عمر عبد اللہ کی رہائی پر متعدد سیاسی پارٹیوں کا رد عمل

25 مارچ 2020 (00 : 01 AM)   
(      )

۔8ماہ بعد عمر کی رہائی دیکھ کر بہت خوشی ہوئی:فاروق عبد اللہ

سرینگر//جموں وکشمیر نیشنل کانفرنس نے پارٹی کے نائب صدر عمر عبداللہ کی 8ماہ بعد رہائی کا خیر مقدم کرتے ہوئے تمام سیاسی لیڈران کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ پارٹی نائب صدر پرعائد پی ایس اے کے خاتمے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے صدرِ نیشنل کانفرنس ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا ’’عمر عبداللہ کو 8ماہ کی اسیری کے بعد رہا ہوتے دیکھ کر مجھے بہت خوشی ہوئی، تاہم ماحول تب تک سازگار نہیں ہوسکتا جب تک تمام سیاسی لیڈران کو رہا نہیں کیا جاتا،میں اُن تمام لوگوں، سیاستدانوں، اراکین پارلیمان اور سیاسی جماعتوں کا شکر گزار ہوں جو جموں وکشمیر کے سیاسی لیڈران کی رہائی کا مطالبہ کررہے تھے‘‘۔پارٹی کے معاون جنرل سکریٹری ڈاکٹر شیخ مصطفیٰ کمال، اراکین پارلیمان محمد اکبر لون اور حسنین مسعودی نے بھی پارٹی نائب صدر کی رہائی کا خیر مقدم کیا ہے۔ اس کے علاوہ صوبائی سکریٹری ایڈوکیٹ شوکت احمد میر، ترجمان عمران نبی ڈار، ضلع صدر سرینگر پیر آفاق احمد، یوتھ صوبائی صدر سلمان علی ساگر، نائب صدر یوتھ احسان پردیسی، صوبائی صدر خواتین ونگ انجینئر صبیہ قادری، اقلیتی سیل کے آرگنائزر جگدیش سنگھ آزاد اور لیگل سیل نے بھی عمر عبداللہ کی رہائی کا خیر مقدم کیا ہے۔مذکورہ لیڈران نے پارٹی جنرل سیکریٹری علی محمد ساگر کی رہائی کا بھی مطالبہ کیا۔
 

محبوبہ سمیت دیگران کو بھی رہاکیاجائے:آزاد

نئی دہلی //راجیہ سبھا میں قائد حزب اختلاف و جموں وکشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ غلام نبی آزاد نے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی رہائی کا خیر مقدم کرتے ہوئے محبوبہ مفتی سمیت دیگر لیڈران کی رہائی پر زور دیاہے ۔ایک بیان میں آزاد نے کہا’’میں عمر عبداللہ کی بالآخر رہائی پر کافی خوش ہوں جنہیں مرکزی حکومت نے لگ بھگ 8ماہ کے بعد حراست سے رہاکیاہے ، یہ حراست بالکل غیر جمہوری تھی ، میں حکومت ہند پر زور دیتاہوں کہ فوری طور پر محبوبہ مفتی اور دیگر سینکڑوں سیاسی قیدیوں کو بھی رہاکیاجائے جو چاہے جموں وکشمیر میں ہیں یاپھر بیرون جموں وکشمیر ،خاص طور پر کورونا وائرس کے پیش نظر ان کی رہائی ہونی چاہئے ‘‘۔آزاد نے مزید کہاکہ حکومت کیلئے یہ اہم وقت ہے کہ وہ اپنی غلطی کا احساس کرتے ہوئے جموں وکشمیر کا ریاستی درجہ بحال کرے اورلوگوں کو وہ سبھی آئینی و اراضی حقوق دیئے جائیں جو اگست2019سے قبل انہیں حاصل تھے ۔
 

 سبھی قیدیوں کی رہائی ضروری: تاریگامی

 رہائی خوش آئند : حکیم /سبھی سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جائے:مونگا

