تازہ ترین

عالمی یوم آب اور غافل کشمیری

پانی کے ذرائع وسائل خستہ حال

تاریخ    24 مارچ 2020 (00 : 01 AM)   


بشارت رشید
آج پوری دنیا کوکرونا وائرس کے سیلاب نے گھیر لیا ہے جس کے نتیجہ میں 22 مارچ کو بین الاقوامی سطح پر ’عالمی یومِ آب ‘کے موقعہ پرکوئی سٹیج نہیں سجایا گیااور نہ کسی خاص تقریب ،سمینار یا بحث و مباحثہ کاانعقاد کیا گیا۔ظاہر ہے کہ کرونا نے جس طرح کی تباہی مچادی ہے اُس نے ہر خاص و عام کو دہشت و وحشت میں مبتلا کردیا ہے۔اور شاید یہ سوچنے پر بھی مجبور کردیا ہے کہ ہم کیا ہیں اور ہماری اوقات کیاہے۔ہمیں کیا کرنا تھا اور ہم کیا کررہے ہیں۔خیربات عالمی یوم آب کے متعلق ہے جو ہر سال22مارچ کو منایا جاتا ہے،جس میں پانی  کے وسایل کی ضرورت ،ان کی اہمیت اور ان کے بچائو کے لئے طرح طرح کی آرائیں  پیش کی جاتی ہیں اور نئے نئے منصوبےسامنے لائے جاتے ہیں تاکہ انسانی وجودکاقیام برقرار رہ سکے۔اس سلسلے میںاب اگر ہم اپنی اس وادی کی بات کرتے ہیںتو یہاں کے پانی کے وسائل دن بہ دن بد سے بدتر ہوتے جارہے ہیں جو کہ ایک سنگین مسئلہ ہے۔ جیساکہ ہم سبھی جانتے ہیں کہ پانی انسان کے لئے ایک اہم ذریعہ ہے جس کے بغیر انسان کا زندہ رہنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے۔ یہ اللہ?پاک کی ایک ایسی نعمت اور رحمت ہے جس کے بغیر انسانی بقا کی کوئی صورت نظر نہیں آرہی ہےجبکہ پانی کے بغیر کوئی کام بھی انجام پذیر نہیںہو سکتا اور جس کے بغیر انسان تو انسان کوئی بھی جاندارسر زمین کائنات پر گذر بسر نہیں کرسکتا ہےبلکہ نباتا ت کی بقا بھی اسی پانی پر منحصر ہے۔ پانی کے وسائل کے حوالے سے اگر ہم وادی کشمیر کی بات کرے تو اللہ تعالیٰ نےاسے اس رحمت سے مالامال کر رکھاتھا۔ یہاں کے کونے کونے، گاؤں گاؤں بلکہ شہر اور قصبوںمیں پانی کے وسایل موجودتھے۔چھوٹےبڑے خوبصورت چشمے، ندی نالے، تالاب کے ساتھ ساتھ کئی جگہوں پر بڑے بڑے جھیل بطاہر آج بھی موجود ہیںجس سے یہ بات بخوبی عیاں ہوجاتی ہے کہ رب کریم نے وادی کو کتنی خوبصورتی کے ساتھ سجایا ہے۔ جھیل ڈل، جھیل چھتلم پانپور، جھیل وولر اس کی واضح مثال ہے،جونہ صرف وسائل ذرایع آب ہیں بلکہ ان سے وادی کا قدرتی حسن بھی دوبالا ہوجاتا ہے۔ جن کے دلکش نظارےواقعی پُر فریب اور دیکھنے کے لائق ہے۔ مگر بدقسمتی کی بات ہے کہ ان بڑے اور خوبصورت آبی وسائل کو تہہ و تیغ کرنے میں جہاں وادی کشمیریوں نے بذات خود کوئی کسر نہیں چھوڑی وہیں انہیں بچانے کے لئے آج تک کسی بھی ادوار کے کسی حکمران نے کوئی ٹھوس کوشش بھی نہیں کی بلکہ دورِ حاضر میں بھی چند باضمیر لوگوں کے سوا ان کی کسی کو کوئی فکر لاحق نہیں۔ ان آبی وسائل کے بچاو کے لئے کسی قسم کا خیال نہ رکھنا اور انہیں  بدستورتباہ حال رکھنا انتہائی افسوک ناک امر ہی نہیں بلکہ ایک بُرا عمل ہے،جس کی سزا کسی بھی وقت ہم سبھوں کسی نہ کسی صورت میں بھگتنی پڑے گی۔ کیونکہ جہاں انتظامیہ کروناوائرس جیسی مہلک بیماری جوکہ عذاب ِ الٰہی کی صورت میں نازل ہوچکی ہے،سے بچنے یا نجات پانےکے لئے لوگوں کو مختلف تدابیر کا خیال رکھنے کی ترغیب دے رہی ہے خصوصاً صاف ستھرا رہنے کی تلقین کررہی ہے،ایک دوسرے سے دوری رکھنےاور دیگر احتیاط برتنے کا جتن کررہی ہے، وہیں ہمارے اردگردموجود پانی کے یہ خستہ حال پانی کے وسایل ہماری خود غرضیوںاور کوتاہیوںپر ہمیں کوس رہی ہے کہ تم لوگوں نے ہمارا کیا حال بنا دیا ہے۔ اگر دیکھا جائے تو کشمیر کے اکثر بیشتر پانی کے چشمے، ندی نالے، تالاب اور جھیل اب گندگی کے ذخیروں میں تبدیل ہوچکے ہیں جو کہ ایک سنگین مسئلہ ہے۔ پانی کے ان خوبصورت وسائل میں دن بہ دن گندگی کے اضافہ سے ایک تو ان کا وجود ختم ہوتا جارہا ہے ،دوسرا اس گندگی کی وجہ سےیہاں کا فضائی ماحول بھی آلودہ ہوتا جارہا ہے اور ساتھ ہی ساتھ پانی بھی اب انتہائی گندہ ،گدلااور زہریلابن گیا ہے،اگر بغور دیکھا جائےآج سے دوتین دہائی قبل ان چشموں کے پانی کی جو رنگت تھی وہ اب بالکل بدصورت بن چکی ہے۔ان آبی ذرایع کا میٹھاپانی جو لوگ مزےاور رغبت سے پیتے تھے اور صحت مند رہتے تھے۔ آج اس پانی کو دیکھ کر ہی کوفت ہوتی ہے بلکہ قے آجاتی ہے۔افسو س ناک بات یہ ہے کہ پانی کے ان وسائل کو گندہ کرنے والا کوئی اور نہیں بلکہ خود ہم حضرتِ انسان ہی ہیں جو اپنے گھروں ،گلیوں،کوچوں کی ساری گندگی اور کچہرے ان آبی وسائل میں ڈالتے رہتے ہیں اور خود ہی اپنے لئے  نئی نئی مصیبتیں کھڑا کردیتے ہیں۔ کیونکہ خراب پانی کی وجہ سے مختلف بیماریاں پھیل سکتی ہیں اور ساتھ ہی ساتھ صاف ہوا بھی آلودہ ہوتا رہتا ہے۔ کوڑا کرکٹ اور باقی گندگیاں تسلسل کے ساتھ ڈالنے سے ایک نہ ایک دن ان کا وجود ختم ہو ہی جائے گا تب شاید لوگوں کو ان آبی وسایل کی اہمیت اور ضرورت کا احساس ہوگاجب وہ پینے کے صاف پانی کے ایک ایک قطرے کے لئے ترستے ہوں گے،نہ وہ اپنے لئے پانی کی ضروریات پوری کرسکیں گےاور نہ ہی اپنے پالتو جانوروں اور حیوانوں کے لئےپانی کا بندوبست کرسکیںگے۔ الغرض کہ یہ حضرتِ انسان اپنے ساتھ ساتھ حیوانوں اور چوپایوں کو بھی لے ڈوبیں گے۔یہ ایک لمحۂ فکریہ ہی نہیںبلکہ ایک سنگین مسئلہ ہے۔ حال ہی راقم نے جنوبی کشمیر کے کچھ علاقوں میں پانی کے اکثر بیشتر چشموں کو صورت حال دیکھ کر یہی اندازہ لگایا کہ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو خدا نخواستہ اللہ تعالیٰ کی طرف سےکوئی اور عذاب ہم پر نازل نہ ہوجاتا، جس کی وجہ سے میں بہت مایوس ہوا ہوں۔ ضلع پلوامہ کے پانپور کھریو رابطہ سڑک پر لدھو اور شار علاقوں میں دو ایسے چشمے دیکھے، جو اب گندگی سے بھرے پڑے ہیں اور جن کو سنبھالنے کے لئے ہزاروں کی آبادی میں کوئی بھی باضمیر غیرت مند انسان تیار نہیں۔ پانپور کے علاوہ جنوبی قصبہ ترال، اونتی پورہ، پلوامہ اور باقی علاقوں میں بھی پانی کے کچھ خوبصورت چشمے موجود ہیں، جن کو سال میں ایک بار صاف کیا جاتا ہے۔ مزکورہ علاقے کے ندی نالوں کا حال بھی بہت برا ہے اورجن کو کوئی پُرسان ِ حال ہی نہیں۔ جس سے یہی اندازہ ہوتا ہے کہ لوگوں کے ساتھ ساتھ متعلقہ حکام بھی پانی کے ان وسائل کو صاف ستھرا رکھنے ،انہیں بچانے میں عدم دلچسپی کا بخوبی مظاہرہ کررہی ہے۔ یہ صورت حال صرف متذکرہ بالا علاقوں میں ہی نہیں بلکہ وادی کے ہر علاقے میںپانی کے وسایل کے ذرائع کی ہےاور دن بہ دن ان کی حالت بد سے بد تر ہوتی جارہی ہے، جن کو بچانے کے لئے بے ضمیر لوگ توتیار ہی نہیں۔ اگر ایسا ہی سلسلہ برقرار رہا تو وہ دن اب زیادہ دورنہیںدکھائی دیادیتا جب یہ وسائل ایک ایک کرکے پوری طرح ختم ہوجائیں اور لوگوں کے لئے کسی بڑی مصیبت کا پیش خیمہ بن جائے۔ ہمیں ہر وقت یہ انتظار نہیں کرنا چاہیے کہ انتظامیہ یا اسکولوں، کالجوں، اور یونیورسٹی سے وابستہ?رضاکار طلبا ونگز کے جوان آکر ان وسائل کو صاف رکھیں گے بلکہ خود ہی ایک ذمہ دار شہری بن کر ان وسائل کو ختم ہونے سے قبل ہی بچانا چاہیے۔ اسی میں ہماری بھلائی ہے۔ہمیں چائیے کہ ہم کم سے کم اپنے علاقوں کے پانی کے وسائل کو صاف ستھرا رکھیں اور یہ پیغام ہر گھر، ہر علاقہ، ہر اسکول اور ہر ادارے تک پہنچائیںتاکہ یہ آبی وسائل تباہی سے بچ سکیں۔ ہمیں پانی کے وسائل کے بچاو کے لئے اسکولوں اور دیگر تعلیمی اداروں میں جانکاری کیمپوں کو بھی متحرک بنانے کی اشد ضرورت ہے۔
 
�����
 ترال کشمیر،موبائل نمبر؛9596276949