تعلیم اور روزگار کی خاطر بیرون ممالک مقیم کشمیری کسمپرسی کی حالت میں

25 مارچ 2020 (00 : 01 AM)   
(      )

اشفاق سعید
سرینگر/ / تعلیم اور روزگار کی خاطر بیرون ممالک میں مقیم کشمیر ی طلاب او ر ملازمین لاک ڈاو ن کے باعث ذہنی پریشانیوں میں مبتلا ہیں اور حکام سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ انہیں کشمیر لانے کیلئے اقدامات کئے جائیں ۔ یاد رہے کہ سرکار نے سبھی تمام گھریلو اور بین الاقوامی پروازں کو بند کیا ہے ۔یار رہے کہ لاک ڈائون کے باوجود سینکڑوں طلاب کشمیر پہنچ چکے ہیں جبکہ ہزاروں ابھی بھی گھر آنے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں ۔حکام کی جانب سے پروازوں کو منسوخ کرنے کے بعد ان طلاب کی مشکلات میں بے حد اضافہ ہو گیا ہے۔ زیر تعلیم طلاب کے لواحقین نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ بیروان ممالک سے کوئی بھی پرواز یہاں نہیں آرہی ہے اور ان کے بچے مختلف ہوائی اڈوں پر پریشان ہیں۔ سوموار کی شام دیر گئے بنگلورو ایئرپورٹ پر درماندہ کشمیری طلاب نے شہر کو خالی کروانے کے مطالبے پر مظاہرہ کیا۔
اطلاعات میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ لدھیانہ سٹی یونیورسٹی میں زیر تعلیم 25 سے زائد کشمیری طلاب نے احتجاج کیا کیونکہ اُنہیں ہوسٹل خالی کرنے کیلئے کہا گیا ۔ بنگلہ دیش کے ایک میڈیکل کالج سے بھی کشمیر کے44طلاب سمندر کا سفر طے کر کے کولکتہ پہنچے اور وہاں سے منگل کی صبح سرینگر کے ہوائی اڈہ پر پہنچ گئے، مذکورہ سبھی طلاب کو سرینگر میں ہی الگ تھلگ رکھا گیا ہے ۔ اس دوران معلوم ہوا ہے کہ بھارت بنگلہ دیش سرحد پر واقع بنپول میں 70سے زیادہ کشمیری طلاب درماندہ ہوکر رہ گئے ہیں کیونکہ ان کے کالج بند کردیئے گئے ہیں۔ ایسے طلاب حکام سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ انہیں وہاں سے نکالا جائے اور کشمیر میں قرنطینہ میں رکھا جائے ۔اسی طرح سعودی عرب سمیت دیگر کئی ممالک میں  مزدوری اور ملازمت کر رہے کشمیر ی بھی پریشان ہیں ۔سہیل احمد نامی ایک نوجوان نے کہا ’’ یہاں تمام کمپنیاں اور ادارے بند ہو چکے ہیں، ہم اپنے کرائے کے کمروں میں محصور ہیں ، جب کام نہیں تو کمروں کا کرایہ دینا بھی اُن کیلئے مشکل بن گیا ہے‘‘ ۔ سہیل نے مزیدکہا ’’ ہم کشمیر آنا چاہتے ہیں لیکن سرکار نے پروازوں کو ہی منسوخ کر دیا ہے‘‘ ۔سہیل نے کہا کہ وہ سعودی عرب کے ریاض علاقے میں ایک سٹیلائٹ کمپنی میں کام کرتا ہے ۔ ’’کمپنی دس دن سے بند ہے اور ہم کرائے کے کمروں میں ہی بیٹھے ہیں‘‘ ۔سہیل نے کہا کہ ریاض سعودی عرب میں کم سے کم 500کشمیر ی شہری مختلف کمپنیوں اور ہوٹلوں میں کام کر رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اکر یوٹی حکام انہیں کشمیر لانے کیلئے راضی نہیں تو سعودی حکومت سے ان کی رہائش اور دیگر سہولیات کیلئے بات کی جائے ۔بیرون ممالک کے ساتھ ساتھ ملک کی کئی ریاستوںکے کالجوں اور یونیورسٹیوںمیں زیر تعلیم کشمیری طلاب کو متعلقہ کالج حکام نے ہوسٹلوں میں ہی قیام کے لئے کہا ہے، تاہم یہ طلاب لاک ڈاؤن کی وجہ سے کھانے پینے کی چیزیں خریدنے سے قاصر ہیں۔

تازہ ترین