غیر مقامی افراد کی کثیر تعدادخفیہ راستوںسے جنوبی کشمیر میں داخل

24 مارچ 2020 (00 : 01 AM)   
(      )

عارف بلوچ
اننت ناگ// کرونا وائرس کی دستک کے ساتھ ہی جہاں ہر طرف لوگ دہشت کا شکار ہیں وہیں جنوبی کشمیر میںہندوستان کی مختلف ریاستوں سے سینکڑوں افراد وادی میںداخل ہو گئے ہیں ۔کشمیر عظمیٰ کو باوثو ق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ بہار اور دیگر کئی ریاستوں سے وابستہ درجنوں افراد سکریننگ کے بغیریہاں منتقل ہورہے ہیں۔ ویری ناگ اور ڈورو کے لوگوں نے بتایا کہ اُنہوں نے کئی غیر مقامی باشندوں کی نقل وحرکت دیکھی ہے جس کے سبب انہیں خدشات پیدا ہوگئے ہیں ۔گریٹر ویری ناگ نامی سول سو سائٹی کے ایک عہدیدار نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ زِگ موڑ پر قائم سکریننگ مرکز کے سبب گذشتہ دنوں شاہراہ پر ٹریفک جام لگ جاتا تھا جس کے باعث کئی غیر مقامی افراد گاڑیوں سے اُتر کر اموہ پہاڑی راستہ سے پیدل چل کر ویری ناگ میں داخل ہو گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر چہ انتظامیہ نے اموہ راستہ کو مکمل طور پر بند کیا ہے تاہم اس کے باوجود بھی کچھ افراد نے پہاڑی راستہ کا انتخاب کیاہے۔انہوں نے مزیدکہا کہ اگر یہ عمل جاری رہا تو اس کے سنگین نتائج سامنے آئیں گے ۔محکمہ صحت میں ایک اعلیٰ افسر نے اپنا نام مخفی رکھنے کی شرط پر کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ مقامی لوگوںکے دبائو کے پیش نظر اب تک کئی غیر ریاستی باشندے طبی جانچ پڑتال کے لئے اسپتالوں کا رخ کر چکے ہیں تاہم سازوسامان کی کمی کے باعث ان افراد کی بہتر طبی جانچ پڑتال نہیںہورہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ غیر ریاستی افراد سے اُن کی کوئی ذاتی دشمنی نہیں ہے تاہم حالات کا تقاضا ہے کہ فی الحال سبھی غیر ریاستی افراد کو واپس اپنے اپنے گھروں کوروانہ کیا جا ئے۔ ضلع ترقیاتی کمشنر بشیر احمد ڈار نے اس ضمن میںبتایا کہ اسکریننگ عمل کو مزید سخت بنایا گیا ہے اور عوام سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ انتظامیہ کو بھر پور تعاون دیں۔انہوں نے یقین دلایا کہ جواہر ٹنل کے بعد آنے والے اندرونی راستوں پر مزید چوکسی بڑھائی جائے گی۔ دریں اثناء پولیس نے انتظامیہ کی جانب سے عائد پابندیوں کی خلاف ورزی کرنے کے پاداش میں کامران منظور بہرو نامی ایک شخص کو گرفتار کرلیا۔
 

تازہ ترین