قیدیوں اوراُن کے رشتہ داروں کے درمیان ملاقات فی الحال بند | جیلوں میں قیدیوں کو ماسک،سینیٹائزراوردیگر سہولیات بہم رکھنے کی ہدایت

کشمیری قیدیوں کو وادی واپس لانے کا فیصلہ مرکزی وزارت داخلہ کے دائرہ اختیار میں ہے :ڈی جی پی جیل خانہ

23 مارچ 2020 (06 : 12 AM)   
(      )

نیوز ڈیسک
سرینگر //ڈی جی پی جیل خانہ کا کہنا ہے کہ کورنا وائرس کے پیش نظر قیدیوں اور اُن کے اہل خانہ کے درمیان ملاقات کو فی الحال روک دیا گیا ہے جبکہ جیل میں جو قیدیوں کو لیکچر دیئے جا رہے تھے ،اُن پر بھی فی الحال پابندی عائد کی گئی ہے۔ انہوںنے کہاکہ جموںوکشمیر کی جیلوں میں تعینات اہلکاروں کو سکینرس جبکہ قیدیوں کو ماسک اور سینٹی ٹائزر ، آئسولیشن اور کورنٹائن کی سہولیات بھی دستیاب رکھی گئی ہیں۔یو پی آئی کے مطابق کورنا وائرس کی روکتھام کے پیش نظر جموںوکشمیر کی جیلوں میں مقید قیدیوں کو بھی سینٹی ٹائزر اور ماسک فراہم کئے گئے ہیں۔ ڈی جی جیل خانہ وی کے سنگھ نے بتایا کہ جموںوکشمیر کی جیلوں میں احتیاطی تدابیر پر من وعن عمل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ انہوںنے کہاکہ ہر کسی جیل میں کورنٹائن اور آئسولیشن وارڈ قائم کئے گئے تاکہ اگر کسی قیدی میں کورنا وائرس جیسی علامات ظاہر ہو ،اُس کو فوری طورپر آئیسولیشن میں رکھا جاسکے۔ انہوںنے کہاکہ جیلوں میں آنے والے نئے قیدیوں کی سکریننگ کی خاطر بھی اسٹاف کو درکار سامان مہیا کیا گیا ہے ۔ انہوںنے کہاکہ روزانہ کی بنیاد پر جیلوں میں مقید قیدیوں کے جسم کی درجہ حرارت کی جانچ کی جاتی ہے اور اگر کسی قیدی کا درجہ حرارت معمول سے زیادہ ہو، تو اُس کو فوری طورپر کورنٹائن میں رکھا جاتا ہے۔ انہوںنے کہاکہ قیدیوں کے ساتھ ساتھ جیلوں میں تعینات اہلکاروں پر بھی نظر گزر رکھی جارہی ہیں۔ انہوںنے کہاکہ نئے قیدیوں کو جیلوں میں لانے سے قبل اُن کی قواعد و ضوابط کے تحت طبی نگرانی کی جارہی ہیں ۔ انہوںنے کہا کہ جیل خانوں میں ڈاکٹرز اور نیم طبی عملہ بھی تعینات ہے جو ملازمین اور قیدیوں کی روزانہ بنیاد پر طبی جانچ کر رہے ہیں۔ ڈی جی جیل خانہ نے کہاکہ سبھی سپر انٹنڈنٹ جیل کو احکامات صادر کئے گئے ہیں کہ وہ قیدیوں پر خصوصی نظر گزر رکھیں اور اگر کسی میں بھی کورنا وائرس جیسی علامات ظاہر ہوتو اُس کو فوری طورپر آئسولیشن وارڈ میں منتقل کیا جائے ۔ انہوںنے کہاکہ جیل میں تعینات ملازمین اور قیدیوں کی خاطر ماسک اور سینٹی ٹائزر کی سہولیات دستیاب رکھی گئی ہیں۔ انہوںنے کہاکہ قیدیوں کو آگاہ کیا جارہا ہے کہ وہ اپنے ہاتھ سینٹی ٹائزر سے صاف رکھیں تاکہ کورنا وائرس کے پھیلاو کو روکاجاسکے۔ انہوںنے کہاکہ تھرمل سکینرز کے ذریعے قیدیوں کے جسم کا درجہ حرارت چیک کیا جارہا ہے۔ ڈی جی پی جیل خانہ جات کے مطابق فی الحال قیدیوں کے رشتہ داروں کو ملاقات کرنے کا جو سلسلہ جاری تھا اُس کو روکا گیا ہے۔ انہوںنے کہاکہ احتیاطی طورپر رشتہ دار اب قیدیوں کے ساتھ ملاقات نہیں کرسکتے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ قواعد و ضوابط کے تحت جیل خانوں میں قیدیوں کو ماہرین لیکچرر دیا کر تے تھے تاہم اُس پر بھی فی الحال پابندی عائد کی گئی ہے۔ ملک کی مختلف ریاستوں میں قید کشمیریوں کو واپس لانے کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں ڈی جی پی جیل خانہ نے بتایا کہ یہ مرکزی وزارت داخلہ کے دائرہ اختیار میں ہے۔ انہوںنے کہاکہ چونکہ ملک کی مختلف ریاستوں میں کورنا وائرس کے نئے نئے کیسز سامنے آرہے ہیں لہذا ا س صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے وہاں قید کشمیری قیدیوں کو کیسے واپس لایا جاسکتا ہے۔ انہوںنے کہاکہ تاہم مرکزی وزارت داخلہ ہی اس بارے میں کوئی فیصلہ لے سکتی ہے کہ آیا کشمیری قیدیوں کو وادی منتقل کیا جائے یا نہیں۔ 
 

تازہ ترین