لاک ڈائون سے1000 کروڈ لیپس ہونے کا خدشہ

ٹریجریوں کو بھی لازمی سروس میں شامل کرنے کاٹھیکیداروں کا مطالبہ

24 مارچ 2020 (00 : 01 AM)   
(      )

سرینگر// وادی میں کورنا وائرس کے پھیلائو کو روکنے کیلئے حکومت کی طرف سے31مارچ تک جموں کشمیر میں مکمل لاک ڈائون اور16لازمی محکموں کو اِ س سے مستثنیٰ رکھنے کے فیصلے کے بیچ تعمیرات عامہ سے جڑے ہوئے لوگوں نے اس بات پر حیرانگی کا اظہار کیا ہے کہ لازمی محکموں کی فہرست میں انجینئرنگ شعبے اور ٹریجریوں کو نہیں رکھا گیا ہے۔ ٹھیکیداروں کا کہنا ہے کہ مارچ کے اس آخری حصے میں ٹریجریوں کو بند کرنے سے قریب 1000کروڑ روپے کے رقومات لیپس ہونگے۔ حکومت نے مہلک کرئونا وائرس کے پھیلائو کو روکنے کیلئے لازمی سروس کو بندشوں سے مستثنیٰ رکھا اور اس میں16محکموں کو شامل کیا گیا۔تعمیراتی ٹھیکیداروں کا کہنا ہے کہ مارچ کے آخری ماہ میں بیشتر رقومات واگزار ہوتے ہیں اور ٹریجریوں و انجینئرنگ شعبہ کو اس فہرست میں شامل نہ کرنے کے نتیجے میں ایک ہزار کروڑ روپے کی رقم لیپس ہونے کا خدشہ ہے۔تعمیراتی ٹھیکداروں کے مشترکہ پلیٹ فارم سینٹرل کنٹریکٹرس کارڈی نیشن کمیٹی کے جنرل سیکریٹری فاروق احمد ڈار نے بتایا کہ اگر چہ حکومت نے26مارچ تک ٹریجریوں میں بلوں کو جمع کرنے کی معیاد میں توسیع کرکے اس کو30مارچ تک بڑھایا،تاہم31مارچ تک اگر انجینئرنگ دفاتر اور ٹریجریا بند ہوں گی تو یہ توسیع بے معنی ثابت ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ بیشتر ٹھیکیداروں کو اس بات کی آس رہتی ہے کہ انکے رقومات کی ادائیگی ہوگی تاہم اب جب ٹریجریاں ہی بند ہونگی تو یہ رقم بھی لیپس ہوگی۔ان کا کہنا تھا کہ رقومات لیپس ہونے کی صورت میں جہاں حکومت کے واجبات میں اضافہ ہوگا وہیں آئندہ ترقیاتی و تعمیراتی کام بھی  بہت متاثر ہونگے۔ڈار کا کہنا تھا کہ حکومت کے سر پر سال2014میں آئے سیلاب کے دوران کئے گئے کام کے قریب700 کروڑ روپے واجب الادا ہے،وہیں نئے واجبات کے جمع ہونے کے بعد اس سے آئندہ5برسوں کے تعمیراتی کاموں کے منصوبوں پر بھی منفی اثرات مرتب ہونگے۔ سینٹرل کنٹریکٹرس کارڈی نیشن کمیٹی کے جنرل سیکریٹری نے حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ یا تو ان ٹریجریوں اور متعلقہ افسران جو بلیں تیار کرنے سے لیکر رقومات کی واگزاری تک منسلک ہیں،کو لازمی سروس میں رکھا جائے،یا محکمہ خزانہ حکم نامہ جاری کریں،تاکہ ان محکمہ جات کے چیف انجینئر اس رقم کو اپنے محکمانہ کھاتوں میں جمع رکھے اور رقم لیپس ہونے سے بچ جائے۔ اس دوران انہوں نے حکومت کی طرف سے لاک ڈائون کو بروقت اور برمحل قرار دیتے ہوئے کہا کہ انسانی زندگیوں کو بچانا اور انہیں تحفظ فراہم کرنا اولین فرض ہے تاہم اس دوران باقی معاملات کو بھی زیر غور لانا لازمی ہے۔

 

تازہ ترین