ناگہانی آفات کے تناظر میں انجمن نے لوگوں کو گھروں ہی میں نمازیں پڑھنے کی تاکید کی ہے ۔ واضح رہے کہ انجمن نے فی الحال جامع مسجد سرینگر میں تمام اجتماعی نمازیںموقوف کردی ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ عالم اسلام سمیت پوری دنیا COVID-19 کیخلاف جنگ میں مصروف ہے اور مسلم معاشرہ اس حوالے سے غور و خوض کررہا ہے کہ کرونا وائرس کے پھیلائو کوروکنے کی کوشش کے دوران سماجی اور مذہبی سرگرمیاں کس طرح انجام دی جاسکتی ہیں۔وبا کی بڑھتی ہوئی شرح اور محدود طبی سہولیات کے مد نظر تمام سرکردہ مذہبی سکالروں اور شریعت و طبی ماہرین سماجی رابطے کو کم کرنے پر سختی سے زور دے رہے ہیں لہٰذا بحیثیت مسلمان ہمارا یہ فریضہ ہے کہ ایک دوسرے کو نقصان سے بچانے کی ہرممکن کوشش کی جائے اورایسافقط سماجی اور معاشرتی رابطہ کم کرکے ہی انجام دیا جاسکتا ہے۔اس ضمن میں عبادت گاہوں اور روز مرہ کے عوامی مراکز میں اپنی سرگرمیاں معطل کرکے اس مقصد کو حاصل کیا جاسکتا ہے۔بیان میںلوگوں سے درخواست کی گئی ہے کہ موجودہ غیر معمولی ، بحرانی اور سنگین حالات میںان اقدامات پر مکمل عمل کریں اور اللہ تعالیٰ کی ذات پر توکل اور بھروسہ کرکے پوری انسانیت کی حفاظت اور سلامتی کیلئے بارگاہ خداوندی میں گھر پر توبہ و استغفار اور دعائوں کا اہتمام جاری رکھیں۔
 

 تہنیتی مجالس ملتوی کریں:مسرور عباس

طبی ماہرین کے مشوروں پر سختی سے عمل کرنے کی ضرورت

سرینگر// اتحاد المسلمین کے صدر مولانا مسرور عباس انصاری نے اس عالمی وبا کی سنگین صورتحال پر گہری فکر و تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اپنے بیان میں موجودہ حالات میں جموں و کشمیر کے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اس مرحلے پر اپنے ہمت و حوصلے بلند رکھنے کے ساتھ ساتھ قادر مطلق اللہ تعالیٰ کے حضور توبہ و استغفار کے ساتھ ساتھ دعائوں کا اہتمام کریں تاکہ وہ نہ صرف ملت اسلامیہ بلکہ پوری انسانیت کو موجودہ سنگین عالمی وبا کرونا وائرس کی خطرناک بیماری سے محفوظ رکھے اور پوری دنیا میں صحت و سلامتی کی فضا بحال ہو اور خوف و دہشت سے نجات ملے۔موجودہ تشویشناک صورتحال میں خوف و ہراس کے بجائے عقل و شعور سے کام لینے کی استدعا کرتے ہوئے مولانا انصاری نے لوگوں پر زور دیا ہے کہ وہ اس وقت طبی ماہرین کے مشوروں پر سختی سے عمل کریں اور تمام تعزیتی اور تہنیتی مجالس و محافل کو ملتوی کریں۔ انہوں نے کہا ہے کہ اجتماعات میں شرکت سے یہ وبا زیادہ پھیلنے کا امکان ہے اور اس میں کوئی فرق نہیں کہ یہ سماجی، سیاسی یا دینی اجتماعات ہوں، اس لئے گزارش ہے کہ مجالس و محافل سے پرہیز کریں جن کا انعقاد ایسی صورتحال میں بالکل ضروری نہیں ہے۔

تازہ ترین