حاملہ خواتین کواحتیاط برتنے کی ’ڈاک‘ کی صلاح

23 مارچ 2020 (06 : 12 AM)   
(      )

نیوز ڈیسک
 سرینگر///کوروناوائرس کا اثر حاملہ خواتین میں کافی کم دیکھا گیا ہے جبکہ یہ وائرس متاثرہ خاتون کے بطن میں پل رہے بچے میں منتقل نہیں ہوسکتا اور ناہی بچے کو دودھ دینے سے بچے میں منتقل ہوسکتا ہے ۔ ڈاکٹر س ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ کوروناوائرس سے متاثرہ حاملہ خاتون میں بیماری کے آثار بہت جلد نمایاں نہیں ہوسکتے اور ناہی وائرس کی وجہ سے ہورہی بیماری نمایاں ہوگی ۔ ڈاکٹرس ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر نثارالحسن نے     ایک بیان میں کہا کہ کووڈ 19کا اثر حاملہ خواتین پر زیادہ نہیں ہوتا اور ناہی کوروناوائرس سے متاثرہ حاملہ خاتون میں مرض کے آثار آسانی سے نمایاں ہوسکتے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ جس طرح عام انسان کئی طرح کے امراض میں مبتلاء ہوتا ہے اور اس میں کئی طرح کی علامات نمودار ہوتی ہیں، اسی طرح ایک حاملہ خاتون میں یہ نشانیاں ظاہر نہیں ہوتی اور حاملہ خاتون میں وائرس سے لگنے والی بیماریاں کم پائی جاتی ہیں۔ ڈبلیو ایچ او کی جانب سے جاری کردہ ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے ڈاکٹر نثارالحسن نے کہا ہے کہ سروے میں دیکھا گیا ہے کہ 147حاملہ خواتین میں سے 64کے ٹیسٹ مثبت آئے ہیں جبکہ 82مشتبہ پائے گئے جن میں سے صرف 8میں وائرس سے پیدا ہونے والی بیماریاں دیکھی گئیں جبکہ محض 1%حاملہ خواتین کو صحیح بیمار پایا گیا جبکہ اب تک کسی بھی حاملہ خاتون کی اس وائرس سے موت کی رپورٹ نہیں ہے اور ناہی کوئی کیس اب تک سامنے آیا ہے جس میں حاملہ خاتون سے اس کے بچے میں یہ وائرس منتقل ہونے کی اطلاع ہو۔ ڈاکٹر نثارالحسن نے کہا کہ کسی حاملہ خاتون کے بطن میں پل رہے بچے پر یہ وائرس اثر نہیں کرتا اور ناہی جنم کے بعد دودھ کے ذریعے یہ وائرس بچے میں منتقل ہوسکتا ہے اور ناہی یہ وائرس خون کے ذریعے دوسرے میں منتقل ہوسکتا ہے۔ البتہ پہلے سے ہی واضح کی گئی باتوں سے ہی یہ وائرس دوسرے میں منتقل ہوسکتا ہے ۔ انہوںنے کہا کہ دوسرے لوگوں کی طرح ہی حاملہ خاتون کو بھی چاہئے کہ وہ اسی طرح احتیا طی تدابیر پر عمل کریں جس طرح دوسرے افراد کرتے ہیں۔ اس دوران انہوںنے ایسی خواتین جو اپنے بچوں کو دودھ پلاتی ہیں کو صلاح دی ہے کہ وہ صحت و صفائی کا خاص خیال رکھیں اور بیماری کے آثار ہوں تو بچے کو چھاتی سے دودھ پلانے کے بجائے بوتل میں دودھ نکال کر بچے کو پلائیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوںنے خواتین سے گزارش کی ہے کہ وہ ہسپتالوں میں ویٹنگ روموں میں بھیڑ جمع کرنے سے پرہیز کریںاور مجبوری کے وقت ہی ہسپتال کا رُخ کریں اورایک دوسرے سے فاصلہ بنائے رکھنے کی کوشش کریں ۔
 

تازہ ترین