پانچویں روزبھی ہوکا عالم ،تمام دفاتر ،دکانیں بند

ڈرون کے ذریعے لوگوں کو گھروں سے باہر نہ آنے کی ہدایت دی گئی

24 مارچ 2020 (00 : 01 AM)   
(      )

بلال فرقانی
سرینگر// پولیس نے پیر کومکمل لاک ڈائون کیلئے ڈرون کو استعمال کرتے ہوئے لوگوں کو بندشوں کی اطلاع اور گھر سے باہر نہ آنے کی ہدایت دی۔وادی میں پانچوں روز بھی مکمل کرئونا کرفیوں کا نفاذ جاری رہا جس کے دوران عام زندگی کی رفتار تھم گئی۔ جمعرات سے وادی میں جاری کرئونا کرفیو کا سلسلہ روز بہ روز مزید سخت ہوتا جا رہا ہے،جبکہ حکام کی طرف سے جاری بندشوں کے بیچ عام زندگی کا نبض ہی تھم گیا ہے۔ منگل کو پولیس نے شہر میں ڈرون کے ذریعے لوگوں کو مطلع کیا کہ وہ گھروں سے باہر نہ آئے ،جبکہ تاکید کے ساتھ انہیں اپنی ہی جگہوں پر رہنے کی تلقین کی گئی۔شہر میں قریب15لاکھ کی آبادی مکمل لاک ڈائون کے نتیجے میں گھروں میں محصور ہوگئی۔بیشتر لوگوں نے گھروں میں ہی رہنے کو ترجیج دی اور انتہائی ضرورت کے وقت ہی باہر آئے۔ کاروباری،تجارتی اور دیگر تمام قسم کی سرگرمیاں پانچویں روز بھی بند رہیں،جبکہ سرکاری دفاتر میں معراج العالم ؐکی تعطیل کے مد نظر ملازمین نے بھی دفاتر کا رخ نہیں کیا۔نجی دفاتر بھی مکمل طور بند رہیںاور سڑکوں پر نجی و مسافر بردار ٹرانسپورٹ کا کہیں  نام و نشان بھی دیکھنے کو نہیں ملا۔سڑکوں پر فورسز اور پولیس گاڑیاں ہی گشت کرتی رہی،جبکہ پولیس گاڑیوں سے بار بار لوگوں کو گھروں کے اندر ہی رہنے کی ہدایت دی جا رہی تھی۔ شہر کے داخلی راستوں پر خار دار تاروں کوبچھایا گیا تھا،جبکہ شاہرائوں پر بھی جگہ جگہ بکتر بند گاڑیوں اور خار دار تاروں سے سڑکوں کو بند کیا گیا تھا۔ پولیس نے کئی جگہوں پر ان دکانداروں کے خلاف کاروائی بھی عمل میں لائی جنہوں نے سرکاری احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دکانیں کھولی تھی۔پولیس اور ضلعی حکام نے ائے ٹی ایموں اور دیگر عوامی مقامات پر چونے سے نشانات لگا کر2لوگوں کے درمیان فیصلے کا تعین کیا،تاکہ مہلک کورونا وائرس ایک دوسرے سے منتقل نہ ہو۔ جنوبی اضلاع میں بھی یہی صورتحال دیکھنے کو ملی،جہاں پر انٹری پوئنٹس کو بند کیا گیا تھا اور لوگوں کے عبور و مرور اور گاڑیوں کی نقل و حرکت پر پابندی عائد کی گئی تھی۔ بیشتر لوگ ان اضلاع میں بھی اپنے  ہی گھرئوں میں رہیں۔ ادھر جنوبی کشمیر میں بھی صورتحال جوں کی توں رہی اور لوگوں نے گھرئوں میں رہنے کو ہی ترجیج دی۔وسطی کشمیر کے گاندربل اور بڈگام میں بھی سخت ترین بندشوں اور لوگوں کے گھروں میں رہنے سے ہو کا عالم دیکھنے کو ملا۔لوگوں نے شکایت کی کہ سنی ٹائزروں اور ماسکوں کی بازار میں قلت ہیں اور جہاں پر دستیاب ہیں وہاں پر کالا بازاری میں انہیں اضافی قیمتوں پر فروخت کیا جا رہا ہے۔
 

تازہ ترین