لاک ڈائون کی وجہ سے میوہ صنعت متاثر

باغات کی ادویات اور کھاد کو لازمی سروسزمیں شامل کیا جائے:دلاورمیر

24 مارچ 2020 (00 : 01 AM)   
(      )

سرینگر//جموں کشمیر اپنی پارٹی کے لیڈر دلاورمیرنے کہا وادی کشمیر میں مہلک کورونا وائرس کے نتیجے میں اٹھائے گئے اقدامات  خاص کرلاک ڈائون کے باعث میوہ صنعت سے وابستہ فرادبری طرح متاثر ہونے لگے ہیں۔انہوں نے کہا کیوں کہ اس وقت درختوں پر مختلف اقسام کے ادویات کرنے اورکھادڈالنے کا سیزن زوروں پرتھا ۔انہوں نے سرکار اور انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ پنجاب کی طرز پر جموں کشمیر میںکھاد،باغات کے ادویات کی تیاری اور تقسیم کاری کو لازمی سروسز میں شامل کیا جائے تاکہ اہل وادی  اس اہم موسم میںتمام ضروری اقدامات اٹھاکر نقصان سے بچ جائیں۔ کے این ایس کے مطابق جموں کشمیر اپنی پارٹی کے لیڈر دلاور میر نے سوموار کو ا ایک بیان میںکہا کہ وادی کشمیر میں کورونا وائرس کے نتیجے میں سرکارکی جانب سے احتیاطی پابندیوں کے نتیجے میںکسان اور مالکان باغات سخت پریشانیوں میں مبتلا ہوئے ہیں انہوں نے بتایا اس وقت باغات میں میوہ درختوں  کی دواپاشی اورکھادچھڑکنے کا موسم ہوتا ہے ،تاہم جہاں ایک طرف پابندیوں کے نتیجے میں لوگ گھروں میں بند ہیں ،وہیں دوسری جانب لا ک ڈائون کے باعث ادویات اور کھاد وغیرہ فروخت کرنے والی دکانیں بھی بند پڑی ہیں جس کے نتیجے میں باغ مالکان سخت مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا اگر اس وقت اِن اہم لوازمات کو پورا نہیں کیا گیاتوفروٹ انڈسٹری کو آنے والے کل میں سخت نقصان سے دو چارہونے پڑے گا ۔دلاور میر نے سرکار سے مطالبہ کیا کہ پنجاب کی طرز پر کھاد،باغات میں کام آنے والے ادویات کو لازمی سروسز میں شامل کیا جائے تاکہ میوہ صنعت سے وابستہ افراد کو کسی نقصان سے دوچار نہ ہونا پڑے۔قابل ذکر بات یہ ہے مارچ کے مہینے میں وادی کشمیر میں سیب کے باغات میں مختلف قسم کی دوا پاشی کی جاتی ہے اور کھاد ڈالی جاتی ہے جس کا عمل ابھی شروع ہوا ہی تھا تو مہلک کورونا وائرس نے وادی میں دستک دی اور انتظامیہ کو مجبوراً لوگوں کی حفاطت کے لئے لاک ڈائون کرنا پڑا۔ 
 

تازہ ترین