 سرینگر//پیپلز ڈیموکریٹک فرنٹ کے چیرمین حکیم یاسین نے سابق وزیراعلی عمر عبداللہ کی رہائی کا خیرمقدم کیاہے۔ایک بیان میں حکیم یاسین نے کہا کہ سیاسی نظربندوں کی رہائی جموں و کشمیر میں منجمد سیاسی سرگرمیوں کو بحال کرنے کی طرف ایک مثبت قدم ہے۔ انہوں نے سابق وزیر اعلی محبوبہ مفتی، شاہ فیصل،پیپلز کانفرنس سربراہ سجاد غنی لون کے ساتھ ساتھ سبھی سیاسی نظربندوں کو بھی فوری طور رہا کرنے کی مانگ کی۔انہوں نے کہا کہ سیاسی نظربندوں کی رہائی منجمد سیاسی اور جمہوری سرگرمیوں کو بحال کرنے میں فعال ثابت ہوسکتی ہے اور لوگوں کو اپنے روزمرہ کے مسائل اجاگر کرنے کے لئے سیاسی پلیٹ فارم فراہم ہوگا۔ حکیم یاسین نے مرکزی حکومت پر زور دیا کہ وہ کورنا وائرس کی وجہ سے ریاست میں جاری لاک ڈاؤن کے پیش نظر4 -G انٹرنیٹ پر لگی پابندی کو فوری طور ہٹایا جانا چاہئے تاکہ عوام الناس کو اس مہلک بیماری کے روک تھام کے بارے میں وقت وقت پر آگاہی دی جاسکے۔ادھر جموں کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے نائب صدر، جی این مونگا نے بھی عمر عبد اللہ کی رہائی کا خیر مقدم کیا ہے۔اپنے ایک بیان میں مونگا نے کہا کہ عمر عبد اللہ کی ہائی ایک خوش آئند قدم ہے، حکومت کو چاہئے کہ سبھی سیاسی قیدیوں کی رہائی کو یقینی بنایا جائے، جنہیں گذشتہ برس5اگست کے بعد گرفتار کیا گیا ہے۔کیمونسٹ پارٹی آف انڈیا( مارکسیسٹ) کے لیڈر یوسف تاریگامی نے بھی عمر عبد اللہ پر عائد پبلک سیفٹی ایکٹ واپس لئے جانے کے حکومتی فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔انہوں نے 4جی انٹر نیٹ سروس کی بحالی کا بھی مطالبہ کیا۔تاریگامی نے اپنے ایک بیان میں کہا’’عمر عبد اللہ کی رہائی ایک خوش آئند قدم ہے،ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ گذشتہ برس5اگست سے گرفتار کئے گئے سبھی قیدیوں کو رہا کیا جائے۔‘‘انہوں نے انتظامیہ پر زور دیا کہ کوروناوائرس سے پیدا صورتحال کے پیش نظر 4جی انٹرنیٹ سروس کو بحال کیا جانا چاہئے۔
 

مرکز’خواتین کی طاقت‘سے خوفزدہ

التجا مفتی کاردعمل

سرینگر//دیگرکئی مین اسٹریم لیڈروں کی طرح گزشتہ لگ بھگ8ماہ سے نظربند سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی کی بیٹی التجاء مفتی نے نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمرعبداللہ کی  نظربندی سے رہائی کاخیرمقدم کرتے ہوئے مرکزی سرکارکوہدف تنقیدبنایا ہے۔ التجاء مفتی نے اپنی محبوس والدہ کے ٹویٹرہینڈل پرلکھے ایک ٹویٹ میںکہا ’’خوشی ہے کہ عمرعبداللہ کورہاکیاگیا‘‘۔التجاء مفتی نے اپنی والدہ کی طویل نظربندی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے لکھا’’ناری شکتی اورخواتین کوبااختیاربنانے کی باتیں کرنے والی مرکزی سرکارخواتین کی طاقت سے خوفزدہ ہے‘‘۔یاد رہے کہ التجاء ہی اپنی والدہ کے ٹویٹرہینڈ ل کوگزشتہ کئی ماہ سے استعمال کر رہی ہیں۔اس دوران پی ڈی پی کے سینئر لیڈر انجینئر نذیر یتو نے مرکزی حکومت سے استداء کی ہے کہ جموں کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کو فی الفور رہا کیا جائے۔یتو نے محبوبہ کی مسلسل گرفتاری کے باعث بگڑتی صحت پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
 

شاہ فیصل کو بھی رہا کیا جائے: پیپلز موومنٹ

یو این آئی
 
سرینگر// جموں وکشمیر پیپلز موومنٹ نے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی رہائی کا خیر مقدم کرتے ہوئے پارٹی کے سرپرست اور سابق آئی اے ایس آفیسر ڈاکٹر شاہ فیصل کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔پارٹی کے ترجمان ڈاکٹر غلام مصطفیٰ خان نے ایک بیان میں عمر عبد اللہ کی رہائی کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر شاہ فیصل سمیت وادی اور وادی سے باہر کی جیلوں میں مقیدسبھی کشمیریوں کو انسانی بنیادوں پر رہا کیا جانا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ شاہ فیصل گذشتہ قریب آٹھ ماہ سے بغیر کسی چارج کے نظر بند ہیں جو جمہوری اقدار کے سراسر منافی ہے۔قابل ذکر ہے کہ شاہ فیصل نے گذشتہ برس مارچ میں اپنی سیاسی جماعت 'جموں وکشمیر پیپلز موومنٹ' کو 'ہوا بدلے گی' نعرے کے تحت لانچ کیا تھا۔ 
 

تازہ ترین